" کیا ہے تیرا "
کیوں میرا میرا بولتے ہو
کیوں کفر ترازو تولتے ہو
جس نگر میں تم رہتے ہو
اس نگر کو اپنا کہتے ہو
کیوں دل یہاں لگایا ہے
یہ سانس تو اک چھایا ہے
جب چلتا چلتا ٹوٹے گا
جب جیون ہاتھ سے چھوٹے گا
پھر خالی جیب ٹٹولو گے
پھر خود سے ہی یوں بولو گے
کیا لینے یہاں میں آیا تھا
کیا لے کے یہاں سے جاتا ہوں
یہ سب کچھ جو بنایا تھا
اپنا وقت گنوایا تھا
نہ میری اپنی ہستی تھی
نہ میرا اپنا سایہ تھا
کچھ کار تو اچھا کیا نہیں
کوئی سکھ کسی کو دیا نہیں
جو سارے میرے اپنے تھے
اب کندھے پہ اٹھائیں گے
جا مٹی میں سلائیں گے
پھر مجھ کو ایسا بھولیں گے
پھر موج سے جھولا جھولیں گے
آزاد ھاشمی
٨ مئی ٢٠١٨
Monday, 14 May 2018
کیا ہے تیرا
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment