"میرے مالک تو جانتا ہے"
اے دلوں کے بھید جاننے والے ! تو جانتا ہے کہ اپنی ذات کیلئے کسی آسائش کی کبھی طلب نہیں کی ۔ جب بھی سوچا ، جب بھی مانگا ، دوسروں کیلئے ۔ تیرے احسانوں کا شکر ادا کرتا ہوں کہ تو نے میری اوقات سے کہیں بڑھ کر نوازا ۔ تو نے میری اولاد کو علم و شعور کی دولت سے سرفراز کیا ۔ تیری ذات سے محبت کرنے والے بنایا ۔ میرے لئے تیرے احسانوں کا شکر ادا کرنا ممکن ہی نہیں ، تیرے احسانوں کو شمار کرنا ممکن ہی نہیں ۔
تو جانتا ہے کہ مجھے موت سے کبھی خوف نہیں آیا ، میری زندگی تیری امانت ہے ، تیری ہر آواز پر لبیک کہوں گا ۔ بس چاہتا ہوں کہ موت بھی آئے تو حق پر آئے ، تیرے راستے پہ آئے ، ایسی موت آئے جس سے تیری رضا نصیب ہو جائے ۔ کچھ مہلت مانگتا ہوں کہ کچھ ارمان ابھی ادھورے ہیں ۔ تیرے بندوں کی خدمت کا خواب ادھورا ہے ۔ تیرے دین کی خدمت کا خواب ادھورا ہے ۔ اتنی مہلت اور اتنے وسائل کا سوال ہے ۔ اگر اس قابل ہوں تو پورا فرما دے ، اگر قابل نہیں ہوں تو قابل بنا دے ۔ اگر تیری رضا نہیں تو تیری رضا کی بھیک مانگتا ہوں ۔ اگر میرے نصیب میں نہیں تو میرے نصیب میں لکھ دے ۔ اگر نہیں تو تیری رضا پر راضی ہوں تیری آواز پہ لبیک کہتا ہوں ۔
(دوست دعا کریں کہ اللہ میری التجا سن لے ۔ صحت اتار چڑھاو کی شدت کا شکار ہے ۔ )
آزاد ھاشمی
٨ مئی ٢٠١٨
Monday, 14 May 2018
میرے مالک تو جانتا ہے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment