Tuesday, 26 June 2018

خیبر کے زخم اور علیؑ

" خیبر کے زخم اور علیؑ "
یہودی ایک ایسی قوم ، جس کو اللہ نے بیشمار نعمتیں عطا کیں ۔ کتنی ہی مشکلات سے نجات بخشی ۔ بیشمار سر کشی پر درگذر فرمایا ۔ انکی فطرت کی عناد پرستی ، موقع پرستی اور خودپرستی ہمیشہ قائم رہی ۔ حجت بازی انکے کردار کا حصہ تھی اور آج بھی ہے ۔ کینہ اور بغض انکے شعور کا اہم حصہ رہا ہے اور آج تک قائم و دائم ہے ۔ عیسائیت ہو یا اسلام یا کوئی بھی دوسرا مذہب ، یہودی اسکی مخالفت کو ایمان سمجھتے ہیں ۔ مسلمانوں سے عناد انکا طرہ امتیاز ہے ۔ نبی اکرمؐ کے خلاف یہودی قبیلے اپنی شر انگیزی میں ایڑھی چوٹی کا زور لگاتے رہے ۔ سازشیں کرتے رہے حتی کہ آپؐ کے مخالفین کی ہر مدد بھی کرتے رہے ۔ کہ جنگ خیبر کا وقت آگیا ۔ یہ وہ زعم تھا ، جس کا ٹوٹ جانا ، اسلام کیلئے بہت اہم تھا ۔ یہودی کو یقین تھا کہ مسلمان ابھی اس قابل نہیں کہ اس مضبوط مدافعت کو عبور کر سکیں ۔ اس کی جنگی حکمت عملی  طور پر اللہ کے حبیبؐ خود فرما رہے تھے ۔ اس نا ممکن کو ممکن کرنے کیلئے آخری اور حتمی انتخاب حضرت علی کرم اللہ وجہہ تھے ۔ یہود کو حزیمت اٹھانا پڑی اور مسلمان فتح مند ہوئے ۔ یہ وہ زخم تھا ، جس کی ٹیس آج تک زندہ ہے ۔ جس سے آج تک خون رس رہا ہے ۔ یہ وہ شکست تھی ، جس کا بدلہ لینے کیلئے ، یہود نے علیؑ کی اولاد کا انتخاب کیا ۔ اب یہود کو یقین تھا کہ جب تک علیؑ کی نسل رہے گی ، یہود شکست خوردہ ہی رہیں گے ۔ پھر علیؑ سے دشمنی ، علیؑ کے بچوں سے دشمنی ، علیؑ کی پردہ دار بیٹیوں سے دشمنی ۔ اب یہودی ان سازشوں کے پیچھے تھے ۔ اسلام پر یہ کاری وار کامیاب ہوتا گیا ۔ اسلام کے ماننے والے گروہ در گروہ ہوتے گئے کیونکہ مرکزیت توڑ دی گئی تھی ۔ نظام  اسلام اور دستور اسلام کی جگہ ملوکیت نے لے لی ۔ جنگ خیبر کے بعد جتنا حساب علیؑ کی اولاد کو چکانا پڑا ، اتنا کسی بھی دوسرے کو دکھ نہیں پہنچا ۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ یہودی بہت حد تک کامیابی حاصل کرتا رہا اور اسے مسلمان کے لباس میں ملبوس شعور سے عاری لوگ کامیاب کرتے رہے ۔
آج یہودی بینر اٹھائے ، اپنی ہر فتح کا جشن مناتے ہوئے کہتے ہیں ۔
" مسلمانوں خیبر تمہاری آخری فتح تھی "
وہ اسلئے کہ وہ جانتے ہیں کہ انہوں  نے علیؑ کا کردار ہماری زندگیوں سے نکال پھینکا ہے ۔ اب ہم میدان کے مجاہد نہیں ، محراب کے مکین بن گئے ہیں ۔ اب ہم اصل دشمن کی پہچان کھو بیٹھے ہیں ، آپس میں عداوتیں پروان چڑھا رہے ہیں ۔ اگر پھر سے علیؑ کا جذبہ پیدا ہو گیا تو پھر سے خیبر سج جائیگا ۔
آزاد ھاشمی
٢٥ جون ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment