Monday, 14 May 2018

آل رسولؐ سے مخاصمت

" آل رسول سے مخاصمت  ؟"
جب اسلام کا پیغام شروع ہوا تو کفار مکہ نے کھل کر اسلام کے مخالفت کی ۔ ہر وہ حربہ اختیار کیا ، جس  سے اسلام کو بڑھنے سے روکا جا سکے ۔ حتی کہ مسلمانوں کو ہجرت کرنا پڑی ۔ وقت کے ساتھ ساتھ اسلام کا پیغام پھیلتا گیا ،  کئی جنگوں کے بعد آخر فتح مکہ کا وقت بھی آیا ، جب اسلام کا پورا غلبہ ہو گیا ۔ اس لمحے پہ کئی منافقین اپنی جان بخشی کیلئے اسلام کے ساتھ مل گئے ۔ وصال رسول ؐ کے بعد یہی لوگ اسلام کے خلاف سازشوں میں مصروف ہوگئے ۔ سازشوں میں لازم سمجھا گیا کہ آل رسولؐ کو کسی طرح روکا جائے اور بے اختیار کر دیا جائے ۔ بتدریج یہ عمل جاری رہا ۔ علم اور عمل دو ایسے پیمانے تھے ، جن پر آل رسولؐ کا تقابل کسی بھی دوسرے مسلمان سے نہیں تھا ۔ جب ان دونوں میدانوں میں کامیابی کا کوئی امکان نظر نہ آیا تو منافقین کی ریشہ دوانیوں سے آل رسولؐ کی شہادتیں  شروع کر دی گئیں ۔ اقتدار اور ملوکیت کی ہوس میں حسن مجتبےٰ علیہ السلام کو زہر دیا گیا ، حسینؑ سید الشہداء  کو اپنے تمام ساتھیوں سمیت کربلا میں شہید کیا گیا ، اسکے بعد تسلسل سے سارے اماموں کو شہید کیا جاتا رہا ۔ منافقین کی یہ آرزو تھی کہ کسی طرح اسلام کی تعلیمات کو ابہام کا شکار کر دیا جائے ۔ آل رسولؐ سے امامت کو ختم کرنے کے بعد ایک اور سلسلہ علم اگاہی شروع ہوا ، اور امامت دوسرے ماخذ میں منتقل ہوگئی ۔ یہ تمام ماخذ کیا لکھتے رہے اور آگے کیا پھیلایا جاتا رہا ۔ یہ ایک الگ موضوع ہے ، ایک ایک بندے سے لاکھوں احادیث کا وجود کیسے عمل میں آیا ، اور انکی تصدیق کرنے والوں میں کتنے معتبر صحابہؓ تھے ۔ جس پر بحث کا کوئی فائدہ نہیں ۔
اسوہ حسنہ قرآن کے بعد مکمل رہبری تھی ، اس میں بیشمار ایسے موضوع شامل کر دئیے گئے ، جو نہ تو قرآن سے مطابقت رکھتے تھے اور نہ شعور قبول کرتا ہے ۔ احادیث کے نام سے کئی درجہ بندیاں کی گئیں کہ یہ حدیث مسلم ہے ، یہ حدیث مسلم نہیں ، یہ ضعیف ہے اور یہ منسوخ ہے ۔ اس درجہ بندیوں تک مسالک پر کئی دوسرے ماخذ وجود میں آگئے ۔ حد یہ کہ مسلمان ایک دوسرے مسلک کی ضد میں ، ان کو بھی جنتی ثابت کرنے لگے ، جنہوں نے بغض میں آل رسولؐ کو شہید کردیا ۔ قرآن کی لمبی لمبی قرات اور تلاوت کرنے والوں نے قران کو ثانوی درجے پر لا کھڑا کیا ، سنت اور حدیث کے نام پر خود ساختہ مفروضے قائم کر لئے تاکہ  فتح مکہ  پر اسلام قبول کرنے والے منافقین کو راہ راست پر مان لیا جائے  ۔ یہ منافقت کا آغاز تھا ۔ آج بھی آل رسولؐ کا نام لینے پر کئی لوگ جز بز ہوتے نظر آتے ہیں ۔ گویا منافقت کا بیج کئی خود رو پودوں کی شکل میں موجود نظر آتا ہے ۔ اسکا نقصان کیا ہوا اور آج ہم کہاں کھڑے ہیں ۔ کتنے فیصد لوگ ہیں جن کو قران کے علوم سے اگاہی ہے اور کتنے فیصد ہیں جو احادیث پر ایمان رکھے بیٹھے ہیں ۔ جسے ضعیف حدیث مانا جاتا ہے ، اختلافی مسائل میں وہ مستند ہو جاتی ہے ۔ جو قران سے متضاد موضوعات والی حدیث سے بھی انکار کرے ، اسے منکر حدیث کہہ دینا عام سی بات ہے ۔ اللہ کے پاک نبی کی سنت سمجھنے کیلئے قران سے اچھا ماخذ ہو ہی نہیں سکتا ۔ کیسے ممکن ہے جب اللہ فرمائے کہ کسی مسلمان کو ناحق قتل کرنے والے کی سزا جہنم ہے ، تو اللہ کا نبی اسے جنت کی بشارت کیسے دے سکتا ہے ۔ یہ صرف ضد ہے آل رسولؐ سے جو آل رسولؐ کے قاتلوں کو جنتی ثابت کیا جاتا ہے ۔
آزاد ھاشمی
٧ مئی ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment