" سورہ ماعون "
جب بھی قرآن کی کسی آیت ، کسی سورت ، کسی حکم پر غور و فکر کیا جاتا ہے ۔ ہدایت کے کئی در کھلتے ہیں ۔ پتہ نہیں ہمیں قرآن سے دوری کیوں رہی ۔ سورہ ماعون کو فکر کے ساتھ پڑھا جائے تو معاشرت کا ایک نہایت خوبصورت راستہ نظر آئے گا ۔ اللہ فرماتا ہے کہ
“ کیا تو نے اس شخص کو نہیں دیکھا ، جو روز جزا کو جھٹلاتا ہے۔ "
یہ ایک شخص کیطرف اشارہ تو ہے مگر یہ کردار تو ہمارے معاشرے کا عمومی حصہ ہے ۔ جھٹلانا صرف یہی نہیں کہ اس حقیقت سے انکار کر دیا جائے کہ روز جزا و سزا ہوگا ۔ جھٹلانا یہ بھی ہے کہ ہم روز جزا و سزا کو اہمیت ہی نہ دیں ۔ بے لگام ہو کر چلتے رہیں ۔ یہ ایک معاشرتی برائی کا ذکر ہے ۔ جو اب ہمارے معاشرے کا حصہ بن گئی ہے ۔ پھر اللہ سبحانہ تعالی فرماتا ہے ۔
" یہی وہ ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے ، اور محتاج کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا "
یتیم اور محتاج کی ضرویات سے پہلو تہی کرنا ، انکے حقوق جو ہمارے معاشرے پر واجب ہیں ، انکا نہ خود خیال کرنا اور نہ دوسروں کو اس طرف متوجہ کرنا ، اس کار لازم کی طرف رغبت نہ دلانا ، اللہ سبحانہ تعالی کے ہاں ناپسندیدہ شخص کے اعمال ہیں ۔ احتساب کریں کہ ہم میں سے کتنے ہیں جو اس حکم کو پورا کرتے ہیں , تصور کریں کہ اگر اس حکم کی کماحقہ اطاعت کی جائے تو معاشرہ کا حسن کیا ہوگا ۔
پھر اللہ پاک فرماتا ہے ۔
" پس افسوس (اور خرابی) ہے ایسے نمازیوں کے لیے۔ جو اپنی نماز (کی روح) سے بے خبر ہیں"
ہم سب اپنی عبادات کی اصل روح سے بے خبر ہیں ۔ حقوق اللہ کی ادائیگی تک ان عبادات کو محدود کر دینا ، اور حقوق العباد کو فراموش کر دینا ، اللہ کے ہاں پسندیدہ عمل
ہیں اللہ پاک ایسی عبادات کو دکھاوا اور عیاری قرار فرماتا ہے کہ
" وہ لوگ (عبادت میں) دکھاوا کرتے ہیں۔"
جو اس حد تک معاشرتی ذمہ داریوں سے غافل ہیں کہ
" اور برتنے کی معمولی چیز بھی مانگے نہیں دیتے"
اسلام کی تعلیم ہے کہ آپ ایمان کے کامل مقام تک پہنچ ہی نہیں سکتے ، اگر آپ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کو اللہ کے حکم کے مطابق خرچ نہیں کرتے ۔ اللہ کا حکم ہے کہ آپ معاشرے کے ہر ضرورت مند کی حاجات کو اسطرح سے پورا کریں کہ دوسرے انسان کی عزت نفس بھی مجروح نہ ہو ۔ دکھاوے اور ریا سے بالکل اجتناب کریں ۔ یہ ذمہ داری احسان سمجھ کر پوری نہ کی جائے بلکہ فرض سمجھا جائے ، تو معاشرہ ایک خوبصورت ماحول اختیار کر جاتا ہے ۔
آزاد ھاشمی
Wednesday, 27 June 2018
سورہ ماعون
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment