Friday, 29 June 2018

مایوسی مت پھیلائیں

" مایوسی مت پھیلائیں "
ایک ذی شعور ، تعلیم یافتہ اور سوجھ بوجھ والے دوست نے ایک گروپ میں پاکستان کی موجودہ صورت حال پر حقائق لکھے ہیں ۔ ایک لمبی فہرست کے ساتھ مسائل کا تجزیہ کرتے ہوئے ، یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہم کسی بڑے بحران کا شکار ہونے جارہے ہیں ۔ قرضوں کا بوجھ اور امریکہ کی خواہش کہ اسی سال پاکستان کو سینڈ وچ بنا دیا جائگا ۔ تحریر پڑھ لینے کے بعد ، پاکستان کے وجود پر فاتحہ پڑھے بغیر گذارہ نہیں ۔ موصوف  نے اپنے دوسرے دوستوں کو گذارش بھی کی ہے کہ اس تحریر کو ہر فورم پر شئیر کیا جائے ۔
عرض کرنا چاہوں گا کہ کسی قوم کو شکست اسوقت ہوتی ہے ، جب شکست کا خوف اعصاب پر سوار کر دیا جائے ۔ اور دشمن ہمیشہ یہی کرتا ہے ۔ یہ خوف اخبارات کے ذریعے مسلط نہیں کیا جاتا ۔ دشمن اپنی لابی تیار کرتا ہے جو یہ کام بہت مہارت سے کرتے ہیں ۔ میں اس محترم دوست پر الزام نہیں لگا رہا کہ وہ اسی لابی کا حصہ ہونگے ۔ نہ ہی مجھے بد ظنی کا اختیار ہے ۔ مگر موصوف نے حقائق کو آگے بیان کرنے سے پہلے نہیں سوچا کہ وہ جو کام کرنے جا رہے ہیں ، حب الوطنی نہیں ۔ وطن دشمنی کا ایک انداز ہے ۔ شاید انہیں بھی یہ تجزیہ کہیں سے ملا ہوگا اور انہوں نے وطن کی خدمت سمجھ کر آگے بڑھا دیا ہے ، یوں یہ بے بنیاد حقیقت ہر کسی زبان پر ہوگی ۔ قوم اگاہ رہے کہ یہ قرضہ ایک چھوٹی سی پہاڑی کھود کر ادا ہو سکتا ہے ۔ اور ایسی ہی دوسری پہاڑی کھود لینے سے ہمیں کسی مالی امداد کی ضرورت نہیں اور ہمارے پاس ایسی کثیر تعداد میں پہاڑیاں ہیں ۔ الحمدو للہ ۔   پاکستان کے یہ اثاثے ، ابھی تک محفوظ کیوں رکھے  اور استعمال کیوں نہیں ہوئے؟  اسکی دو بڑی وجوہ تھیں ، جس میں سے ایک بلی کو دودھ کی رکھوالی پر رکھنا دانشمندی نہیں تھی ۔ دوسری روس اور امریکہ کا راستہ تکنیکی طور پر روکنا مقصود تھا ۔ پانی کا بحران بھی قابو میں آ جائے گا ، اگر کالا باغ ڈیم نہ بھی بنا تو بیشمار ذخائر کر لئے جائیں گے ۔ انشاء اللہ اگلے دس سال میں ، یہ سارا بحران از خود حل ہو جائے گا ۔
قوم کو سیاسی گماشتوں سے پوری اگاہی کا جو تماشا جاری ہے ، یہ اسلئے کہ قوم اچھی طرح اپنی قیادت کو سمجھنے کے قابل ہو جائے ۔ اور قوم کو یہ پہچان ہو جائے کہ انکے مفاد میں کیا بہتر ہے ۔ اس ہیجان کی کیفیت میں نصف کام اس انتخاب پہ ہو جائے گا اور نصف اگلے انتخاب میں ۔ غداری کا ، ملک دشمنی کا اور مفادات پر دوسرے ممالک کہ آلہ کاری کا سارا غبار چھٹ جائے گا ۔
اصل ضرورت یہ ہے کہ قوم کا ہر فرد اپنی قومی ذمہ داری کو پورے خلوص سے قبول کرے اور پورا کرے ۔
آخر میں ایک سوال کہ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ہمارے پاس کئی سو سال کی ضروریات پوری کرنے کے ذخائر موجود ہیں ۔
خامی کہاں ہے ؟ ہم قومی جذبے سے محروم ہیں ۔ تھوڑی سی کھچائی کے بعد یہ جذبہ بھی آ جائیگا ۔ انشاءاللہ
آزاد ھاشمی
٢٨ جون ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment