" انعامات ربی اور شکر "
مسجد کے ایک کونے میں بیٹھا ، اللہ کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھائے سسکیوں سے روئے جا رہا تھا ۔ وہ اس محلے میں کئی سال سے موسمی پھل بیچ رہا تھا ۔ اپنے کام میں مگن رہنا اسکا معمول تھا ۔ گم سم سی طبیعت ، سکوت اور ٹھہراو والی عادت سے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا چکا تھا ۔ بچے بوڑھے سب اسکے دوست تھے ۔
اسے اسقدر گڑگڑاتا دیکھ کر میں اسکے قریب ہو گیا ۔ وہ چند جملے بار بار دھرا رہا تھا ۔
" اے میرے پیارے اللہ ۔ مجھے معاف کر دے ۔ میں تیری بے شمار نعمتوں کا شکر نہیں کر پاتا ۔ میری اس خطا کو معاف کر دینا ۔ دنیا کے دھندھوں میں لگ جاتا ہوں اور تیری ذات کو بھول جاتا ہوں "
میں حیران بھی تھا اور پشیمان بھی ۔ اتنی سی بات پہ اتنی گریہ زاری ۔ کیا ہے اس بیچارے کے پاس ۔ پھل بیچتا ہے ، کبھی بک جاتے ہیں کبھی سڑ جاتے ہیں ۔ ایک چھوٹی سی کٹیا میں ٹوٹی ہوئی کھاٹ ۔ نہ پنکھا نہ فرج ۔ پھر بھی یہ کس نعمت کے شکر نہ کرنے پہ پشیمان ہے ۔ اس نے جیسے ہی دعا ختم کی ۔ مجھے دیکھا اور مسکرایا ۔
" اپنے اللہ کو راضی کر رہا تھا " وہ ایسے بول رہا تھا جیسے میں نے اسے اپنی چغلی کرتے پکڑ لیا ہو ۔ میں اپنی ہنسی روکنے کا جتن کر رہا تھا ۔
" محترم کس نعمت کا ذکر کر رہے تھے آپ اللہ پاک سے "
" بیٹا ! اللہ کی نعمتوں کا شمار پوچھ رہے ہو ۔ میں رات کو سویا تھا اور صبح پھر اٹھ گیا ۔ کیا یہ کم نعمت ہے ۔ سانس چل رہی ہے ، قدموں پر کھڑا ہوں ، پینے کو ملتا ہے ، جینے کو ملتا ہے ۔ کیا یہ نعمت نہیں ۔ بول سکتا ہوں ، سن سکتا ہوں ، دیکھ سکتا ہوں ، کیا یہ نعمتیں نہیں ۔ بیٹا غور تو کرو کہ اللہ نے انسان کو کس کس نعمت سے نواز رکھا ہے ۔ دولت ، گھر ، کار تو نعمتیں نہیں ، یہ تو انسان کے امتحان کے سامان ہیں ۔ اللہ دیتا ہے اور دیکھتا ہے کہ انسان اسے یاد بھی رکھتا ہے کہ نہیں ۔ یہ تو آزمائش ہے بیٹا "
بابا کی بات مجھے ندامت کی طرف دھکیل رہی تھی ۔ میں اپنی سوچ کو حماقت سمجھ رہا تھا ۔ میرے ہنسنے کی حس ختم ہو گئی اور فکر ہو گئی کہ میں کہاں کھڑا ہوں ۔ کبھی غور ہی نہیں کیا کہ نعمتیں کیا ہیں اور آزمائشیں کیا ۔
آنسووں سے بھیگی ہوئی داڑھی ، بھی ایک نعمت تھی ، جس میں اللہ کی رضا کا پانی تھا ۔ وہ مسکراتا ہوا چل دیا اور میں روتا ہوا کھڑا رہ گیا ۔
ازاد ہاشمی
Saturday, 19 May 2018
انعامات ربی آور شکر
Friday, 18 May 2018
چیخو ، جتنا چیخ سکو
" چیخو ، جتنا چیخ سکو "
قوم کے سامنے ہر روز ایک نیا امتحان کھڑا ہے ۔ سارے جتن بے سود ہو گئے ہیں اور سارے جتن بے سود ہو جائیں گے ۔ ساری تدبیریں ناکام رہیں گی ۔ کچھ حاصل نہیں ہو گا ۔
جو راستہ ہم نے چن رکھا ہے ، اسکی منزل اندھیرا کنواں ہے ۔ ہم نے اگر راستہ نہ بدلا تو اس کنویں میں گرنا مقدر ہے ۔
ایک ایک کر کے سارے ادارے اپنے فرائض سے غافل ہیں ۔ محافظ رہزن کی حفاظت کر رہا ہے اور بے خبر ہے ۔ عدالت عدل کا گلا گھونٹ رہی ہے اور بے خبر ہے ۔ دین کی کشتی کے پتوار سنبھالے ہوئے علماء قران کی تعلیمات سے بے خبر ہیں ۔ قانون بنانے والے قانون کے ابجد سے اگاہ نہیں ۔
دانشور نے آنکھیں بند کر لی ہیں ، اور جاہل راستہ بتا رہا ہے ۔ سب کے سب بھانت بھانت کی بولی بول رہے ہیں ۔ شور ہے غلغلہ ہے ۔ کوئی سوچتا ہی نہیں کہ یہ سب کیوں ہو رہا ہے ۔ کون روکے گا ، کیسے رکے گا ۔ اندھے رہنما اندھی قوم ۔ داخلی امور کنٹرول سے باہر ، خارجہ پالیسی زیرو ۔ جن سے دوستی ضروری تھی ان سے دشمنی بنا لی اور جو دشمن تھے انہیں دوست سمجھ لیا ۔ یہ سب اسلئے کہ ہم نے اللہ کے نظام سے ضد کر لی کہ اسے نافذ نہیں ہونے دینا ۔ قران کے احکامات کو سمجھنے اور عمل کرنے سے گریز کیا ۔ اللہ کی رضا سے عاری ہو گئے ۔ مسیحا کا انتظار اور وہ بھی مسیحا بھیجنے والے کی ہدایت سے نظریں پھیر کر ۔
کیا قوموں پر برے حکمران ، قوموں کے کردار کے سبب نہیں ہوتے ؟
چیخنے سے کیا ہو جائے گا ۔
چور چوری چھوڑ دے گا ؟
بد کردار صالح بن جائے گا ؟،
غدار کے دل میں حب الوطنی جاگ جائے گی ؟
کچھ نہیں ہو گا ، کوئی تبدیلی نہیں آئے گی ۔ سب ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں ۔
اگر مخلص ہو تو نظام بدلنے کے لئے اٹھو ۔ سب ٹھیک ہو جائے گا ۔
ازاد ھاشمی
19 مئی 2017
Thursday, 17 May 2018
اے آسودہ حال لوگو
" اے آسودہ حال لوگو "
اللہ کے ان احسانات کا شکر کرو ، کہ اس نے مفلسی ، غربت اور بے بسی کے دکھ سے دور رکھا ہے ۔ جو چاہتے ہو پہنتے ہو ، جو چاہتے ہو کھاتے ہو ، فکر معاش سے آزاد ہو ۔ اسے اللہ کا احسان بھی سمجھو اور امتحان بھی ۔
رمضان کا مبارک مہینہ ، رحمتوں کے نزول کا مہینہ ہے ۔ لمبے لمبے دستر خوانوں پر دنیا کی نعمتیں ، پھل ، مشروب ، ترش و شیریں کھانے سجانے کے قابل ہو ۔ مت بھولنا ، ان غریب ، مسکین ، یتیم اور مستحقین کو ، جو آپ کے گرد و نواح میں ان سب کو ترسیں گے ۔ جو سوکھی ہوئی روٹی سے سحر کریں گے اور پانی کے چند گھونٹ لیکر افطار ۔ یہ تمہارے روزہ کا امتحان ہیں ۔
تمہاری پر آسائش افطاری دیکھ کر ، اگر ایک آہ انکے دل سے نکل گئی ، تو یاد رکھو تمہاری عبادت اللہ کے ہاں کبھی قبولیت نہیں پائے گی ۔ دستر خوان وسیع کر دو ، انکو ساتھ بٹھا لو ۔ دنیا میں کئی گنا کی ضمانت اللہ دیتا ہے ۔ آخرت کی بھلائی آپ کا حق بن جاتا ہے ۔
اللہ کے دئے ہوئے وسائل ، اسکے بندوں کے لیے وقف کر کے دیکھو ، وہ سکون ملے گا ، جس کی لذت زندگی بھر ساتھ رہے گی ۔ رمضان کی رحمتیں لوٹنا چاہو تو اپنے گرد و نواح کے ہر روزہ دار کو تنگی اور مفلسی کا احساس مت ہونے دینا ۔
ازاد ھاشمی
18 مئی 2018
افطاری
" افطاری"
بابا جی! کل میرے گھر میں افطاری ہے، قریباً سو احباب ہونگے، مجھے سموسے اور پکوڑے چاہئیں، کتنے پیسے دے جاوں؟ میں نے پوچھا،
بابا جی نے میری طرف دیکھا اور سوالیہ نظروں سے مسکرائے ۔
"کتنے پیسے دے سکتے ہو"
مجھے ایسے لگا، جیسے بابا جی نے میری توہین کی ہے،
مجھے ایک عرصے سے جانتے ہوئے بھی یہ سوال بے محل اور تضحیک تھی،
میں نے اصل قیمت سے زیادہ پیسے نکالے اور بابا جی کے سامنے رکھ دئیے،
بابا جی نے پیسے اٹھائے اور مجھے دیتے ہوئے بولے،
وہ سامنے سڑک کے اس پار اس بوڑھی عورت کو دے دو، کل آ کر اپنے سموسے پکوڑے لے جانا،
میری پریشانی تم نے حل کر دی، افطاری کا وقت قریب تھا اور میرے پاس اتنے پیسے جمع نہیں ہو رہے تھے، اب بیچاری چند دن سحری اور افطاری کی فکر سے آزاد ہو جائے گی۔
میرے جسم میں ٹھنڈی سی لہر دوڑ گئی۔
وہ کون ہے آپکی?
میرے منہ سے بے اختیار سوال نکلا ۔ بابا جی تپ گئے،
وہ میری ماں ہے ، بیٹی ہے اور بہن ہے ۔ تم پیسے والے کیا جانو، رشتے کیا ہوتے ہیں، جنہیں انسانیت کی پہچان نہیں رہی انہیں رشتوں کا بھرم کیسے ہو گا، پچھلے تین گھنٹے سے کھڑی ہے، نہ مانگ رہی ہے اور نہ کوئی دے رہا ہے۔
تم لوگ بھوکا رہنے کو روزہ سمجھتے ہو اور پیٹ بھرے رشتوں کو افطار کرا کے سمجھتے ہو ثواب کما لیا۔
"اگر روزہ رکھ کے بھی احساس نہیں جاگا تو یہ روزہ نہیں، صرف بھوک ہے بھوک".
میں بوجھل قدموں سے اس بڑھیا کی طرف جا رہا تھا اور سوچ رہا تھا، اپنے ایمان کا وزن کر رہا تھا، یہ میرے ہاتھ میں پیسے میرے نہیں تھے بابا جی کے تھے، میرے پیسے تو رشتوں کو استوار کر رہے تھے۔
بابا جی کے پیسے اللہ کی رضا کو حاصل کرنے جا رہے تھے۔
میں سوچ رہا تھا کہ اس بڑھیا میں ماں، بہن اور بیٹی مجھے کیوں دکھائی نہیں دی؟
اے کاش میں بھی بابا جی کی آنکھ سے دیکھتا، اے کاش تمام صاحبان حیثیت بھی اسی آنکھ کے مالک ہوتے.
اے کاش، کے ساتھ بیشمار تمنائیں میرا پیچھا کر رہی تھیں۔
آزاد ھاشمی
Wednesday, 16 May 2018
شان رسالت
" شان رسالت "
تخلیق کائنات اور کائنات کے سارے نظام کا قائم و دائم رہنا , رب العالمین کی شان ہے . کوئی ایک چیز اپنے نظام سے نہ باہر جا سکتی ہے نہ دوسرے نظام میں داخل ہو سکتی ہے . میں یہی سمجھتا رہا کہ اللہ کی پاک ذات اس نظام کو قائم رکھنے میں مصروف رہتی ہے . مگر جب یہ پتہ چلا کہ اللہ جب کسی چیز کا ارادہ فرما لیتا ہے تو صرف " کن " کہنے سے ارادے کی تکمیل ہو جاتی ہے . پھر جب یہ آیت پڑھی کہ " اللہ اور فرشتے نبی پاک ص پر درود بھیجتے ہیں " تو ادراک اور فکر سے شان رسول کا تعین کرنا ممکن نہیں رہا . آپ ص کی شان کو جہان بھی رکھا جائے , محض مفروضہ ہو گا . انسانی عقل کیسے احاطہ کر پائے گی , اس ہستی کی شان کے بارے میں , جس پر درود بھیجنے میں اللہ پاک خود مصروف ہو . فرشتے جو تسبیح و تمحید میں لگے ہوں , وہ بھی تمحید و تقدیس کے ساتھ ساتھ درود بھی بھیجنے کا فرض نبھاتے ہوں . کتنی خوش قسمت ہو گی وہ زبان جس سے درود کی صدا بلند ہوتی ہو گی . کیسا بخت ہو گا اس انسان کا , جس کے معمول میں درود بھیجنا ہو گا .
اللہ کا حکم کہ اے ایمان والو , اللہ اور فرشتے آپ ص کی ذات پر درود بھیجتے ہیں اور تم بھی اس عمل کو اپنا لو . اور درود کی تکمیل کیلئے آل نبی پر درود کو الگ نہیں کیا جا سکتا . یہ ہماری عبادت , ہماری نماز کا لازمی جزو ہے .
اللہ کی رضا کے لئے درود کا عمل لازم ہے اور عبادت ہے .
ازاد ھاشمی
16 مئی 2017
بیچارہ جاوید ھاشمی
" بیچارہ جاوید ھاشمی "
کہتا ہے ۔
" ہمارے پیسوں پر نوکری کرتے ہیں ، ہمیں آنکھیں دکھاتے ہیں ۔ ہم پر ہی حکومت کرتے ہیں ۔ دنیا میں جیسا ہوتا ہے ویسے کرنا ہوگا ۔ سویلین حکومت کے آگے سر جھکانا ہو گا ۔ سویلین حکومت کو سلیوٹ مارنا ہو گا "
کسی چوہے نے شراب پی لی تھی ، ترنگ میں آ کر بولنے لگا ، بلی کو ہمارے حضور پیش کیا جائے ۔
کچھ ایسا ہی مغالطہ جاوید ھاشمی کو ہو گیا ہے ۔ اسکا بیان ایک آرڈر کیطرح ہے ، جیسے وہ صاحب اختیار ہے ۔ خیر ! یہ ایک الگ موضوع ہے کہ ایسا لہجہ دماغ کا انتشار ہوتا ہے ۔
جناب فوج کو مخاطب ہو کر فرماتے ہیں کہ
" ہمارے پیسوں پر نوکری کرتے ہیں "
ارے محترم یہی تو غلط فہمی ہے کہ قوم کے پیسے کو تم سیاستدانوں نے اپنا پیسہ سمجھ لیا ہے ۔ تم نے ساری عمر جو ٹیکس دیا ہوگا ، اسمبلی میں بیٹھ کر ایک ماہ میں وصول کر لیا ہوگا ۔ تم لوگ تو ملک کے پیسے کو چاٹ رہے ہو ۔ فوج کی تنخواہ تو قوم دیتی ہے جو ایک ایک لقمے پر ٹیکس کٹواتی ہے ۔ تم تو اس ٹیکس پر عیاشی کرتے ہو ۔ صاحب بہادر کو شکایت ہے کہ
" ہم پر حکومت کرتے ہو اور ہمیں آنکھیں دکھاتے ہو "
چونکہ تم لوگوں کو حکومت کرنے کا ڈھنگ نہیں آتا ، اسلئے انہیں بار بار آنا پڑتا ہے ۔ ایک جنرل بننے میں ایک عمر لگتی ہے ۔ کئی جان جوکھوں کے مرحلوں سے گذرنا پڑتا ہے ۔ سینے پہ گولی کھانے کا حوصلہ پیدا کرنا پڑتا ہے ۔ اور ایک سیاستدان بننے کیلئے کیا محنت چاہئیے ۔ کس قابلیت کی ضرورت ہے؟ کیسا کردار کافی ہے ؟
صاحب بہادر کی آرزو ہے
" دنیا میں جیسا ہوتا ہے ویسے کرنا ہوگا ۔ سویلین حکومت کے آگے سر جھکانا ہو گا ۔ سویلین حکومت کو سلیوٹ مارنا ہو گا"
دنیا میں کونسا ملک ہے ، جہاں کے سیاستدان پورے کا پورا ملک لوٹتے ہیں اور فوج انکو سلیوٹ مارتی ہے ۔ میری معلومات میں تو بہت سارے ملکوں میں تو وطن لوٹنے والوں کو گولی مار دی جاتی ہے ۔ یا پھر عمر بھر جیل میں ڈال دیا جاتا ہے ۔ دنیا کے اس قاعدے کلئیے کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ۔
محترم ! اب زندگی کے آخری دنوں میں ، اللہ کے سامنے معافی تلافی کیلئے گڑگڑائیں ۔ ایسا نہ ہو کہ آپ کے سفر آخرت میں ایک اور جھگڑا کھڑا ہو جائے کہ محترم مسلم لیگی تھے ، جماعتئے تھے یا انصافئے تھے ۔
آزاد ھاشمی
١٥ مئی ٢٠١٨
کرنسیوں کے نام
کرنسیوں کے نام
کیا آپ کو معلوم ہے ۔۔۔۔ ایک دلچسپ تحقیق پاکستانی کرنسی کا نام روپیہ کیوں ؟
کیا کبھی آپ نے سوچا کرنسیوں کے نام کیسے پڑتے ہیں دراصل اس کے پیچھے عجیب اور دلچسپ کہانی ہوتی ہے جس کا علم سب کو ہونا چاہیے ۔
آکسفورڈ ڈکشنری کی سائٹ پر ایک تحقیق شائع ہوئی ہے ، کہ آخر پاکستان اور بھارت میں سکے کو روپیہ کیوں کہتے ہیں اور پڑوسی ایران اور دیگر خلیجی ممالک میں یہ ریال، درہم اور دینار وغیرہ کہلاتا ہے؟
ڈالر:
ڈالر دنیا میں سب سے زیادہ معروف کرنسی ہے، امریکا، آسٹریلیا، کینیڈا، فجی، نیوزی لینڈ اور سنگا پور کے ساتھ ساتھ کئی دوسرے ممالک میں بھی ڈالر کا استعمال ہوتا ہے، ڈالر کا قدیم نام جوشمز دالر سے لیا گیا ہے، یہ اس وادی کا نام ہے، جہاں سے چاندی نکال کر سکے بنائے جاتے تھے۔ جس کیوجہ سے سکوں کا نام بھی اسی وادی کے نام پر رکھ دیا گیا۔ بعد ازاں اس نام سے جوشمز نکال دیا گیا اور صرف دالر رہ گیا جو بعد میں ڈالر کہلانے لگا۔
دینار:
دینار لاطینی لفظ دینا ریئس سے نکلا ہے، ، جو چاندی کے قدیم رومی سکے کا نام ہے اب کویت، سربیا، الجیریا، اردن و دیگر ممالک میں دینار ہی استعمال کیا جاتا ہے
*روپیہ:*
روپیہ سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کے معنی چاندی یا ڈھلی ہوئی(ساختہ) چاندی کے ہیں۔
ریال:
ریال لاطینی لفظ ریغالس سے اخذ کیا گیا ہے جس کا تعلق شاہ خاندان سے ہوتا ہے عرب ممالک میں سے عمان، قطر، سعودی عرب اور یمن وغیرہ میں ریال استعمال ہوتا ہے ۔ اس سے قبل ہسپانوی کرنسی کو رئیل کہا جاتا تھا۔
لیرا:
اٹلی اور ترکی میں لیرا نامی کرنسی رائج ہے، یہ ایک لاطینی لفظ لبرا سے نکالا گیا ہے۔
کرونا:
کرونا کو لاطینی کرونا سے نکالا گیا ہے، جس کا مطلب تاج یا کراؤن ہے، شمالی یورپ کے مختلف ممالک میں کرونا نامی کرنسی استعمال ہوتی ہے، سوئیڈن، ناروے، ڈنمارک، آئسلینڈ اور اسٹونیا یہاں تک کہ چیک جمہوریہ میں بھی۔
پاؤنڈ:
پھر برطانیہ کا مشہور زمانہ پاؤنڈ ہے جو دراصل لاطینی لفظ ”پاؤنڈس“ سے نکلا ہے جو وزن کو ہی کہتے ہیں۔ برطانیہ کے علاوہ، مصر، لبنان، سوڈان اور شام میں بھی کرنسی پاؤنڈ کہلاتی ہے۔
پیسو:
میکسیکو کی کرنسی پیسو ہے۔ جو ایک ہسپانوی لفظ ہے جس کا معنی بھی یہی ہیں یعنی ”وزن“۔
یوآن ، ین ، وون:
چینی یوان، جاپانی ین اور کورین وون کی ابتدا ایک چینی حرف سے ہوئی ہے، جس کا مطلب ہے ”گول“ یا ”گول سکہ“۔
رویبل:
ہنگری کرنسی:
ہنگری کی کرنسی فورینٹ کا نام اطالوی لفظ فائیو رینو سے اخذ کیا گیا ہے، جو فلورنس، اٹلی میں سونے کے سکے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ اس سکے پر ایک پھول کی مہر کھدی ہوتی تھی۔
روس کا سکہ روبیل بھی دراصل چاندی کو وزن کرنے کا ایک پیمانہ ہے ۔
رینڈ:
جنوبی افریقا کی کرنسی رینڈ کا نام وٹ واٹرز رینڈ پر رکھا گیا ہے، جو جوہانسبرگ کا ایک قضبہ ہے ، جو سونے کےذخائر کی وجہ سے مشہور ہے
Monday, 14 May 2018
ماں کا دن
" ماں کا دن "
میں ذاتی طور پر ان دنوں کو مغرب کے چونچلے سمجھتا ہوں . یہ خلوص , محبت اور بےلوث قربانی کے ساتھ مذاق ہے , جو ماں اپنی اولاد کو دیتی ہے . یہ ممتا کے تضحیک ہے , کہ ایک دن وقف کیا جائے , اس ہستی کے لئے , جس نے ایک ایک پل قربان کیا ہو اولاد پر . جو ساری ساری رات جاگ جاگ کر بچے کا سکون تلاش کرتی رہی ہو . آج کا لبرل صرف ایک دن ماں کو دان کر کے یہ سمجھ لیتا ہے کہ اس نے ممتا کی لگن کا حق چکا دیا ہے .
میں آج خود سوچ رہا ہوں کہ آج میری بھی ماں ہوتی , میں بھی فون کرتا , ماں سے محبت کا اظہار کرتا اور ڈھیر ساری دعائیں لیتا . اللہ کی رحمتوں کا رخ ان دعاوں کے طفیل میری طرف مڑ جآتا . اب کہاں فون کروں . کسے آواز دے کے دعائیں لوں .
آج پھر دل بوجھل ہے . پھر یاد کی شدت اعصاب پر سوار ہے . سوچتا ہوں میرے جیسے کتنے لوگ ہیں جو کہہ رہے ہونگے . کاش آج میری بھی ماں ہوتی . میں بھی کچھ کہتا , کچھ سنتا .
چلو آو , وہ سب جن کی مائیں اللہ کے پاس چلی گئیں . دل کی پوری گہرائیوں سے اپنی اپنی ماں کی مغفرت بھی مانگیں اور ہر ماں کے لئے بھی . کیونکہ ماں تو سب کی ماں ہوتی ہے .
اللہ میری ماں کو جنت عطا فرمائے . میں آپکی ماں کیلئے جنت مانگ رہا ہوں آپ میری ماں کے لئے مانگیں . ہم بھی آج ماں کا خصوصی دن منا لیں .
ازاد ھاشمی
14 مئی 2017
رب تے ماں
" رب تے ماں "
اللہ نے بندے کی تخلیق کی ، اپنے بندے سے پیار کرتا ہے ۔ بندہ اسکی مانے یا نہ مانے ، اسکی ہر حاجت کو پورا فرماتا ہے ۔ کہتے ہیں رب کا بندے سے پیار ، ستر ماوں کے پیار سے بھی زیادہ ہے ۔ اس حقیقت کا ثبوت اللہ نے ہر بندے کو " ماں " کی ہستی دے کر ہی پورا کردیا ۔ دنیا میں کوئی ایسا پیمانہ ایجاد نہیں ہوسکا ، جس پر ماں کا پیار تول لیا جائے ۔ ہوسکتا ہے رب نے اپنے پیار کے ستر درجے ماں کو دے کر ہی پورے کر دئیے ہوں ۔ ایک ماں چلی جائے تو ستر مائیں بھی اس حقیقی ماں کا بدل نہیں ہوتیں ۔
رب کی قدرت ہے کہ وہ جو چاہے دے سکتا ہے ۔ مگر میں نے آج تک نہیں دیکھا کہ ماں کے چلے جانے پہ ماں کا پیار مل سکا ہو ۔ پوری کائنات کی نعمتوں سے جھولی بھر دی جائے پھر بھی ماں کی آغوش کی ٹھنڈک کا نعم البدل نہیں ہوتی ۔
اپنے خالق کی رحمت اور کرم پر پورا ایمان ہے مگر وہ کبھی کبھی اپنے جبروت کا نشان بھی دکھا دیتا ہے ۔ وہ حساب کرتا ہے تو جنت اور دوزخ تقسیم کرتا ہے ۔ مگر ماں ہر حال میں " ٹھنڈک " ہی رہتی ہے ۔ اولاد سے حساب ہی نہیں کرتی ۔ اطاعت گذار بچے کیلئے بھی اور سرکش بچے کیلئے بھی جنت ہی رہتی ہے ۔
رب ہر حال میں حاکم ہے ۔ اپنے حکم پر مضبوط گرفت رکھتا ہے ، اور اپنے حکم کی اطاعت پر سرکشی پسند نہیں کرتا ۔
ماں کبھی حاکم نہیں ہوتی ، اولاد کے مزاج کے مطابقت سے اپنے حکم میں لچک رکھتی ہے ۔
اگر یہ کہوں کہ ماں اللہ کے رحم کا حصہ ہے ۔ جو رحم ہی رحم ہے ۔ بے پایاں رحم ۔
آزاد ھاشمی
١٤ مئی ٢٠١٨
اہم ترین سوال
"اہم ترین سوال"
کسی نے سوشل میڈیا پہ سوال پوچھا ہے ۔
"کیا میاں نواز شریف، عمران خان یا بلاول کی محبت آخرت میں ہمارے کسی کام آئے گی؟؟؟ "
پوچھنے والے کے ذہن میں ایک طنز بھی ہو سکتی ہے اور سنجیدگی بھی ۔ پڑھنے والے اسے فضول سوال بھی کہیں گے اور کچھ اس پر سنجیدگی کا مظاہرہ بھی کریں گے ۔ یہ سب ایک سوچ کا محور ہوتا ہے ، جدھر گھوم جائے ۔ مگر حقیقت کے قریب سوال کو اپنے ایمان کے ترازو پر تولا جائے تو سوال محض ظرافت نہیں بلکہ لمحہ فکر ہے ۔ ہم نے سیاست اور شخصیت پرستی کی حد کر دی ہے ۔ برائی کی تقلید کبھی فلاح کیطرف نہیں جاتی ۔ اکثریت نے سیاسی لوگوں کو اپنا رہبر و ہادی مان لیا ہے ۔ جبکہ یہ تمام سیاسی لوگ اقتدار کی کرسی پر براجمان ہونا چاہتے ہیں ۔ اور اقتدار کی ہوس کوئی قابل قدر خصلت نہیں ۔ وہ شخص جو خود کو دوسروں سے افضل سمجھتا ہے ، اور سمجھتا ہے کہ اقتدار پر براجمان ہونا اسکا حق ہے ، کسی قدر خود پرستی کا مریض ہے ۔ خدمت کا جذبہ الگ عمل اور الگ سوچ ہے ۔ یہی خود پرستی وہ برائی ہے, جس نے اسلام کے نظام کو بہت بری زک پہنچائی ہے ۔ اسی خود پرستی نے مسلمانوں کو آپس میں لڑا دیا ۔ نواز شریف ، عمران خان ، سراج الحق ، مولانا فضل الرحمن ، بلاول بھٹو اور دیگر سیاسی لوگ ایک ہی گیند کے پیچھے بھاگ رہے ہیں ۔ یہ حقیقت ہے کہ ہم سے جو سوال کیا جائے گا ، یہی پوچھا جائے گا کہ کیا ہم اللہ پر ایمان لائے ؟ اگر لایا تو ہم نے ایمان کے تقاضے پورے کئے ؟ ہم نے وہ سنا جو رسولؐ نے کہا اگر سنا تو کیا اطاعت کی ؟ ہم تو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ان سیاسی لیڈروں کے پیچھے لگے ہوئے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں ناچو تو ہم ناچنے لگتے ہیں ۔ وہ کہتے کہ دوسروں کی پگڑیاں اچھالو تو ہم اچھالتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم تمہاری تقدیر بدل دیں گے تو ہم یقین کرتے ہیں ۔ ہم نےاپنے فرائض چھوڑ کر انکے جلسے کامیاب کرانے کا قصد کر لیا ہے ۔
آزاد ھاشمی
٥ مئی ٢٠١٨
اگر آپ صاحب استطاعت ہیں
" اگر آپ صاحب استطاعت ہیں "
رمضان کریم اپنی تمام تر رحمتوں کے ساتھ چند روز بعد آنے والا ہے ۔ بہت سارے پیارے ، جو گذشتہ رمضان میں ہمارے ساتھ تھے ، اس رمضان میں نہیں ہیں ۔ یہ اللہ کا خاص کرم ہے جن کو یہ برکتیں پانے کا موقع ملا ۔ ہم سب کو اسکے احسان کا شکر ادا کرنا چاہئے ۔
اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ اسکے دئیے ہوئے رزق سے خرچ کیا کرو ۔ ایمان کیلئے بہت ضروری ہے ۔ کیونکہ جو آسانیاں ہمیں نصیب ہوتی ہیں وہ ہمارا حق نہیں, اللہ کا کرم ہوتا ہے ۔
رمضان کریم میں ہر کوئی اپنی اپنی استطاعت سے افطار اور سحر پر دستر خوان سجائے گا ۔ دوستوں اور عزیزوں کی پر تکلف دعوتیں ہونگی ۔ ضرورت سے کہیں زیادہ دستر خوانوں پہ سجایا جائیگا ۔ تکلفات بھی ہونگے اور تصرفات بھی ہونگے ۔
ایسے میں کئی خاندان ، کئی سفید پوش ، کئی مجبور اور فاقہ کش ، ہمارے ارد گرد ٹھنڈے پانی کو بھی ترس رہے ہونگے ۔ روکھی سوکھی بھی پیٹ بھر کے نصیب نہیں ہو گی ۔ سوال کرنے سے بھی گریزاں ہونگے ۔ کئی باپ اپنے بچوں کو سوکھی افطاری پر دل آزردہ بھی ہونگے ۔
کیا اچھا ہو کہ ہر وہ شخص جس کو اللہ نے استطاعت دے رکھی ہے ، اپنے دستر خوان پہ ، یا اپنے دستر خوان پہ سجائی جانے والی نعمتوں میں سے کچھ حصہ ان لوگوں کو باقاعدگی سے دیتے رہیں ۔ اچھے معاشرے کے ساتھ ساتھ ، کون جانے کتنی اور برکتیں آپ کے شامل حال ہو جائیں ۔ کون جانے کتنی مصیبتیں ٹل جائیں ، کون جانے کتنی خطائیں معاف ہو جائیں ۔
اللہ کے حکم کی تکمیل بھی ہو گی اور ذہن کو سکون بھی ملے گا ۔
آزاد ھاشمی
٤ مئی ٢٠١٨
آل رسولؐ سے مخاصمت
" آل رسول سے مخاصمت ؟"
جب اسلام کا پیغام شروع ہوا تو کفار مکہ نے کھل کر اسلام کے مخالفت کی ۔ ہر وہ حربہ اختیار کیا ، جس سے اسلام کو بڑھنے سے روکا جا سکے ۔ حتی کہ مسلمانوں کو ہجرت کرنا پڑی ۔ وقت کے ساتھ ساتھ اسلام کا پیغام پھیلتا گیا ، کئی جنگوں کے بعد آخر فتح مکہ کا وقت بھی آیا ، جب اسلام کا پورا غلبہ ہو گیا ۔ اس لمحے پہ کئی منافقین اپنی جان بخشی کیلئے اسلام کے ساتھ مل گئے ۔ وصال رسول ؐ کے بعد یہی لوگ اسلام کے خلاف سازشوں میں مصروف ہوگئے ۔ سازشوں میں لازم سمجھا گیا کہ آل رسولؐ کو کسی طرح روکا جائے اور بے اختیار کر دیا جائے ۔ بتدریج یہ عمل جاری رہا ۔ علم اور عمل دو ایسے پیمانے تھے ، جن پر آل رسولؐ کا تقابل کسی بھی دوسرے مسلمان سے نہیں تھا ۔ جب ان دونوں میدانوں میں کامیابی کا کوئی امکان نظر نہ آیا تو منافقین کی ریشہ دوانیوں سے آل رسولؐ کی شہادتیں شروع کر دی گئیں ۔ اقتدار اور ملوکیت کی ہوس میں حسن مجتبےٰ علیہ السلام کو زہر دیا گیا ، حسینؑ سید الشہداء کو اپنے تمام ساتھیوں سمیت کربلا میں شہید کیا گیا ، اسکے بعد تسلسل سے سارے اماموں کو شہید کیا جاتا رہا ۔ منافقین کی یہ آرزو تھی کہ کسی طرح اسلام کی تعلیمات کو ابہام کا شکار کر دیا جائے ۔ آل رسولؐ سے امامت کو ختم کرنے کے بعد ایک اور سلسلہ علم اگاہی شروع ہوا ، اور امامت دوسرے ماخذ میں منتقل ہوگئی ۔ یہ تمام ماخذ کیا لکھتے رہے اور آگے کیا پھیلایا جاتا رہا ۔ یہ ایک الگ موضوع ہے ، ایک ایک بندے سے لاکھوں احادیث کا وجود کیسے عمل میں آیا ، اور انکی تصدیق کرنے والوں میں کتنے معتبر صحابہؓ تھے ۔ جس پر بحث کا کوئی فائدہ نہیں ۔
اسوہ حسنہ قرآن کے بعد مکمل رہبری تھی ، اس میں بیشمار ایسے موضوع شامل کر دئیے گئے ، جو نہ تو قرآن سے مطابقت رکھتے تھے اور نہ شعور قبول کرتا ہے ۔ احادیث کے نام سے کئی درجہ بندیاں کی گئیں کہ یہ حدیث مسلم ہے ، یہ حدیث مسلم نہیں ، یہ ضعیف ہے اور یہ منسوخ ہے ۔ اس درجہ بندیوں تک مسالک پر کئی دوسرے ماخذ وجود میں آگئے ۔ حد یہ کہ مسلمان ایک دوسرے مسلک کی ضد میں ، ان کو بھی جنتی ثابت کرنے لگے ، جنہوں نے بغض میں آل رسولؐ کو شہید کردیا ۔ قرآن کی لمبی لمبی قرات اور تلاوت کرنے والوں نے قران کو ثانوی درجے پر لا کھڑا کیا ، سنت اور حدیث کے نام پر خود ساختہ مفروضے قائم کر لئے تاکہ فتح مکہ پر اسلام قبول کرنے والے منافقین کو راہ راست پر مان لیا جائے ۔ یہ منافقت کا آغاز تھا ۔ آج بھی آل رسولؐ کا نام لینے پر کئی لوگ جز بز ہوتے نظر آتے ہیں ۔ گویا منافقت کا بیج کئی خود رو پودوں کی شکل میں موجود نظر آتا ہے ۔ اسکا نقصان کیا ہوا اور آج ہم کہاں کھڑے ہیں ۔ کتنے فیصد لوگ ہیں جن کو قران کے علوم سے اگاہی ہے اور کتنے فیصد ہیں جو احادیث پر ایمان رکھے بیٹھے ہیں ۔ جسے ضعیف حدیث مانا جاتا ہے ، اختلافی مسائل میں وہ مستند ہو جاتی ہے ۔ جو قران سے متضاد موضوعات والی حدیث سے بھی انکار کرے ، اسے منکر حدیث کہہ دینا عام سی بات ہے ۔ اللہ کے پاک نبی کی سنت سمجھنے کیلئے قران سے اچھا ماخذ ہو ہی نہیں سکتا ۔ کیسے ممکن ہے جب اللہ فرمائے کہ کسی مسلمان کو ناحق قتل کرنے والے کی سزا جہنم ہے ، تو اللہ کا نبی اسے جنت کی بشارت کیسے دے سکتا ہے ۔ یہ صرف ضد ہے آل رسولؐ سے جو آل رسولؐ کے قاتلوں کو جنتی ثابت کیا جاتا ہے ۔
آزاد ھاشمی
٧ مئی ٢٠١٨