" ناسور "
ناسور ، عام فہم میں کینسر کو بھی کہتے ہیں ، طاعون کے پھوڑے کو بھی اور ایسے ہر زخم کو بھی جس سے بدبو آتی ہو ۔ یہ ایک بدن کا ناسور ہے ۔
ایک ناسور ، وطن کا بھی ہوتا ہے ، قوم کا بھی اور امن کا بھی ۔
اگر ناسور کی بروقت تشخیص نہ ہو ، اور بر وقت علاج نہ ہو تو یہ جان لیوا ثابت ہوا کرتا ہے ۔ ناسور کے علاج کیلئے طبیب کا ماہر ہونا بھی ضروری ہے ۔ ایک ناسور مشرقی پاکستان میں پیدا ہوا ، ملک کا ایک بازو کٹ گیا کیونکہ معالج نا اہل بھی تھے اور بے خبر بھی ۔ اب ہمارے موجودہ سسٹم میں بہت سارے ایسے سیاسی کھلاڑی ہیں ، جو سسٹم کی اساس کو مضبوط ہی نہیں ہونے دیتے ۔ جن کا نہ کوئی نظریہ ہے نہ کوئی سوچ ۔ وہ ہر چڑھتے سورج کیطرف پلٹ جاتے ہیں اور اسوقت ساتھ رہتے ہیں ، جب تک کوئی دوسرا سورج طلوع نہیں ہوتا ۔ یہ اصل ناسور ہے ، جسکا نہ علاج ہوا اور نہ علاج ہو رہا ہے ۔ عرف عام میں انہیں لوٹے کہا جاتا ہے ۔ انہوں نے قوم کی بنیادیں کھوکھلی کر دی ہیں ۔ ضمیر نام کی کوئی چیز ان کے ساتھ نہیں ۔
دوسرا ناسور ، وہ احمق سیاسی قایدین ہیں ، جن کو نہ اپنی زبان پر قابو ہے اور نہ کسی جماعت کی رہبری کے قابل ہیں ۔ اسوقت یہ ناسور نہایت خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے ، معالج اب بھی مہارت سے عاری نظر آ رہا ہے ۔ اب تو پورے سسٹم میں ان گنت ناسور ہیں ، بعض ناسور تو معالجوں نے خود پیدا کئے ، جو اسوقت نہایت بدبودار بن گئے ہیں ۔ اب تو وطن کا پورا جسم ان ناسوروں سے اٹا پڑا ہے ۔ سنا ہے کہ معالج بہت قابل بھی ہے اور تجربہ کار بھی ۔ مگر تاریخ تو بتاتی ہے کہ معالج کبھی بھی تجربہ کار ثابت نہیں ہوا ۔ اور نہ ہی کبھی قابلیت نظر آئی ۔ ایسے لگتا ہے کہ معالج کی قابلیت اور تجربہ صرف اشتہار ہے ۔
شاید قوم جاگ جائے تو علاج ہو جائے ۔
آزاد ھاشمی
١٤ مئی ٢٠١٨
Monday, 14 May 2018
ناسور
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment