Saturday, 30 June 2018

" اللہ آپ کو غریق رحمت فرمائے "


" اللہ آپ کو غریق رحمت فرمائے "
پنتالیس سال پہلے ، وہ سہارا اللہ نے اپنے پاس بلا لیا ۔ جس کی ڈھارس پہ مجھے زندگی کی منزلیں آسان لگتی تھیں ۔ ہر باپ اولاد کا ہیرو ہوتا ہے ۔ مگر مجھے فخر ہے کہ میرا عظیم باپ ایمانداری کی مثال تھی ۔ ایک بڑا افسر ، جس کے ماتحت بنگلوں کے مالک تھے ، ساری زندگی میں دو کمروں کا ٹوٹا ہوا گھر بنا سکا ۔ جسکی دیواریں پلستر سے محروم تھیں ، چھت ٹپکتی تھی ۔
مجھے فخر ہے کہ میں ایک غریب مگر ایماندار افسر کی اولاد ہوں ۔ جو بندوں سے نہیں ، صرف اللہ سے ڈرنے کا سبق دیتے رہے ۔ جو یہی سکھاتے رہے کہ اللہ کی عبادت فرض ہے تو اسکے بندوں کی خدمت بھی عبادت ہی ہے ۔ اسے کبھی فراموش نہ کرنا ۔ میرے کندھوں پہ ایک بوجھ آگیا ، جو میری ہمت سے کہیں زیادہ تھا ، مگر اس عظیم ہستی کے دئے ہوئے سبق اور حوصلہ میری رہنمائی کے لئے کافی رہا ۔
عمر بیت گئی ، اب اپنی زندگی بھی آخری ایام کی منزل پہ آگئی ، مگر آج بھی لگتا ہے ۔
کہ میں نے جو کچھ بھی حاصل کیا ، اسی رزق حلال کیوجہ سے ، جو مجھے کھلایا گیا ۔
سلام پیش کرتا ہوں ، اس عظیم ہستی کو ، اس دعا کے ساتھ ، اللہ میرے عظیم باپ کو اپنے جوار رحمت سے سرفراز فرمائے ۔ میرے وہ تمام عمل ، جن کو اللہ کے ہاں قبولیت ملی ، انکا اجر خیر میرے والد محترم کو عطا ہو ۔ آمین
ازاد ہاشمی

" غلام لوگ "


" غلام لوگ "
کہتے ہیں کہ غلام رکھنے کا دور انسانیت کی توہین کا بد ترین دور تھا ۔ غلام کے کوئی حقوق نہیں تھے ، وہ انسان ہونے کے باوجود جانوروں سے بد تر سلوک سہتا تھا ۔ آقا کی خوشی اسے کچھ استراحت دیتی تھی اور ناراضگی ایک عذاب کا پیغام ہوا کرتی تھی ۔
یہ دور کب شروع ہوا ، اسکی تاریخ تو کافی قدیم ہے ۔ مگر کب ختم ہوا ، اسکی تاریخ کسی کو یاد نہیں ۔ کیونکہ اسکا خاتمہ کبھی نہیں ہوا ۔ مہذب قومیں ، جو انسانی زندگی اور انسانی حقوق کا راگ الاپتی رہتی ہیں ، آج بھی غلام رکھے بیٹھی ہیں ، آج بھی غلاموں پر ویسے ہی مظالم روا رکھے جاتے ہیں ، جو زمانہ قدیم میں تھے ۔ انفرادی غلامی تو ایک فرد پر مشق ستم ہوا کرتی تھی ، آج پوری پوری قوم غلام ہے ۔ آج کی سپر طاقتیں آقا ہیں اور قومیں غلام ۔ جب بھی آقاوں کی ناراضگی ہوتی ہے پوری پوری قوم عتاب کا شکار ہو جاتی ہے ۔ ان غلام قوموں میں عموماً مسلمان ہیں ، جن پر آقاوں نے اپنے پالتو بٹھا رکھے ہیں ۔ اور وہ آقاوں کی رضا پر کچھ بھی کر جاتے ہیں ۔ تجزیہ کریں تو شک کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی کہ اسوقت تمام امت مسلمہ پر انہی آقاوں کے گماشتے حکمران ہیں ۔
ہم نے اللہ کی غلامی ، اللہ کے حبیب کی غلامی ، صالحین کی غلامی ، سے بھاگنے کی سعی کی ، اور اس اذیت میں گرفتار ہو گئے ۔ اگر ہم اسی غلامی میں رہتے تو آزاد ہوتے ، معتبر ہوتے ، با عزت ہوتے ، توقیر ہوتی ۔
مگر ہم نے ایسا نہ سوچا ، نہ سمجھا اور نہ اپنایا ۔ خود بھی غلام ، آنے والی نسلیں بھی غلام ۔ نہ سوچنے کی آزادی ، نہ مذہب کی آزادی ، نہ اپنی پسند کا نظام ، نہ اپنی پسند کی تعلیم ۔
ہم مسلمان ہیں غلام لوگ ۔ ہم سوچنے سمجھنے سے عاری لوگ ۔ خودی اور خودداری سے محروم لوگ ۔
ازاد ھاشمی

" یہ تیری اپنی توہین ہے "


" یہ تیری اپنی توہین ہے "
ایک شرمناک اشتہار دیکھ کر انتہائی دکھ بھی ہوا اور اندازہ بھی کہ ہم کس حد تک تعصب کا شکار ہو چکے ہیں ۔ پس منظر اسطرح سے ہے کہ بنوں کی میونسپل میں خاکروب کی اسامیاں خالی ہیں ، جن کیلئے تخصیص کے ساتھ ، شیعہ ، عیسائی اور ہندووں سے درخواستیں طلب کی گئی ہیں ۔
شیعہ پر کچھ کہنے سے پہلے ، ایک سوال ہے کہ جن اہلکاروں نے یہ اشتہار دیا ، انہیں کیا ضمانت مل گئی کہ وہ اللہ کا قرب حاصل کر چکے ہیں ۔ اسلام تو کسی بھی مذہب کے ماننے والے کی توہین کا درس نہیں دیتا ۔ اتنا متعصب شخص خود کو کس ترازو پر رکھے بیٹھا ہے ۔ اس بیہودہ اشتہار کے بعد عیسائی اور ہندو ، یہ کہنے میں حق بجانب ہو جاتے ہیں کہ مسلمان متشدد اور متعصب قوم ہے ۔ موصوف نے کونسی اسلام کی خدمت کر ڈالی ۔
اہل تشیع ، اور دیگر مسالک میں یہی فرق ہے نا ، کہ اہل تشیع، اہل بیت کو اولیت دیتے ہیں ، انکی محبت کے بغیر ایمان کو نا مکمل سمجھتے ہیں ، یہ ایمان رکھتے ہیں کہ اہل بیت سب مسلمانوں سے افضل ہیں ۔ یہ ایمان تو دیگر مسالک بھی رکھتے ہیں ، نماز کی تکمیل ممکن ہی نہیں اگر آل رسول پر کئی کئی بار درود نہ بھیج لیا جائے ۔ پھر یہ تعصب کیوں ۔ کونسی سند ہے ، جس بنا پر آپ نے اہل تشیع کو خاکروبوں کی صف میں لا کھڑا کیا ۔ ایمان پرکھنے کا ترازو صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے ، انسانوں کے ہاتھ میں نہیں ۔ کیا معلوم تیری نماز میں ریا ہو اور روز محشر تیری ، میری نمازیں منہ پہ مار دی جائیں اور یہ لوگ اہل بیت کی سرشاری پر نواز دئیے جائیں ۔ جنت کی ٹھیکے داری چھوڑو ۔ یہ اللہ کے اختیار میں ہے ۔ مذہب کو منافقت ، کینہ اور بد اخلاقی کی تصویر مت بناو ۔ یہ اہل تشیع کی توہین نہیں ، تیری اپنی توہین ہے ۔
ازاد ھاشمی

اللہ کی بے آواز لاٹھی "


 اللہ کی بے آواز لاٹھی "
کیا یہ ہمارے کرپٹ حکمران صرف آزاد خیال اور سیکولر ذہن رکھنے والوں کے ووٹوں سے اقتدار میں آتے ہیں ۔ نہیں ایسا ہر گز نہیں ۔ ہم سب کسی نہ کسی طرح اس جرم کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
ہم سب جانتے ہیں کہ جس طرز حکومت کو ہم نے پروان چڑھایا ہے ، اس کے ثمرات انتہائی گھناونے نکل رہے ہیں ۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اقتدار میں آنے کی خواہش کرنے والا ہر شخص حریص اور لالچی ہوتا ہے ۔ خدمت کا جذبہ الگ عمل ہے اور کرسی کی آرزو الگ عمل ۔
کس کو خبر نہیں کہ ہر سیاسی مداری کا کھیل کسی نہ کسی کرپشن پر ختم ہوتا ہے ۔ ہر دور میں مداری آتے رہے ، قوم کو نچاتے رہے اور قوم ناچتی رہی ۔ یہ ایک ہی عوام ہے جو کبھی بھٹو زندہ باد کہتی اور پھر بھٹو کی پھانسی پر مٹھائیاں بانئتی ہے ۔ یہ سارے سیاسی بہروپئے ،کبھی کسی کی گود میں اور کبھی کسی کی گود میں ۔ کون نہیں جانتا کہ اسکے علاقے کا ایم ۔ پی ۔اے ، ایم این اے ، ناظم یا چیئرمین مین کس قماش کا ہے ۔ کون واقف نہیں کہ ہمارے کتنے لیڈر ، شرابی ہیں ، کتنے زانی ہیں ، کتنے رسہ گیر ہیں ، کتنے نا اہل ہیں ، کتنے اخلاق باختہ ہیں ۔ سب جانتے ہیں ،کہ یہ تمام ہمارے خون سے اپنے چراغ جلاتے ہیں ، سب جانتے ہیں کہ انکی لمبی لمبی گاڑیوں میں ہمارا خون جلتا ہے ۔ مگر پھر انہی کو حاکم مان لیتے ہیں ۔ یہ سب مکافات عمل ہے ۔
ہم نے اللہ کا نظام چھوڑا ، اور یہود کا نظام آخری منزل مان لیا ۔ آج کتنے ہیں ، جو اس بات پر قایل ہیں کہ ہمارے پاس جمہوریت کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں ۔ وہ بھی شامل ہیں جو صحابہ کے نظام حکومت کو دنیا کا مثالی نظام کہتے ہیں ، مگر تقلید جمہوریت کی کرتے ہیں ۔ وہ بھی ہیں جو شہادت حسین کو دین بچانے کا عمل مانتے ہیں ، مگر ووٹ یزیدی خصلت والوں کو دیتے ہیں ۔ وہ بھی ہیں جو اپنے نام کے ساتھ اسلامی جوڑے بیٹھے اور آبیاری یہودی کے نظام کی کر رہے ہیں ۔
یہ سب اللہ کی وہ بے آواز لاٹھی ہے کہ اب سب اس بد دیانت قائدین سے جان چھڑانا چاہتے اور جان نہیں چھوٹ رہی ۔ اگر ہم نے اب بھی راہ نہ بدلی تو اگلے مراحل اور بھی جان لیوا ہونگے ۔
ازاد ھاشمی

" لاکھ میں سے دو سو ووٹ "


" لاکھ میں سے دو سو ووٹ "
یہ ہے وہ کارکردگی , جو جماعت اسلامی کا طرہ امتیاز بنی . جماعت کے لئے اس سے بڑا لمحہ فکریہ اور کیا ہو گا . مگر اس حزیمت سے اگر سیکھنے کی کوشش کی جائے اور جماعت کے اکابرین اپنی دانش کا رخ جمہوریت سے موڑ کر دیکھیں , تو کامیابی کا روشن مینار سامنے ہے . اس معرکے میں لاکھ میں سے تریپن ہزار لوگ جمہوریت سے منہ موڑے کھڑے نظر آتے ہیں . تاریخ عالم میں یہی خاموش لوگ انقلاب لایا کرتے ہیں . بھنگڑے ڈالنے والے , کرتب دکھانے والے , کڑکنے اور گرجنے والے اصل میں مروجہ نظام کا حصہ ہوتے ہیں . یہ تمام اقتدار کی حرص میں اندھے ہوتے ہیں . انکو نہ عوام سے دلچسپی ہوتی ہے نہ مسائل سے سروکار .
اب کوئی بھی اللہ کا بندہ , جرات کے ساتھ جمہوریت سے منہ موڑ کر میدان میں اترے گا تو اسکے ساتھ لاکھ میں سے دو سو لوگ نہیں , لاکھ میں سے اسی ہزار لوگ اسکی پشت پر ہونگے . لوگ اسلام کے نظام سے دلبرداشتہ نہیں . جمہوری اسلامی نظام کو قبول نہیں کرتے . مذہب سے فرار نہیں ہوا , لوگ ملا سے اکتا گئے ہیں . ملا کی دورخی سوال بن گئی ہے . اس قدغن میں سیاسی ملا کا بہت بڑا ہاتھ ہے .
سیکولر ازم کیلئے راہ ہموار کرنے میں جو کردار مذہبی سیاستدانوں نے کیا ہے , وہ جدت پسند نہیں کر سکتے تھے . لہو لعب سے دلچسپی رکھنے والے سیکولرز کو کامیابی کی سیڑھی اور کھلا میدان ان سیاسی جبہ کیشوں نے دیا ہے .
ازاد ھاشمی