Saturday, 30 June 2018

" لاکھ میں سے دو سو ووٹ "


" لاکھ میں سے دو سو ووٹ "
یہ ہے وہ کارکردگی , جو جماعت اسلامی کا طرہ امتیاز بنی . جماعت کے لئے اس سے بڑا لمحہ فکریہ اور کیا ہو گا . مگر اس حزیمت سے اگر سیکھنے کی کوشش کی جائے اور جماعت کے اکابرین اپنی دانش کا رخ جمہوریت سے موڑ کر دیکھیں , تو کامیابی کا روشن مینار سامنے ہے . اس معرکے میں لاکھ میں سے تریپن ہزار لوگ جمہوریت سے منہ موڑے کھڑے نظر آتے ہیں . تاریخ عالم میں یہی خاموش لوگ انقلاب لایا کرتے ہیں . بھنگڑے ڈالنے والے , کرتب دکھانے والے , کڑکنے اور گرجنے والے اصل میں مروجہ نظام کا حصہ ہوتے ہیں . یہ تمام اقتدار کی حرص میں اندھے ہوتے ہیں . انکو نہ عوام سے دلچسپی ہوتی ہے نہ مسائل سے سروکار .
اب کوئی بھی اللہ کا بندہ , جرات کے ساتھ جمہوریت سے منہ موڑ کر میدان میں اترے گا تو اسکے ساتھ لاکھ میں سے دو سو لوگ نہیں , لاکھ میں سے اسی ہزار لوگ اسکی پشت پر ہونگے . لوگ اسلام کے نظام سے دلبرداشتہ نہیں . جمہوری اسلامی نظام کو قبول نہیں کرتے . مذہب سے فرار نہیں ہوا , لوگ ملا سے اکتا گئے ہیں . ملا کی دورخی سوال بن گئی ہے . اس قدغن میں سیاسی ملا کا بہت بڑا ہاتھ ہے .
سیکولر ازم کیلئے راہ ہموار کرنے میں جو کردار مذہبی سیاستدانوں نے کیا ہے , وہ جدت پسند نہیں کر سکتے تھے . لہو لعب سے دلچسپی رکھنے والے سیکولرز کو کامیابی کی سیڑھی اور کھلا میدان ان سیاسی جبہ کیشوں نے دیا ہے .
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment