Saturday, 30 June 2018

" یہ تیری اپنی توہین ہے "


" یہ تیری اپنی توہین ہے "
ایک شرمناک اشتہار دیکھ کر انتہائی دکھ بھی ہوا اور اندازہ بھی کہ ہم کس حد تک تعصب کا شکار ہو چکے ہیں ۔ پس منظر اسطرح سے ہے کہ بنوں کی میونسپل میں خاکروب کی اسامیاں خالی ہیں ، جن کیلئے تخصیص کے ساتھ ، شیعہ ، عیسائی اور ہندووں سے درخواستیں طلب کی گئی ہیں ۔
شیعہ پر کچھ کہنے سے پہلے ، ایک سوال ہے کہ جن اہلکاروں نے یہ اشتہار دیا ، انہیں کیا ضمانت مل گئی کہ وہ اللہ کا قرب حاصل کر چکے ہیں ۔ اسلام تو کسی بھی مذہب کے ماننے والے کی توہین کا درس نہیں دیتا ۔ اتنا متعصب شخص خود کو کس ترازو پر رکھے بیٹھا ہے ۔ اس بیہودہ اشتہار کے بعد عیسائی اور ہندو ، یہ کہنے میں حق بجانب ہو جاتے ہیں کہ مسلمان متشدد اور متعصب قوم ہے ۔ موصوف نے کونسی اسلام کی خدمت کر ڈالی ۔
اہل تشیع ، اور دیگر مسالک میں یہی فرق ہے نا ، کہ اہل تشیع، اہل بیت کو اولیت دیتے ہیں ، انکی محبت کے بغیر ایمان کو نا مکمل سمجھتے ہیں ، یہ ایمان رکھتے ہیں کہ اہل بیت سب مسلمانوں سے افضل ہیں ۔ یہ ایمان تو دیگر مسالک بھی رکھتے ہیں ، نماز کی تکمیل ممکن ہی نہیں اگر آل رسول پر کئی کئی بار درود نہ بھیج لیا جائے ۔ پھر یہ تعصب کیوں ۔ کونسی سند ہے ، جس بنا پر آپ نے اہل تشیع کو خاکروبوں کی صف میں لا کھڑا کیا ۔ ایمان پرکھنے کا ترازو صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے ، انسانوں کے ہاتھ میں نہیں ۔ کیا معلوم تیری نماز میں ریا ہو اور روز محشر تیری ، میری نمازیں منہ پہ مار دی جائیں اور یہ لوگ اہل بیت کی سرشاری پر نواز دئیے جائیں ۔ جنت کی ٹھیکے داری چھوڑو ۔ یہ اللہ کے اختیار میں ہے ۔ مذہب کو منافقت ، کینہ اور بد اخلاقی کی تصویر مت بناو ۔ یہ اہل تشیع کی توہین نہیں ، تیری اپنی توہین ہے ۔
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment