Thursday, 1 June 2017

یہ کیسا روزہ تھا

" یہ کیسا  روزہ تھا "
گرمی کی شدت میں ، چند گھنٹے کی پیاس جو اثرات مرتب کرتی ہے ۔ اس سے پانی کی ایک ایک بوند کی قیمت کا احساس ہوتا ہے ۔ سامنے ایک مخصوص وقت پر اللہ کی نعمتیں ملنے کا یقین پیاس کی شدت کو کم کرتا ہے ۔
روز ایک سوال ذہن میں آتا ہے ، روز ایک احساس جاگتا ہے  ،  ایک داستان دماغ پر گردش کرتی ہے کہ  کربلا کی زمین پر ، بہتے ہوئے فرات کے کنارے ، آگ برساتا ہوا سورج ، تپتی ہوئی ریت ، معصوم بچے ، پردہ دار بیبیاں ، نہ کھانے کو ایک لقمہ ، نہ پینے کو ایک بوند ۔ کیسا روزہ تھا ۔ نہ سحری نہ افطار ۔ کائنات کے مالک کے بے سروسامان جگر گوشے  , ایک دن نہیں ، دو دن نہیں پورے تین دن کا روزہ ۔ بوڑہوں کا بھی روزہ ، جوانوں کا بھی اور شیر خوار بچوں کا بھی ۔
کربلا میں امام حسین ع کا عظیم سجدہ  ،  ایسا بے مثل سجدہ کہ قیامت تک نہ کسی نے کیا ، نہ کوئی کرے گا ۔ کربلا میں معصوم بچوں نے جیسا روزہ رکھا کہ  نہ بھوک پر تڑپے ، نہ پیاس پر روئے ، قیامت تک نہ کسی نے رکھا نہ کوئی رکھے گا ۔ 
ازاد ھاشمی

اسلام دشمن گماشتے

" اسلام دشمن  گماشتے "
ہمارے کچھ مفکر , جو یا تو کسی گوروں کے دیس میں بیٹھے شراب کی چسکیاں لیتے ہیں - یا گوروں کی تہذیب پر فریفتہ ہیں - یا انگریزی کو روانی سے بول لیتے
ہیں - یا مسلمان ہو کر بھی اندر باہر سے انگریز بنے بیٹھے ہیں - یا الله  کے  دیے ہوے  مال و زر نے  بہکا رکھا ہے - یا وہ لوگ جن کو اپنی علمیت کا خبط ہے -
سوشل میڈیا پہ بہت وثوق سے ہزیان گوئی کرتے نظر آتے ہیں - کہ اسلام تو عملی زندگی میں ختم ہو چکا - گروہ بندی اور مساجد کے اندر کی کہانی باقی ہے -
اسلام اگر عملی طور پر ختم ہو سکتا تو آج پورا عالم کفر اسلام کے خلاف بر سر پیکار نہ ہوتا -
یہی ایک دکھ تو ہے جو صیہونیت , یہودیت اور دیگر اسلام دشمن قوتوں کو سونے نہیں دیتا - اسلام کو سمجھنے کی دیر ہے , پھر ذہنوں کو بدلنا نا ممکن ہو جاتا ہے -
رہا یہ کہ اسلامی حکومت نہ دنیا میں باقی ہے اور نہ طویل عرصے پر چل سکی - یہ خامی اسلامی نظام کی نہیں , یہ خامی مسلمانوں کی تربیت کی ہے - کہ ہم سازشوں کا حصہ بن جاتے ہیں - شروع سے آج تک تاریخ یہی بتاتی ہے - اسلام دشمن سازشیں کرتے رہے اور ہم شکار ہوتے رہے - ان تمام سازشوں کا ہراول دستہ بھی ہمیشہ آپ جیسے لوگ رہے , جو اسلام کی چھتری کے نیچے بھی بیٹھے ہیں اور چھید بھی کر رہے ہیں - اب اصل ضرورت اس بات کی ہے - کسی بھی کوشش سے پہلے اس منافقت کی جڑیں کاٹی جایئں - جس روز دشمن کی پہچان ہو گئی اس روز اسلام کے نظام کو روکنا نا ممکن ہو جاے گا -
اور  اب یہ وقت بھی زیادہ دور نہیں - اسلام دشمن قوتوں کے گماشتے نہایت کم ہیں , کوئی بھی زی شعور تجزیہ کر سکتا ہے - کہ اسلامی  نظام کے حق  آواز روز  بروز  بڑھ رہی ہے -
شکریہ
آزاد ہاشمی

کرپٹ دانشور

آج پھر سوشل میڈیا پہ شرمناک خبر گردش کر رہی ہے کہ دانشوروں کے بڑے بڑے نام بھی رشوت خور ہیں - میڈیا پہ بیٹھ کر دوسروں کے کپڑے اتارنے والے خود بھی ننگے ہیں - مغرب , سیکولر , لبرل سوچ کے مالک یہ اینکر جو بھی بولتے ہیں لفافے کا وزن دیکھ کر بولتے ہیں - یہ وہ لوگ ہیں جن کو سن کر لوگ اپنی راے قائم کرتے ہیں - اسلام کے نظام کی خوبیاں انکی زبانوں پہ اسی لئے نہیں آتی , کہ رشوت کسی بھی شکل میں ہو ایسا گناہ ہے جس کی سزا جہنم کی آگ ہے - ان صحافی لوگوں سے پولیس , فوج , سیاسی لیڈر , مذہبی قائدین , بیورو کریٹ غرضیکہ ہر کوئی خوف زدہ ہے - کیا اس صورت حال کے سامنے آنے سے یہ یقین کر لینا کہ یہی لوگ ہیں جو دشمنوں کے لئے راہ ہموار کرتے ہیں - یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے نظام کو برباد کرنے میں اہم رول ادا کیا -  ایسے لگتا ہے کہ ان سے زیادہ محب وطن کوئی دوسرا ہے ہی نہیں - مجال ہے کوئی ایک سیاسی لیڈر , کوئی ایک ایجنسی , کوئی محتسب اتنی جرات کرے کہ ان سے پوچھے یہ الزام ہے تو عدالت جایں , اگر سچ ہے تو اپنی دانشمندی کو ملک کی بربادی کیلیے استمعال کرنا بند کریں -
یہ مالدار شخص جس نے پورا معاشرہ گندہ کر دیا ہے , اس سے محبان وطن کیوں نہیں پوچھتے کہ صاحب , یہ دولت کی ریل پیل کا کوئی دوسرا استمعال کیوں نہیں کرتے - یہ دولت کیا درختوں پہ لگتی ہے جو بے دریغ بانٹ رہے ہو - وہ کیا مفادات ہیں جو اس رشوت کی آڑ میں حاصل کر رہے ہو - کہیں آپ بھی کسی بیرونی سازش کا حصہ تو نہیں ہو - یہ کوئی خوبی نہیں جس کا اشتہار آپ نے لگا رکھا ہے - میڈیا میں ایک برائی کا اظہار کچھ قابل تعریف نہیں - راتوں رات دولت عقل سے نہیں سازش یا کسی ناجائز رستے سے ہی آ سکتی ہے - وہ کونسا الہ دین کا چراغ ہے جس کو رگڑتے ہو اور کروڑوں روپے برائی کی راہ پہ خرچ کر ڈالتے ہو - کچھ ایسا ہی چراغ رگڑو اور وطن کے یتیم بچوں کے لئے امراء کے بچوں والی تعلیم کا بندوبست کر دو , ہسپتالوں میں دوائی کے لئے ترستے مریضوں کے علاج پہ توجہ کرو - ننگے , بھوکے لوگوں کی مدد کرو - نیکی بھی کما لو گے اور مشہوری کا ارمان بھی پورا ہو جایگا -
ہے کوئی جو یہ پیغام ان سب تک پہنچا دے -
شکریہ
آزاد ہاشمی

مذہبی سیاستدان

اگر مذھب کے نام پر سیاست کرنے والے سیاستدان اور مذہبی جماعتیں اسلامی نظام کے لئے حقیقی طور پر مخلص ہیں - تو ابھی انتخابات کے لئے کافی وقت پڑا ہے , انھیں ایک ایسا اتحاد بنا لینا چاہیے جو ریفرنڈم کے لئے راہ ہموار کرے کہ پاکستان کے ہر شہری سے راۓ لی جاے کہ وہ اسلامی نظام چاہتے ہیں یا مروجہ جمہوری طریقه -
جمہوریت کے ساتھ اسلام کو جوڑنا محض سادہ لوح عوام کے ساتھ دھوکہ ہے - یہ دو الگ الگ طرزہاۓ حکومت ہیں , ایک میں حکومت زیادہ لوگوں کا حق سمجھا جاتا ہے , دوسرے میں اقتدار اعلی الله کے لئے ہے - ایک میں قانون سازی اکثریت کا حق ہے , دوسرے میں قانون الله کا ہے - مذہبی رہنماؤں کی جمہوری اصول و ضوابط کے ساتھ ہم آہنگی نا قابل فہم ہے - اسلام کا نظام , اصول , قوائد اور ضوابط , تعزیرات , نظام معیشت , عدل و انصاف , اور نظم و نسق میں بالکل مکمل ہے , کسی دوسرے نظام کے ساتھ جوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں - نا قابل فہم  ہے کہ پچھلے طویل عرصے میں مذہبی جماعتیں کس چیز کے انتظار میں ہیں - اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ لوگوں کی سوچ آھستہ آھستہ لبرل اور سیکولر ہوتی جا رہی ہے , جو باتیں چھپ چھپا کے کی جاتی تھیں اب کھلے عام میڈیا پر تشہیر ہوتی ہے - یہ بے حیائی کا بڑھتا ہوا رحجان اسلامی سوچ کو بری طرح متاثر کر رہا ہے - ہمیں پوری سنجیدگی سے مذہبی لیڈروں کو اس بات پہ متوجہ کرنا ہو گا کہ " اسلام یا جمہوریت " پر ریفرنڈم کروایا جاے - اگر یہ سیاسی ملا متحرک نہیں ہوتے تو حقیقی دانشوروں , علماء اور گدی نشین پیروں کو آگے آنا ہو گا -
اے کاش ! نقار خانوں میں یہ آواز بھی سنی جاے -
شکریہ
آزاد ہاشمی

ضمیر فروش صحافی

صحافت ایک مقدس پیشہ اس اعتبار سے ہے کہ اس سے اچھے اور برے کی آگاہی ملتی ہے , شعور ملتا ہے , راستے کی سمت کا پتہ چلتا ہے اور آنے والے برے وقت کی نشان دہی ہو جاتی ہے - بھولی ہوئی اچھی باتوں کی دہرائی ہو جاتی ہے - اور عام فرد کو اپنے راستے کے تعین کی آسانی ہو جاتی ہے - گویا انسانی فکر میں بہتری   آتی  ہے - یہ صرف اور صرف اسی وقت ہوتا ہے جب صحافی دیانتداری سے اپنے فرائض انجام  دے - جب وہ سچائی اور حقائق کی بات کرے - پیشے کا تقدس ذاتی اغراض کے ماتحت نہ ہو - قوموں کے عروج و زوال میں صحافت کا بہت اہم  کردار  رہتا ہے - یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو کسی خوف , کسی مصلحت , کسی سازش  کا شکار ہوۓ بغیر اپنے فرائض انجام دیتے ہیں - اور اپنی قلم سے معاشرے کی برائیوں کو پنپنے نہیں دیتے -
مگر بد قسمتی سے ہمارے وطن کے بیشتر صحافی بلیک میلر ہیں , راشی ہیں , قلم کو بیچنے والے سوداگر ہیں , ایمان اور اخلاقی اقدار سے نا آشنا ہیں - انھیں نہ مذھب عزیز ہے , نہ وطن اور نہ ہی قوم سے کوئی دلچسپی ہے - جنہوں نے چند سکوں کی خاطر اپنے پیشے کی حرمت بیچ دی ہے - جو نیلام ہوتے ہیں ہر زیادہ بولی دینے والا خرید سکتا ہے - چند ایک جو اپنے پیشے کے تقدس کے لئے نہ بکتے ہیں نہ جھکتے ہیں , انھیں دیوار سے لگا دیا گیا ہے اور یہ نیک کام بھی ضمیر فروش صحافی ہی کرتے ہیں -
اگر یہ کہا جاے کہ یہ دولت کے پجاری صحافی ایک ایسا ناسور بن گئے ہیں جنہوں نے پورے معاشرے کو مفلوج کر رکھا ہے - یہ شرافت اور دانش کے لباس میں چھپے ہوۓ ننگے لوگ ہیں -
انکے اطوار کو جاننے کے باوجود کسی کی جرات نہیں کہ ایک لفظ انکی کرتوتوں پر کہہ سکے - حالانکہ اگر انکا قبلہ درست ہو جاے تو بہت ساری خرابیاں خود بخود ختم ہو جاینگی -
شکریہ
آزاد ہاشمی

کیا ہم زندہ قوم ہیں

" ہم زندہ قوم ہیں "
کیا ہم حقائق کے تناظر میں زندہ قوم ہیں -
جس قوم کے فیصلے اسکے اپنے اختیار میں نہ ہوں  ,
جس کا طرز زندگی اپنا نہ ہو ,
جو اپنے اسلاف کے کردار کو بھلا دے ,
جو اپنے بنیادی حقوق پر بھی سودے بازی کرنے پہ تیار ہو ,
جو اپنی عزت نفس سے نا آشنا ہو جاے ,
جو نظریاتی طور پہ دیوالیہ ہو چکا ہو -
کیا ایسی قوم کو زندہ قوم کہا جا سکتا ہے -
اگر انصاف سے حقائق پہ نظر رکھیں تو کیا ہمیں چند خاندانوں نے یرغمال  نہیں بنا رکھا ہے , جو ہماری مشقت کی آمدن ہم سے مسلسل چالاکی اور زبردستی چھین لیتے ہیں - ہمارے وطن کی مٹی بیچ کر اپنے لئے سونے  کے  محل تعمیر کر رہے ہیں - ہمارے اثاثے دوسرے ملکوں میں پہنچا دیے گئے ہیں - ہمیں  بتاے بغیر ہماری نسلیں مقروض کر دی گئی ہیں - کیا کوئی زندہ نفس ایسے ہونے دیگا -
ہم زندہ قوم ہیں , ایک سراب ہے حقیقت نہیں - محسوس کرنے کی حس کا ختم ہو جانا موت ہے - اور بحثیت قوم ہماری یہ حس دم توڑ چکی ہے -
اے کاش پھر سے ہماری محسوس کرنے کی حس جاگ جاے - اور  ہم  حقیقی  طور  پہ  زندہ قوم بن   جائیں 
شکریہ
آزاد ہاشمی

حیرانی ہے

حیران ہوں , ہماری قوم کو سوچنے اور سمجھنے کی فرصت نہیں , ضرورت نہیں یا عقل ہی ختم ہو گئی - جمہوریت کی سیڑھی سے آنے والے لوگوں کی کرپشن , لوٹ مار , نا اہلی اور بد معاشی نے وطن اور قوم کو بھکاری بنا کر رکھ دیا ہے - ملک کے سارے وسائل بند کر دیے ہیں - ایک متوسط طبقے کا گھرانہ اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کے قابل نہیں رہا - غنڈے عزت دار بن کر حکمرانی کر رہے ہیں , شرفاء عزتیں بچانے کی فکر میں چار دیواری میں دبک گئے ہیں - بد دیانتی ثابت ہونے پہ بھی احساس ندامت نہیں ہوتا - اشرافیہ کی گفتگو بازاری لفنگوں جیسی ہو گئی ہے -
ایک اسمبلی میں بہٹھے غنڈے کا ڈرائیور پولیس کے افسر کی توہین کا پورا اختیار رکھتا ہے -
کیا یہ سب ہمیں اسی جمہوریت کے تحفے نہیں -
یہ کونسا الہامی حکم ہے کہ ہم نے جمہوریت سے ادھر ادھر نہیں دیکھنا - اس نظام میں کیا ایسی چاشنی ہے کہ سامراجی قوتوں نے کتنے خوشحال مسلمان ملک برباد کر دیے -
ہمارے پڑھے لکھے , عالم فاضل لوگ بھی جمہوریت کا ہی راگ الاپ رہے ہیں -
یوں لگتا ہے الله نے ہمارے عملوں کی پاداش میں ہماری عقل اور فکر کی ساری قوت چھین لی ہیں  - ہم نے اسلام کے نظام اور احکامات سے رخ موڑا تو الله نے جمہوریت کا آسیب ہمارے ذہنوں پہ مسلط کر دیا -
شکریہ
آزاد ہاشمی

روزہ اصلاح کا سبب

روزہ ایک ایسا عمل ہے جو الله کے لازم فرائض میں سے ایک ہے - جو مسلمان کے کردار کی اصلاح کا بہترین عمل ہے - صرف بھوکا اور پیاسا رہنا روزہ نہیں - ہر اس عمل سے اجتناب کرنا , جو الله کو نا پسند ہے , جو کبیرہ یا صغیرہ گناہ کی صف میں آتا ہو , روزہ ایسے تمام کاموں سے روکنے کا سبق ہے - عبادت کا رحجان بھی روزے سے ملنے والی تحریک ہے.
اسکے ساتھ ساتھ ایک ایسا احساس جگانے والی عبادت , جو بہترین معاشرے کی اساس ہوتا - اپنے قرب و جوار میں کسی مفلوک الحال گھرانے کی تکلیف کا احساس ملتا ہے - یہ روزے کا ایک فلسفہ ہے , جسے ہم میں سے اکثر اس پر توجہ ہی نہیں دیتے -  بڑے بڑے دستر خواں سجا کر اپنی آنا کی تسکین تلاش کرتے ہیں - الله سے قبولیت مانگتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے الله کو راضی کر لیا - حالانکہ اگر کسی زاہد و عابد کا ہمسایہ رات کو بھوکا سویا ہے تو اس عبادت گزار کی ساری عبادت , ساری ریاضت , تمام سجدے اور رکوع قبولیت سے محروم ہو جاتے ہیں -
ہم اس مبارک مہینے میں  ان اہم معاملات پر خصوصی توجہ دےکر  نیکیاں بھی کما سکتے ہیں اور ایک قابل ستائش معاشرے کا آغاز بھی کر سکتے ہیں -
وہ دوست , عزیز , رشتہ دار جو ہم سے دور ہیں یا جن کو ہماری مدد کی ضرورت نہیں , انکے لئے الله سے تندرستی , امن , خوشحالی   اور تمام دینی و دنیاوی کامیابی مانگنا بھی ایک بہترین تحفہ ہے - ایک بہترین  امداد ہے اور ایک بہترین عمل ہے -
آئیے , ایک اچھے معاشرے کی بنیاد رکھیں - اپنے الله اور الله کے حبیب کی رضا حاصل کریں -
آمین
آزاد ہاشمی

روایات اور معاشرہ

روایات کسی معاشرے کا حصہ ایک دو سال میں نہیں بن  جاتیں - انکو ایک طویل وقت لگتا ہے - اور جن قوموں نے اپنے مقاصد حاصل کرنے ہوتے ہیں , وہ اپنی روایات کو دوسری قوم کا حصہ بنانے کی لگا تار کوشش کرتی رہتی ہے -
یہ عمل معاشرے کے رحجان کو بدلتا ہے - اسکا شکار غلام ذہنیت آسانی سے ہو جاتی ہے -
اسلام دشمن مافیا مسلسل مسلمانوں کے رحجانات تبدیل کرنے  کے لئے پوری تگ و دو میں لگا ہوا  ہے - جس کے اثرات اب نظر آ رہے ہیں - ہمارا رہنا سہنا  , لباس , خورد و نوش , گفتگو کا انداز , میل ملاپ پوری طرح سے مغربی ہو گیا - ہمارا نظام تعلیم بدل گیا -
اسکے اثرات میڈیا پہ ہونے والے مذاکروں سے عیاں ہیں - کہ  جس کا بھی دل کرتا ہے , مغربی تہذیب , ثقافت اور روایات کے گن گانے لگتا ہے اور اسلام کے تمدن میں خامیاں بیان کرنے کو اپنی علمیت کا حصہ سمجھتا ہے -
ولینتائیں ڈے بھی اسی یلغار کا حصہ ہے - ہمیں اور ہمارے علماء کو ہوش اس وقت آئ ہے جب یہ رسم ہمارے معاشرے میں سرایت کر چکی ہے -اب نوجوان نسل ہی نہیں  بلکہ اپنے آپ کو مہذب کہنے والا ہر فرد یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ یہ ایک زانی اور بے رہرو کی یاد کا دن ہے -
ہمیں اب سمجھ نہیں آ رہا کہ اسے کیسے روکا جاے - لوگوں کو کیسے باور کرایا جاے کہ یہ بے حیائی کی رسم ہمارے دین کے منافی ہے -
ہمارے علماء تو ابھی اس مسلے میں الجھے ہوے ہیں کہ عید میلاد النبی منانے والوں کو کیسے روکیں , حسین کو ماننے والوں کیسے اسلام سے خارج کیا جاے - اس کفر کی راہ روکنے کا وقت ملے تو سوچیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی

دولت کے شیدائی

میرے ایک دوست اکثر شکایت کرتے ہیں ,
" تمہاری  بیشتر تحریریں اداس اور مایوس لوگوں کے گرد گھومتی ہیں - کبھی چہکنے اور لہکنے کی بات بھی کر لیا کرو - کبھی اس ماحول کو بھی قریب سے دیکھو جو زندگی کا لطف اٹھا رہے ہیں - روتے پیٹتے بچوں کی باتیں لکھ کے مایوسی کا درس بانٹ رہے ہو - شکایتیں کرنا ہمیشہ سے غریبوں کی روایت ہے - مسائل ہوں تو کاروبار کو جلا ملتی ہے , معاشی مسائل ضروری ہیں "
شائد محترم کی بات ٹھیک ہے - سکوں سے پر آسائش زندگی گزارنے والوں کو ان کہانیوں سے بوریت ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں - درد کا احساس تو اسے ہی ہو گا , جس کو کبھی درد ہوا ہو - بھوک کی شدت کیا ہوتی ہے ضیافتیں کھانے والے کیا جانیں - جن کے بچے بڑے بڑے تعلیمی اداروں میں پڑھ رہے ہوں , انہیں یتیم بچوں کا کیا احساس ہو گا, جو صبح کسی کونے میں کھڑے ہو کر اسکول جاتے بچوں کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ کر روتے ہیں - انہیں کیسے پتہ چلے گا جن کے بچے مخملی بستر پہ سوتے ہیں کہ اینٹ کا سرہانہ کیا ہوتا ہے - جن کے گھر گرمیوں میں ٹھنڈے اور سردیوں میں گرم ہو جایں , وہ کیا جانیں کہ سردی اور گرمی کی شدت کیا کرتی ہے - غریبوں کے مسائل میں کاروبار ڈھونڈھنے والوں کو کیا خبر کہ انسانیت کیا ہوتی ہے - جس نے درد دیکھا ہو , وہ لکھاری درد لکھتا ہے , اسے لطیفے یاد نہیں ہوتے - درد والے سب اسکے اپنے ہوتے ہیں - اس لئے وہ اپنوں کی باتیں لکھتا ہے - یہ فطرت کی آواز ہے - پیسے کی ریل پیل پہ غریبوں کے درد کو کاروبار کا ذریعہ سمجھنا کم ظرفی اور خود غرضی کی معراج ہے - کوئی  تو ہو جو اپنے لوگوں کے درد کا مداوا ڈھونڈھے - امیروں کی محفلوں میں تو صرف بین الاقوامی موضوع ہی زیر بحث ہوتے , ثقافت کے نام پہ راگ و رنگ کے تذکرے , تقریبات میں عشوہ سازی , تو امراء کا معمول ہے - ایسے میں کسی ضرورت مند حاجت روائی کی بات مایوسی ہی کہلایے گی -
اگر یہ دولت کے شیدائی , تھوڑا پیچھے دیکھیں تو شاید انکے باپ دادا میں سے کوئی غربت کے درد کا شکار رہا ہو -
شکریہ
آزاد ہاشمی

ان سب قاتلوں کا کیا ہوا

کسی بھی جرم سزا ملنا انسانیت کی بقا کے لئے بہت ضروری ہوتا ہے - عدالت کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ ان عوامل کا پوری دیانتداری سے جائزہ لے جن کی بنا پر جرم سر زد ہوا - ایک قتل جیسے جرم کی تفتیش میں  کسی بھی جانبداری عدل ا انصاف کا قتل ہے - ایک شخص جس نے اپنے جذبہ ایمانی پہ قتل کیا , یقینی طور پہ مقتول نے اس کے ایمان پر گزند لگائی , جس سے وہ مشتعل ہوا - کسی کے ایمان پر اشتعال انگیز بات کرنا بھی ایک جرم ہے , اور دوسرا ترغیب جرم بھی ہے - گویا  مقتول نے جرم  بھی کیا  اور ترغیب  جرم بھی -
اب چونکہ مقتول ایک با اثر سیاستدان , نامور وکیل اور گورنر تھا , قاتل ایک معمولی سپاہی  , تو فیصلہ میں جھکاؤ با اثر لوگوں کی طرف ہونا , ہماری عدالتوں کی روایت ہے -
مبصرین ایک طرف تو سزایے موت کو ظلم کہتے ہیں , دوسری طرف اس پھانسی کو حق سمجھتے ہیں - قاتل کو پھانسی ملنا ٹھیک ہے تو پھر ان سب قاتلوں کا کیا ہوا  , جنہوں نے سر عام قتل کیے اور رہا ہو گئے -
اسلیے کہ قاتل با اثر تھے اور مقتول غریب تھے - کیا جواب ہے ہمارے ناقدین کے پاس , کیا جواز ہے ہماری عدالتوں کے پاس -
یاد رہے جن قوموں سے عدل اٹھ جاتا ہے , وہ قومیں آفات کا شکار بن جاتی ہیں -
آزاد ہاشمی

مذھب کے نام پہ قتل

ایک محقق , جنھیں بہت سارے علماء سکالر تو کیا , مذھب کا طفل مکتب بھی نہیں مانتے , مگر میڈیا زندہ باد جو بھی انکی زبان بولتا ہو , راتوں رات مذہبی سکالر بن جاتا ہے - اسکی زمہداری صرف اتنی ہوتی ہے , چند نئی نئی باتیں بتاۓ اور عوام الناس کی راے تبدیل کرے -
تو حضرت فرماتے ہیں کہ ممتاز قادری نے دو بڑے جرم کیۓ , ایک یہ کہ قران میں لکھا ہے کہ کسی کو نا حق قتل کرنا پوری انسانیت کا قتل ہے - قران کا فیصلہ کون جھٹلا سکتا ہے - مگر جو قران کے احکامات کو جھٹلاۓ , الله کے احکامات کا منکر ہو , اور الله کے حبیب کی شان میں گستاخی کرے , تو کیا یہ قتل نا حق ہو گا -
حضرت فرماتے ہیں کہ دوسرا جرم یہ ہے کہ اس نے اپنے حلف سے انحراف کیا - ہم  سب نے مسلمان ہونے کا اقرار کر کے ایک حلف الله سے اٹھا رکھا ہے , کہ ہم اپنی جان , مال , اولاد , ماں باپ , غرضیکہ ہر چیز سے زیادہ محبت رسول پاک سے رکھیں گے - ہم نے حلف اٹھا رکھا ہے کہ جب ہمارے دین , ایمان کا تقاضہ ہو گا , ہم تلوار بھی اٹھائیں گے اور کفر کا راستہ روکیں گے -
باقی سارے حلف اسکے بعد ہیں -
میں ایک سوال حضرت سے پوچھنے کی جسارت کرتا ہوں , کہ کتنے لوگ مذھب کے نام پہ قتل کر کے آزاد ہو گئے , کتنے لوگ سالوں سے سزاے موت سن کر آج بھی زندہ ہیں - حضرت سے پوچھنا چاہوں گا کہ کیا ہمارا قانون اسلامی قانون سے مطابقت رکھتا ہے - کیا ہمارے جج اسلام کی شرائط پہ پورے اترتے ہیں - کیا اسلام گناہ کبیرہ کے مرتکب کو حکمرانی کی اجازت دیتا ہے -
شاید بہت سارے سوالوں کا جواب نہیں میں ہو گا -
آزاد ہاشمی

Tuesday, 30 May 2017

طارق جمیل کےنام

" محترم طارق جمیل کے نام "
آپکے لئے صحت کاملہ کی دعا کے ساتھ , چند گزارشات ہیں ۔ مجھے معلوم ہے کہ آپکے بہت سارے پیروکاروں کو ناگوار بھی گزریں گی ۔ آپ کی بھی سمع خراشی ہو گی ۔ اس بات کا اقرار بھی کرتا ہوں کہ آپ کی سعی سے ابلاغ کرنے والوں کو ایک رحجان ملا ہے ۔ بہت سارے لوگ اس دھارے سے جڑ گئے ہیں ۔ اسکا اجر اللہ کے پاس ہے ۔
کہنا یہ ہے ، آپ کی چند ایک کلپ ، سوشل میڈیا پہ دیکھیں  اور سنیں ۔ جس میں آپ ایسے ایسے واقعات ، روایات کا تذکرہ کرتے ہیں ، جو نہ پہلے کبھی سنیں ، نہ پڑھیں اور جو سراسر بے سروپا لگتی ہیں ۔ سمجھ نہیں آیا کہ آپ نے یہ سب تحقیق  کہاں سے کی اور کیوں کی ۔اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اپنی مبین و بلیغ کتاب میں قصص الانبیاء کو  بھی اختصار سے بیان فرمایا کیونکہ قران کا مقصد رہنمائی تھا ، قصہ گوئی نہیں ۔
  قران پاک کی تعلیمات کو آگے بڑھانا ، حکم ربی بھی ہے اور آج کی اشد ضرورت بھی ۔ کافر دلائل کی مانگتا ہے  اور انکے سوالات کا جواب قرآن اور اسوہ حسنہ سے دینا ضروری ہے ۔
جنت کا نقشہ ، حوروں کا قد کاٹھ جاننا , جنت میں حوریں کیا کریں گی اور جنتی کیا ، تو اسلام سے اگاہی نہیں ۔ معاشرتی زندگی میں اسلام کی افادیت معلوم ہونا ، قران کا جدید علوم پر عبور اور سائینسی علوم کا قران سے ثبوت  ، قوانین اسلام ، اسوہ حسنہ کی اگاہی ، ایسے کتنے موضوعات ہیں ، جن پہ تشنگی ہے ۔ اور اکثریت کچھ نہیں جانتی ۔
آپ کا ایک حلقہ احباب ہے ، لاکھوں لوگ آپ کی تقلید کرنے لگے ہیں ، ان سب کو حقیقی علم کی ضرورت ہے ، ان بے سروپا کہانیوں سے گمراہی کی راہ کھل رہی ہے ۔ جو آپ کہہ رہے ہیں  ،  آنے والے کم علم خطیب ان کو دہرائیں گے اور یہ قصے روایت کی شکل اختیار کر لیں گے ۔ یہ سب آنے والے وقت میں حوالے بن جائیں گے ۔ مہربانی کیجئے ۔  ان معروضات پہ توجہ فرمائیں ۔ آپ کی خطابت سے میں بھی متاثر ہوں آپ پایہ کے خطیب ہیں ۔ مگر محض خطابت کے جوش میں الفاظ کی اہمیت کو بھول جانا بھی شایان شان نہیں ۔
والسلام
ازاد ھاشمی

ماں جی! رمضان آگیا ہے

" ماں جی ! رمضان آگیا "
میں جب چھوٹا تھا تو روزہ رکھنے اور سحری پہ اٹھنے کی ضد کرتا تھا . روزہ رکھ کے سکول جانے لگتا تو ماں جی پاس بلا کر کان میں کہتیں , روزہ میرے پاس رکھ جاؤ , شام کو افطاری پہ لے لینا . میں روزہ ماں کے پاس امانت رکھتا اور روز شام کو واپس لے لیتا .
پھر وہ دن یاد ہے جب میری  ماں جی روزہ نہیں رکھ سکتی تھیں اور میں ہر افطاری پہ ان سے  کہتا , امی آپ کا روزہ میں نے رکھا تھا , اسے لے لیں اور افطاری کر لیں . وہ ہمیشہ مسکرا کر میری طرف دیکھتیں , میرے روح میں عجیب  سی لہر دوڑ جاتی . مجھے یقین ہو جاتا کہ میرا روزہ اللہ کے پاس قبولیت پا گیا . جب وطن سے دوری ہوئی تو جب بھی  رمضان  آتا  , فون کر کے پوچھا کرتیں . روزے رکھتے ہو تو میں ہر بار یہی کہتا , سارے روزے آپ کے لئے رکھتا ہوں . اور وہی روزہ قبول ہوتا ہے , جو آپ کے لئے رکھتا ہوں . وہ ہمیشہ مسکرا دیتیں . 
روزہ اب بھی رکھتا ہوں , روز سوچتا ہوں ماں جی سے کہوں گا . آ جائیں , رمضان آگیا .
ازاد ھاشمی

روزہ چور

" روزہ چور "
بازار کے چوراہے پر ایک ہجوم تھا . لوگ ایک خستہ حال شخص کو گھیرے کھڑے تھے . اس نے چند سوکھی روٹی کے ٹکڑے ھاتھ میں پکڑرکھے تھے . اپنے منہ کے پاس لے جاتا اور پھر واپس کر لیتا . لوگوں کیطرف دیکھ کر مسکراتا اور کبھی کہتا " روزہ کھول لوں " کبھی کہتا " روزہ پھر سے رکھ لوں "
بلا شبہ اسکی ذہنی حالت بہتر نہیں تھی . لوگ اسے دھتکار رہے تھے . کچھ کافر کہہ رہے تھے . کچھ روزہ چور , اور کچھ بہروپیہ سمجھ رہے تھے . کچھ کے نزدیک اسکی سزا . اسکی سخت پٹائی تھی , کچھ اسے پولیس کے حوالے کرنے پر تلے ہوئے تھے . ڈرامہ اپنے انجام کو پہنچ گیا . وہ زور سے زور سے رونے لگا . اور چیخ چیخ کر سب سے بول رہا تھا .
" یہ سوکھی روٹی , ایک خاندان کے لئے کافی نہیں . میں اس پر روزہ رکھ  کھول لوں تو میرے بچے بھوک سے مر جائیں گے . میں نے کئی دنوں کا روزہ رکھا ہے , روٹیاں چراتا تھا , اب رمضان آگیا ہے . آپ لوگ عبادت کے لئے روزہ رکھے بیٹھے ہو . میں روٹی چرا نہیں پا رہا . میرا پورا گھر روزے سے ہے , پانچ سال کی بچی بھی روزے سے ہے , آج یہ روٹی خیرات میں ملی ہے , سوچتا ہوں اس سے پھر روزہ رکھ لیں , یا آج روزہ کھول لیں "
وہ رونے لگا .
" ہے کوئی جو یہ بتا دے کہ میرا روزہ بھی عبادت ہے یا فاقہ . تمہارے روزے تو عبادت ہیں . اللہ روز قبول کرتا ہے اسی لئے روز تمہارے دستر خوان سجا دیتا ہے . میرا روزہ قبول کیوں نہیں کرتا "
" کل میری بچی , پرسوں میری بیوی اور پھر میں اسی روزے میں مر گئے تو کیا ہم شہید ہونگے "
" تم روزہ چوروں کو معاشرے میں پسند نہیں کرتے تو فاقہ کشوں ...."
وہ روئے جا رہا تھا .
" کچھ کام کیوں نہیں کرتے ہٹے کٹے ہو " ہجوم میں سے آواز آئی . اور پھر کئی آوازیں پوچھ رہی تھیں . کئی القاب دئے جا رہے تھے . ہجوم بکھرنے لگا . پھر وہ اکیلا آسمان کیطرف منہ کئے کھڑا تھا . ہاتھ میں سوکھی روٹی لئے . روزہ داروں کی بستی میں , عبادت گزاروں کے نگر میں , افطاریوں کے لمبے لمبے دستر خوان بچھانے والوں کے بیچ .
کیا وہ روزہ چور تھا یا سب روزے دار فاقہ کش تھے
ازاد ھاشمی