Wednesday, 27 June 2018

ربنا لا تواخذنا ۔۔۔

" ربنا لا تواخذنا ۔۔۔ "
" اے ہمارے رب ، ہماری غلطیوں اور خطاوں کی پکڑ نہ کرنا ۔ "
اگر ہم اپنی اجتماعی اور انفرادی سرکشی ، ارادی اور غیر ارادی ، علم یا کم علمی کے ساتھ کی گئی لغزشوں کا شمار کرنے لگیں تو بیشمار ایسی خطائیں ہیں ، جن پر پکڑ ہونا لازم نظر آتا ہے ۔ ہم اللہ کو رحیم و کریم مانتے ہوئے دعا گو ہوتے ہیں کہ اے اللہ ہماری ان قابل گرفت خطاوں پر ہماری پکڑ نہ کرنا ۔
" اور ہم پر وہ بوجھ نہ ڈالنا ، جو ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا "
ہم سے پہلے لوگوں کو اللہ نے مال و زر ، طاقت اور اقتدار ، خوشحالی کے امتحانوں میں ڈال دیا ، وہ اس امتحان کو اپنا حق سمجھ کر سر کش ہو گئے ، ظالم ہو گئے ، خائن ہو کر ناپ تول میں ڈنڈی مارنے لگے ، پیدا کرنے والے کو بھول کر اترانے لگے ۔ یہ وہ بوجھ تھا ، جس سبب ان پر اللہ کے عتاب نازل ہوئے ۔  ہم دعا کرتے ہیں ، آرزو کرتے ہیں کہ
" اے ہمارے رب ! ہم پر کوئی ایسا بوجھ مت ڈالنا ، جو ہماری سکت ، ہماری برداشت اور ہماری طاقت سے زیادہ ہے "
اللہ کے امتحان اور آزمائش ، جس رنگ میں بھی انسانی سکت پر بھاری ہوتی ہے ۔ جب کسی قوم پر آزمائش کا بوجھ بڑھنے لگتا ہے ، تو اللہ کی ناراضگی بھی ہو سکتی ہے ۔ اللہ سبحانہ تعالی کا امتحان بڑے صبر اور ایمان کی پختگی کے بغیر کبھی پورا نہیں کیا جا سکتا ۔ نا معلوم انسانی ہمت اور برداشت کب جواب دے جائے ، اسلئے اللہ سے عفو اور رحم ہی مانگنے میں عافیت ہے ۔
یہی کہنا بہتر ہے ۔
" اے اللہ ! ہمیں معاف فرما دے ، ہماری خطائیں اور لغزشیں بخش دے ، ہم پر رحم فرما دے ۔ تو ہی ہمارا مالک ہے ، آقا ہے ، حاکم ہے ۔ ہمیں کفار پر نصرت فرما "
اللہ سبحانہ تعالی کی محبت کا کتنا خوب صورت انداز ہے ، کہ اپنی عطاوں تک پہنچنے کا راستہ بھی خود ہی فرما دیتا ہے ۔ ہم کتنے بد بخت ہیں کہ اس کتاب کے قریب جانے سے کتراتے ہیں ، جو ہماری رہنمائی کے ہر ہر زاوئیے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہے ۔
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment