" تا حیات وزیراعظم ہوں "
سڑک کے کنارے بیٹھا ، عمر رسیدہ شخص ، اپنے شکن زدہ لباس کے باوجود ، کوئی با شعور اور پڑھا لکھا نظر آ رہا تھا ۔ کسی صدمے یا کسی نفسیاتی الجھن کا یہ مریض ، کوئی کہانی تھی ۔
سامنے بے ترتیب سے چھوٹے بڑے پتھر ، لکڑی کے ٹکڑے اور چند ٹھیکریاں رکھے بیٹھا تھا ۔ کبھی ایک پتھر کو اٹھاتا ، کبھی دوسرے کو اور مسلسل ترتیب بدل رہا تھا ۔ ایک ایک کرکے بہت سے لڑکے اسکے گرد جمع ہو گئے ۔ کبھی پنجابی بولتا ، کبھی پشتو اور کبھی سندھی میں بات کرتا ۔ وہ اپنی لگن میں گم تھا اور بے خبر تھا کہ اسکے اردگرد کتنے لوگ جمع ہیں ۔
" بزرگو ! کیا ہو رہا ہے " ایک نوجوان نے پوچھا ۔
" دیکھ نہیں رہے ہو ، اندھے ہو ۔ کابینہ میں ردوبدل کرنا پڑتا ہے ۔ حکومتیں ایسے نہیں چلتیں ۔ نظر رکھنی پڑتی ہے یہ وزیر اور بیوروکریٹ بہت سازشی ہوتے ہیں ۔ انکو انکی اوقات میں رکھ رہا ہوں "
سنتے ہی سب نے ہنسنا شروع کردیا ۔ متفقہ رائے تھی کہ کوئی ناکام سیاستدان ہے ۔ اپنے خوابوں کی تلاش میں ، خود گم ہو گیا ہے ۔
" یہ تو ٹھیک ہے ۔ مگر آپ کون ہیں "
دوسرا سوال تھا
" وزیراعظم ہوں ۔ مجھے نہیں جانتے ہو ۔ وزیراعظم ہوں اس ملک کا جس میں تم رہتے ہو ۔ تا حیات وزیراعظم ہوں ۔ کوئی مائی کا لال مجھے ہٹا نہیں سکتا ۔ یہ وزیر اور بیورو کریسی میرے خلاف سازشیں کرتی رہتی ہے ۔ اسی لئے انکی اٹک پھٹک کرتا رہتا ہوں ۔ "
بابے نے دو تین پتھروں کو اٹھا کر پیچھے پھینک دیا اور دو تین پیچھے سے اٹھا کر قریب کر لئے ۔
" یہ حکومت چلانا بہت مشکل ہے ۔ نہ رات کو نیند آتی ہے اور نہ دن کو چین ملتا ہے ۔ روٹی کھانے کا وقت نہیں ملتا ۔ "
بابا جی نے چند ٹھیکریاں اٹھائیں اور ادھر ادھر دیکھتے ہوئے ساتھ پڑی گدڑی میں چھپا دیں ۔
" یہ کیا جناب " ایک لڑکے نے پوچھا
" تو کیا میں قوم کی خدمت مفت میں کروں ۔ اپنی نسلوں کا خیال نہ کروں ؟ برے وقتوں کیلئے کچھ بچا کے رکھنا عقلمندی ہے ۔ "
بابا واقعی وزیراعظم تھا ۔ فطرت میں بھری ہوس نے اس سے عقل و شعور چھین لیا تھا ۔ وہ سب کچھ کھو کر بھی وزیراعظم بنا بیٹھا تھا ۔ وہ خواب جو کبھی پورا نہیں ہونے والا ہو ، ایسا خواب پاگل ہی بناتا ہے ۔ اب ٹھیکریاں اسکے برے وقتوں کی ساتھی تھیں ۔ ڈھارس تھی جو ابھی سانس برقرار رکھے بیٹھی تھی ۔ وگرنہ وہ کونسا زندہ تھا ۔ جس کا شعور ہی مر جائے وہ کب زندہ ہوتا ہے
آزاد ھاشمی
٢٩ جون ٢٠١٨
Saturday, 30 June 2018
تا حیات وزیراعظم ہوں
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment