Wednesday, 16 May 2018

بیچارہ جاوید ھاشمی

" بیچارہ جاوید ھاشمی "
کہتا ہے ۔
" ہمارے پیسوں پر نوکری کرتے ہیں ، ہمیں آنکھیں دکھاتے ہیں ۔ ہم پر ہی حکومت کرتے ہیں ۔ دنیا میں جیسا ہوتا ہے ویسے کرنا ہوگا ۔ سویلین حکومت کے آگے سر جھکانا ہو گا ۔ سویلین حکومت کو سلیوٹ مارنا ہو گا "
کسی چوہے نے شراب پی لی تھی ، ترنگ میں آ کر بولنے لگا ، بلی کو ہمارے حضور پیش کیا جائے ۔
کچھ ایسا ہی مغالطہ جاوید ھاشمی کو ہو گیا ہے ۔ اسکا بیان ایک آرڈر کیطرح ہے ، جیسے وہ صاحب اختیار ہے ۔ خیر ! یہ ایک الگ موضوع ہے کہ ایسا لہجہ دماغ کا انتشار ہوتا ہے ۔
جناب فوج کو مخاطب ہو کر فرماتے ہیں کہ
" ہمارے پیسوں پر نوکری کرتے ہیں "
ارے محترم یہی تو غلط فہمی ہے کہ قوم کے پیسے کو تم سیاستدانوں نے اپنا پیسہ سمجھ لیا ہے ۔  تم نے ساری عمر جو ٹیکس دیا ہوگا ،  اسمبلی میں بیٹھ کر ایک ماہ میں وصول کر لیا ہوگا ۔ تم لوگ تو ملک کے پیسے کو چاٹ رہے ہو ۔ فوج کی تنخواہ تو قوم دیتی ہے جو ایک ایک لقمے پر ٹیکس کٹواتی ہے ۔ تم تو اس ٹیکس پر عیاشی کرتے ہو ۔ صاحب بہادر کو شکایت ہے کہ
" ہم پر حکومت کرتے ہو اور ہمیں آنکھیں دکھاتے ہو "
چونکہ تم لوگوں کو حکومت کرنے کا ڈھنگ نہیں آتا ، اسلئے انہیں بار بار آنا پڑتا ہے ۔ ایک جنرل بننے میں ایک عمر لگتی ہے ۔ کئی جان جوکھوں کے مرحلوں سے گذرنا پڑتا ہے ۔ سینے پہ گولی کھانے کا حوصلہ پیدا کرنا پڑتا ہے ۔ اور ایک سیاستدان بننے کیلئے کیا محنت چاہئیے ۔ کس قابلیت کی ضرورت ہے؟ کیسا کردار کافی ہے ؟
صاحب بہادر کی آرزو ہے
" دنیا میں جیسا ہوتا ہے ویسے کرنا ہوگا ۔ سویلین حکومت کے آگے سر جھکانا ہو گا ۔ سویلین حکومت کو سلیوٹ مارنا ہو گا"
دنیا میں کونسا ملک ہے ، جہاں کے سیاستدان پورے کا پورا ملک لوٹتے ہیں اور فوج انکو سلیوٹ مارتی ہے ۔ میری معلومات میں تو بہت سارے ملکوں میں تو وطن لوٹنے والوں کو گولی مار دی جاتی ہے ۔ یا پھر عمر بھر جیل میں ڈال دیا جاتا ہے ۔ دنیا کے اس قاعدے کلئیے کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ۔
محترم ! اب زندگی کے آخری دنوں میں ، اللہ کے سامنے معافی تلافی کیلئے گڑگڑائیں ۔ ایسا نہ ہو کہ آپ کے سفر آخرت میں ایک اور جھگڑا کھڑا ہو جائے کہ محترم مسلم لیگی تھے ، جماعتئے تھے یا انصافئے تھے ۔
آزاد ھاشمی
١٥ مئی ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment