Monday, 14 May 2018

رب تے ماں

" رب تے ماں "
اللہ نے بندے کی تخلیق کی ، اپنے بندے سے پیار کرتا ہے ۔ بندہ اسکی مانے یا نہ مانے ، اسکی ہر حاجت کو پورا فرماتا ہے ۔ کہتے ہیں رب کا بندے سے پیار ، ستر ماوں کے پیار سے بھی زیادہ ہے ۔ اس حقیقت کا ثبوت اللہ نے ہر بندے کو " ماں " کی ہستی دے کر ہی پورا کردیا ۔ دنیا میں کوئی ایسا پیمانہ ایجاد نہیں ہوسکا ، جس پر ماں کا پیار تول لیا جائے ۔ ہوسکتا ہے رب نے اپنے پیار کے ستر درجے ماں کو دے کر ہی پورے کر دئیے ہوں ۔ ایک ماں چلی جائے تو ستر مائیں بھی اس حقیقی ماں کا بدل نہیں ہوتیں ۔
رب کی قدرت ہے کہ وہ جو چاہے دے سکتا ہے ۔ مگر میں نے آج تک نہیں دیکھا کہ ماں کے چلے جانے پہ ماں کا پیار مل سکا ہو ۔ پوری کائنات کی نعمتوں سے جھولی بھر دی جائے پھر بھی ماں کی آغوش کی ٹھنڈک کا نعم البدل نہیں ہوتی ۔
اپنے خالق کی رحمت اور کرم پر پورا ایمان ہے مگر وہ کبھی کبھی اپنے جبروت کا نشان بھی دکھا دیتا ہے ۔ وہ حساب کرتا ہے تو جنت اور دوزخ تقسیم کرتا ہے ۔ مگر ماں ہر حال میں " ٹھنڈک " ہی رہتی ہے ۔ اولاد سے حساب ہی نہیں کرتی ۔ اطاعت گذار بچے کیلئے بھی اور سرکش بچے کیلئے بھی جنت ہی رہتی ہے ۔
رب ہر حال میں حاکم ہے ۔ اپنے حکم پر مضبوط گرفت رکھتا ہے ، اور اپنے حکم کی اطاعت پر سرکشی پسند نہیں کرتا ۔
ماں کبھی حاکم نہیں ہوتی ، اولاد کے مزاج کے مطابقت سے اپنے حکم میں لچک رکھتی ہے ۔
اگر یہ کہوں کہ ماں اللہ کے رحم کا حصہ ہے ۔ جو رحم ہی رحم ہے ۔ بے پایاں رحم ۔
آزاد ھاشمی
١٤ مئی ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment