Friday, 29 June 2018

حجر اسود کو بوسہ

" حجر اسود کا بوسہ "
ایک سیاسی دیوانہ سوال کرتا ہے کہ
"لوگ ہجر اسود کو بھی بوسہ دیتے ہیں  بوسہ دینا اگر جائز نہیں تو اس پر اسلام کے ٹھیکے داروں نے آج تک فتوے کیوں نہیں لگائے ؟"
اب یہ بھی سوال اٹھے گا کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو کیوں حکم دیا کہ آدمؑ کو سجدہ کرو ۔
ایک پڑھے لکھے جاہل پوچھتے ہیں کہ یوسفؑ کو بھائیوں نے کیوں سجدہ کیا ۔
یہ سارے سوال محض اسلئے اٹھا لئے گئے ہیں کہ عمران کو بریت مل جائے ۔
حجر اسود کے بوسے پر سوال اٹھانے والے بد بخت کو کون سمجھائے کہ حجر اسود کا مقام کیا ہے ؟ اور اسکو بوسہ دینا کیوں لازم ہے ۔
اس پتھر کا مقام اور کسی ولی کی دہلیز کے پتھر کا مقام ایک سا نہیں ہے ۔ حجر اسود کعبہ کی دیوار کی زینت ہے اور اسے اللہ کے حبیبؐ کے مبارک لبوں کا لمس نصیب ہوا ہے ۔ جہان سے طواف شروع ہوتا ہے وہاں پر نصب پتھر اور کسی ولی کی راہداری کا قدموں تلے آنے والا پتھر ایک سا کیسے ہو گیا ۔ رہا سوال یوسفؑ کے بھائیوں کا سجدہ تو یہ وہ وقت تھا جب فرعون کو سجدہ کرنا لازم تھا ۔ فرعون خود کو خدا کہلاتا تھا ۔ دوم اسلام کی حدود سے پہلے کیا ہوتا تھا یا کیا ہوا ،
ہماری اس پر گرفت نہیں ہے اور نہ اسکے جواب کی ذمہ داری ۔  جب اسلام نے حد لگا دی تو اطاعت لازم ہے ، کسیتوجیہہ کی ضرورت باقی نہیں رہتی ۔ عمران خان مذہب سے نا واقف ہے ، اس نے یہ عمل لا علمی میں کیا ،
اسے کہنا چاہئیے تھا کہ مجھے علم نہیں تھا ، میں اپنے فعل پر تائب ہوں ۔ بات ختم ہو جاتی ۔ اسکو عقیدت کی دلیل بنانا دوسری حماقت ہے  ۔ عمران کے پجاریوں نے حد کر دی اور باقاعدہ مناظرہ کرنے بیٹھ گئے ۔ مذہب حساس مسئلہ ہے اس پر سیاسی سوچ غالب نہیں آنی چاہئیے تھی ۔بد بخت سیاسی لیڈر کا پجاری یہ نہ کہہ بیٹھے کہ اس دہلیز کے پتھر کو عمران خان نے چوم لیا ہے ، اسلئیے اسکا مقام اور بھی بلند ہو گیا ۔
سیاست نے ہم سے اتحاد اور یگانگت چھین لی تھی ۔ گھر گھر میں کئی کئی نظریات پیدا ہو گئے تھے ۔ اب ایمان بھی داو پہ لگ گیا ۔ شرک کو عجیب عجیب انداز سے چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ علماء کا اجماع ہے کہ جس انداز سے بوسہ دیا گیا ہے ، وہ بھی ناجائز ہے ۔ اگر سجدہ نہ بھی سمجھا جائے ، مان لیا جائے کہ بوسہ ہی دیا ہے تو کوئی فقہ ، کوئی شریعت اور کوئی سند اسے جائز قرار نہیں دیتی ۔ افسوس اس بات پر ہے کہ کچھ " حب عمران " کے مریض یہ کہہ رہے ہیں کہ عمران کے عقیدے سے کیا لینا دینا ، اسوقت مافیا سے جان چھڑانے کا واحد حل ہی عمران خان ہے ۔ بھلے وہ کچھ کرتا پھرے ۔
اچھی طرح سمجھ لیں کہ اللہ کو ناراض کر کے کبھی کامیابی نصیب نہیں ہوگی ۔
بوسے کی حمایت کرنے والوں سے سوال ہے کہ مسجد نبوی کی دہلیز سے زیادہ  کوئی با برکت دہلیز ہے ؟ بالکل نہیں ۔ پھر اسکے فرش پہ لگے پتھروں کو بوسہ کیوں نہیں دیتے ؟ کعبہ میں کتنے پتھر لگے ہیں ، حجر اسود کے سوا کتنے پتھروں کو چوما جاتا ہے ؟
اولیاء کا مقام اپنی جگہ ، مگر اللہ کی حدود اپنی جگہ ۔
آزاد ھاشمی
٢٨ جون ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment