Monday, 14 May 2018

غداری کا پیمانہ

" غداری کا پیمانہ "
ہمارے ملک کا ایک ہی ادارہ ایسا ہے ، جس پر پوری قوم انحصار کئے بیٹھی ہے کہ وہ بہت چوکس بھی ہے اور ہر غدار سے نمٹنے کی اہلیت بھی رکھتی ہے ۔ اللہ کرے کہ یہ ادارہ قوم کی توقعات پہ پورا اترے ۔
اگر ہم حقائق کو دیانتداری سے دیکھیں تو نتائج کچھ حوصلہ افزا نہیں ہیں ۔ یا شاید ہم ابھی تک غدار اور محب وطن کی تعریف ہی نہیں کر سکے ۔ نواز شریف تین بار وزیراعظم بنا ، محب وطن بھی تھا اور اس ایجینسی سے کلئیر بھی ۔ الطاف حسین سندھ کے سب بڑے شہروں کی سیاست کا بادشاہ بنا رہا ، اس ایجنسی کی نظر اسکے ارادوں پر نہیں گئی ۔ محمود اچکزئی اپنے اندرونی زہر کا اظہار بھی کرتا رہتا ہے ، پھر بھی بلوچستان کا سارا انتظام اسکے رشتے داروں کے ہاتھ میں ہے اور وہ معتبر سیاستدان بھی ہے ۔ وغیرہ وغیرہ ۔
اقتدار سے ہٹنے کے بعد جو بیان ، نواز شریف سے منسوب کیا جا رہا ہے ، وہ اس بات کا عکاس ہے کہ وہ اپنے تمام ادوار میں محب وطن تھا ہی نہیں ۔ سوال یہ ہے کہ ہماری سلامتی کی ذمہ دار ایجنسی کو کئی کئی سال غداروں کا علم کیوں نہیں ہوتا ؟  وہ حکمرانی بھی کرتے ہیں ، سیاست بھی کرتے ہیں ، کھل کر بولتے بھی ہیں ، ملک دشمنوں سے رابطے میں بھی رہتے ہیں ۔ آخر کار جب میڈیا پہ بولتے ہیں تو قوم کو اگاہی ملتی ہے ۔ بیشتر اس سے کہ یہ نوبت آ جائے ، یہ ایجنسی کیا کرتی رہتی ہے ۔
اگر یہ کہا جائے کہ جو کارکردگی قوم کو بتائی جاتی ہے ۔ وہ نہیں ہے ۔
اب نواز شریف کے اس بیان کے بعد ، پاکستان کے پاس کیا استحقاق باقی رہ جائے گا ۔ کہ پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار ہونے سے بچایا جا سکے ۔ اتنی بڑی دشمنی کے بعد کیا انتظار باقی ہے ؟ آخر وہ پیمانہ قوم کو بھی بتا دیا جائے کہ غدار کیسے ہوتے ہیں ۔ اور انکو سزا دینے کیلئے کیا کیا مرحلے طے کرنا پڑتے ہیں ۔ اس روش کو اور کتنی ڈھیل دینا باقی ہے ؟
آزاد ھاشمی
١٢ مئی ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment