Monday, 14 May 2018

وہ ڈالر کہاں ہیں

" وہ ڈالر کہاں ہیں "
مجھے نواز شریف اور اسکے فیمیلی ممبران سے ہمدردی اسلئے نہیں کہ انہوں نے حکمران بن کر تجارت کی ۔  ملک کے اثاثے ملک سے باہر لگائے ۔ ایک مخلص پاکستانی کو سرمایہ وطن میں لانا چاہئیے تھا ، یہ ملک سے باہر سرمایہ کاری کرتے رہے ۔ اپنی اولاد کو اس مٹی سے دور کر دیا ،  جس مٹی میں جنم لیا تھا ۔ اولاد کی حب الوطنی مشکوک ہوگئی جب انہوں نے دوسرے دیش کی شہریت اختیار کر لی ۔  کرپشن کی یا  نہیں  کی ، یہ ایک الگ معاملہ ہے ۔ نواز شریف کا سڑکوں پہ واویلا مچانا بھی کچھ نا زیبا ہے اور عقل کا انحطاط ہے ۔
اسکے لیڈر ہونے پر قطعی یقین نہیں رکھتا ہوں ۔ اسکی سیاسی نا پختگی کا واضع ثبوت اسکے حواری ہیں ۔ جن میں شاذ ہی کوئی بالغ ذہن کا ہو ۔
مگر اس سے ہمدردی کا ایک پہلو جنم لینے لگا ہے کہ اس حمام میں تو اور بھی بہت ننگے ہیں ۔ بہت سارے دوسرے ممالک کی مکیں بن گئے ہیں ۔
بہت لیڈروں کے اثاثے ملک سے باہر ہیں ۔ بہت سارے جرنیلوں کے بچے بھی بدیشی بن گئے ہیں ۔ پھر تلوار کی نوک صرف نواز شریف کی گردن پر ہی کیوں ۔
یہ تو سوال کرنا بنتا ہے کہ کیا نواز شریف نے صندوقوں میں بھر کر منی لانڈرنگ کی؟   کیا ہماری ایجنسیاں سو رہی تھیں؟ کیا  ایجنسیاں اتنی معصوم تھیں کہ دھوکہ کھا گئیں ؟ ابھی تو ان اربوں ڈالر کے قصے تازہ تازہ ہیں 
، جو کشتیوں میں سمگلنگ ہوتے پکڑے گئے تھے  ۔ وہ کس اکاونٹ اور کس خزانہ میں جمع ہوئے  ؟ ایان علی والا لانڈرنگ پیسہ کس کے اکاونٹ میں گیا؟
اگر جرم کو ننگا کرنا ہی ہے تو سب مجرموں کو ننگا کرو ۔ جو پکڑا جائے اسکی وہ سزا ہو کہ آنے والی نسلیں بھی عبرت پکڑیں ۔ اگر ایسا نہیں تو یہ عناد ہے انصاف نہیں ۔
آزاد ھاشمی
٨ مئی ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment