Monday, 14 May 2018

عدل کی حدود

" عدل کی حدود "
عدل ، برائی اور اچھائی میں فرق کرنے کا نام ہے ۔ برائی چونکہ معاشرے کے حسن کو خراب کرتی ہے ، عوام کے حقوق میں رکاوٹ پیدا کرتی ہے ، اسلئے عدل  کرنے والے کی ذمہ داریوں میں آتا ہے کہ وہ برائی کے سد باب کا راستہ بھی متعین کرے اور اسے لاگو بھی کرائے ۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو محض برائی اور اچھائی کی تشریح بے سود اور عدل بے فائدہ ہے ۔
اب برائی کا احاطہ کیا ہے اور اچھائی کی حدود کیا ہیں؟
ہر وہ عمل ، خواہ کوئی بھی کرے ، کسی صورت میں بھی کرے ، جس سے دوسرے فرد کے حقوق کو زک پہنچتی ہو ، برائی ہے ۔ معاشرے کے بگاڑ کا کوئی بھی عمل برائی ہے ۔ آج کل سوشل میڈیا پہ بحث ہے کہ چیف جسٹس اپنی اصل ذمہ داریوں پر توجہ دئیے بغیر ، دوسرے اداروں کے معاملات میں بے جا مداخلت کر رہا ہے ۔ اسے صرف ان کیسوں پر اپنی توجہ مرکوز کرنا چاہئیے جو عدالتوں میں کئی کئی سال سے زیر التوا ہیں ۔ عدالتوں کے ججز کو اور عدالتوں کے سسٹم کو بہتر کرنا چاہئیے ۔ کسی حد تک اصولی طور پر اگر عدالتوں کا طریق کار بہتر ہوگا تو سسٹم از خود بہتر ہونا شروع ہو جائے گا ۔ یہ بھی درست یے کی اگر عدل میں تاخیری حربے ختم نہ ہوں تو عدل ہو ہی نہیں سکتا ۔ یہ بھی درست ہے کہ ہر کیس ایک مخصوص مدت میں حل ہونا چاہئیے ۔ یہ بھی عدل کی ضرورت ہے کہ اگر کوئی جج قانون سے ہٹ کر فیصلہ کرتا ہے تو اسے صوابدیدی اختیار سمجھ کر معافی نہیں سزا ملنی چاہئیے ۔ جب ججز کسی قانون کی پابندی میں نہیں آئینگے تو ساری کوششیں بے سود ہیں ۔ چیف جسٹس کے جاری جہاد میں اسے بھی شامل ہونا چاہئیے اور اولین ہونا چاہئیے ۔ ایک قباحت ہمیشہ یہ رہی ہے ، کہ قانون ساز شخصیات کا یہی کام تھا کہ قانونی سقم کو توڑیں ۔ وہ قانون بنا دیتے کہ ہر کیس کتنی مدت میں حل ہو گا تو عدالتوں کو پابند ہونا پڑتا ۔ مگر انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں اور کبھی اہل ٹیم اسمبلی میں آئی ہی نہیں جو معاشرتی ضرورتوں کے مطابق قانون سازی کرتی ۔
اب چیف جسٹس کے اختیارات میں آتا ہے یا نہیں ۔ مگر معاشرے کے بگاڑ کو حل کرنا عدل کی ضرورت ہے ۔ کسی بھی شہری کو حق نہیں کہ وہ دوسرے کی حق تلفی کرے ۔ نہ ہسپتالوں کو حق ہے کہ مریضوں سے غفلت کریں ، نہ وزیروں ، مشیروں اور افسران کو وہ اپنے اختیارات کے زعم میں شہریوں کو پریشان کریں ۔ عدل کی حدود میں آتا ہے کہ ہر معاشرتی برائی پر توجہ کی جائے اور اسے دور کیا جائے ۔ جو لوگ شور مچاتے ہیں کہ چیف جسٹس حدود سے تجاوز کر رہا ہے ، انہیں سمجھنا ہو گا کہ عدل کی حدود ، عوام الناس کے حقوق کا تحفظ ہوتی ہیں ، وہ جیسے بھی ہو سکیں ۔ یہ ایک قابل تعریف بات ہے کہ ایک شخص کرسی سے اٹھ کر اپنے فرائض کی ہر حد تک بھاگ رہا ہے ۔ یہ روایت اگر آنے والے چیف جسٹس اختیار کئے رہے تو بہترین معاشرہ تشکیل پا جائے گا ۔ اے کاش ! اگر حکمران بھی اسی سوچ کو اپنا لیتے تو آج ہم بہترین ، مہذب اور خوشحال قوم ہوتے ۔  اختلاف رائے آپ کا حق ہے ، دلیل کے ساتھ اختلاف کریں ، جس میں سیاسی بندھن شامل نہ ہو ۔ اگر اس رائے سے اتفاق کریں تو اس پیغام کو آگے بڑھائیں تاکہ مثبت سوچ پیدا ہو ۔
آزاد ھاشمی
١١ مئی ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment