Monday, 14 May 2018

جاوید چودھری کے نام

" جاوید چودھری کے نام "
محترم ! دعا گو ہوں کہ اللہ آپ
کو بخیر و عافیت رکھے ۔ آپ کے نام  سے  ایک تجزیہ سوشل میڈیا پہ دیکھنے میں آیا ہے ۔ جس میں یہ ظاہر کیا گیا کہ دنیا کے بڑے بڑے ممالک ،
جن میں برطانیہ، فرانس ، چین،
بھارت ، ترکی،یواےای، سعودی عرب  وغیرہ اربوں ،  کھربوں ڈالرز کے مقروض ہیں ۔ جبکہ  پاکستان 75 ارب ڈالر کا مقروض ہے۔
آپ کے تجزئیے کے مطابق جاپان جیسے ملک نے اپنے کل جی ڈی پی سے ساڑھے تین سو فیصد زیادہ قرضے لے رکھے ہیں۔
آپ نے دلیل دینے کیلئے تجزیہ پیش کیا کہ اگر چین یورپ امریکا اور روس قرضوں کے بغیر معیشت نہیں چلا سکتے تو ہم کیسے چلائیں گے؟ مجھے یہ تو معلوم تھا کہ آپ اچھا لکھتے ہیں ، کالم لکھنے میں کافی ریسرچ بھی کرتے ہیں ۔ مگر یہ معلوم نہیں تھا کہ آپ منجھے ہوئے معیشت دان بھی ہیں ۔ شائد آپ نے تجارتی قرضہ جات اور غیر تجارتی قرضہ جات کا فرق ملحوظ رکھے بغیر قوم کو تسلی دینے کی کوشش کی ہے کہ خیر ہے ، ٧٥ ارب ڈالرز کوئی خاص قرضہ نہیں ۔ ملک چلانے کیلئے یہ قرضہ ضروری تھا ۔ میں الزام تراشی نہیں کرنا چاہتا ، کہ آپ کے تجزئیے کے پیچھے کسی لفافے کا عمل دخل ہو گا ۔ لیکن شک ضرور ہوا ہے کہ آپ کے اس تجزئیے کہ محرکات کسی لالچ کے بغیر نہیں ہو سکتے ۔ قوم اسی مخمصے میں ہے اور یہی پوچھ رہی ہے کہ یہ پیسے خرچ کہاں ہوئے ؟ اگر ملک  کا دوسو ارب ڈالرز ملک سے باہر گیا ہے تو پھر ملک کیلئے تو وہ کافی تھا ، اس قرض کے بغیر ملک آسانی سے چل سکتا تھا ۔ ایک گھر جس کا چولہا ٹھنڈا پڑا ہے ، وہ ائیر کنڈیشنڈ کیلئے قرضہ لے گا ، تو سوال تو بنے گا ۔
محترم! آپ دانشور ہیں تو دانش کی بات کریں ، احمقوں کے ساتھ مل کر حماقت تو نہ کریں ۔ قوم کو بہتر راستہ دکھا نہیں سکتے تو گمراہ تو نہ کریں ۔ چین ، دنیا کی معیشت میں مضبوط ترین ملک ہے ، بیشمار ملک چین کے مقروض ہیں ، حتی کہ امریکہ بھی چین کا مقروض ہے ، آپ کا تجزیہ حقائق سے متضاد نظر آتا ہے ۔ آپ قوم سے دشمنی کر رہے ہیں ۔ قوم کا بکرا اپنی بوٹی کیلئے ذبح مت کریں ۔ صحافت کا تقدس نہ سہی ، اپنی دھرتی کے تقدس کا خیال کریں ۔
والسلام
آزاد ھاشمی
١١ مئی ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment