Thursday, 30 November 2017

ایک سال

" ایک سال "
پوری زندگی کے دکھ اور الجھنیں ایک طرف , اس ایک سال کا دکھ ایک طرف . پورا سال دل کو بہلانے کا ہر جتن ناکام . جی بھر کے ہنسنے کو دل ہی نہیں مانا . کھویا ہوا محبتوں کا خزانہ کہیں نظر ہی نہیں  آیا . چپکے چپکے آنکھیں گیلی کر لیتا ہوں اور چپکے چپکے سکھا لیتا ہوں . بہت دل کرتا ہے کہ ماں سے معمول کی ڈانٹ سنوں . مگر ماں اتنی دور چلی گئیں کہ نہ آواز آتی ہے نہ آواز جاتی ہے . مجھے وہ لمحہ بھولتا ہی نہیں . جب میری بیٹی نے میسج لکھا تھا . " دادی جان اب ہم میں نہیں رہیں " یہ وہ پیغام تھا جس پر یقین کرنے کو نہ دماغ حاضر تھا نہ دل مان رہا تھا . میں دیوانگی کی کیفیت میں کبھی ایک کو فون کرتا کبھی دوسرے کو . سب یہی کہہ رہے تھے جو میری بیٹی نے کہا . خود سے پوچھتے پوچھتے ایک سال ہو گیا کہ آخر امی جان کیوں چلی گئیں . کیا کمی تھی یہاں جو وہاں کا قصد کر لیا . مانتا ہوں کہ سب کو یونہی ایک روز جانا ہے . مگر ماں کا رشتہ ٹوٹ جانے سے اولاد بھی تو آدھی مر جاتی ہے . میں بھی سانس لیتا ہوں , مگر نہ پہلے کیطرح زندگی ہے , نہ امیدیں , نہ حالات سے سینہ سپر ہونے کی جرات . سب ہیں پھر بھی اکیلا ہوں . ذرہ سی تکلیف پہ سینکڑوں ہاتھ دعا کیلئے اٹھ جاتے ہیں . مگر پھر ماں جی کے دو لفظ " پریشان مت ہوا کر , سب ٹھیک ہو جائے گا " کی کمی دور نہیں ہوتی .
اے میرے اللہ , سب کی ماوں کو سلامت رکھنا . اور جن  ماوں کو تو نے بلا لیا ہے ان سب کو میری ماں کے ساتھ جنت میں اعلی مقام دینا . اے اللہ تجھے تیری رحمتوں کا واسطہ ہے میری دعا قبول فرما لے . آمین
ازاد ھاشمی

کیسی زبان بولتے ہو

" کیسی زبان بولتے ہو "
ختم رسالت کے تحفظ کی تحریک , اسکے مقاصد , اسکے اثرات اور دیگر ظاہر یا باطن پلان سے الگ ہو کر سوچنے سے جو تاثر قائم ہوتا ہے . وہ نہایت فکر انگیز ہے . علماء یا مذہبی رہنماء معاشرے کے انتہائی سلجھے ہوئے کردار کے حامل ہوں تو معاشرہ مثبت راستے کی طرف چلنے لگتا ہے . روحانی تربیت کے ذمہ دار , یہ لوگ ہمیشہ معتبر مقام رکھتے ہیں . آج کل جو زبان زد عام ہوئی ہے , سوشل میڈیا پر جس طرح کے کلپ نظر آتے ہیں . جسطرح یہ لوگ ایک دوسرے کی کردار کشی کرتے ہیں . انکے سامنے گلی محلے کے کن کٹے اور دادا گیر طفل مکتب دکھائی دیتے ہیں . شرم آتی ہے کہ اگر دوسرے مذاہب کے ماننے والے سنیں گے تو اسلام کے بارے میں کیا تاثر قائم کریں گے . پہلے کفر کے فتوے , پھر نام بگاڑنے کی روایت اور اب ننگی گالیاں .  کون یقین کرے گا کہ یہ لوگ حقیقی  اسلام لے آئیں گے .  الحفیظ الاماں .
ان لوگوں کی زباں سے جنہیں لوگ اپنا امیر مانتے ہیں , جب گالیاں سیکھنے کو ملیں گی تو مسلمانوں کی کیا تشخیص باقی رہے گی . سیاسی لوگوں کے بارے میں تو یہی سمجھا جاتا ہے کہ یہ کردار باختہ لوگ ہوتے ہیں . مگر علماء کے بارے میں اگر یہی تاثر قائم ہوگیا , جیسا کہ آغاز ہو گیا ہے , تو ہم دنیا کے سامنے کیا منہ دکھائیں گے . حیرانی ہوتی ہے جب چند نمازیں پڑھنے والا , مذہب کےابجد تک رسائی  نہ رکھنے والا منبر پر کھڑے ہو کر اللہ کے حبیب کا پیغام لیکر آتا ہے کہ رات کو نبی پاک نے یہ پیغام دیا ہے . میری ناقص سوچ کے مطابق اللہ کے حبیب کا خواب میں آنا تو
" بڑے کرم کی  بات ہے."
یہ سب علمیت نہیں جہالت کے اشارے ہیں . خدا را , اسلام  کے ساتھ تو اوائل ہی سے کھیل شروع ہو گیا تھا , جب ملوکیت کی بنیاد رکھ دی گئی تھی , جب آل رسول کو یکے بعد دیگرے رستے سے ہٹانے کا رحجان قائم ہو گیا  تھا . جب قران پر یہ رائے باندھ لی گئی  تھی کہ قران سمجھنے کیلئے امدادی کتابوں پر انحصار لازمی ہے اور پھر یہی کتابیں اصل اسلام کی سند بن گئیں . اور باور کرایا جانے لگا کہ  کتابوں کے بغیر قرآن سے کچھ حاصل نہیں ہو گا .
تحمل اور باہمی یگانگت سے مل بیٹھ کر " طاغوت کے نظام " کے خلاف آواز بلند کرنے کی اشد ضرورت ہے . اسکے لئے پہلا قدم زبان کو اخلاقیات کی حد میں رکھنا ہو گا .
اللہ کرے یہ سمجھ آ جائے .
ازاد ھاشمی.

مولانا خادم حسین کے نام

" مولانا خادم حسین کے نام "
اللہ آپ کو حب رسول صل اللہ علیہ وسلم کی مزید سرشاری عطا فرمائے . میرے ماموں کے بیٹے اور میرے گاوں کے بہت سارے نوجوان آپ کے دستے میں شامل نظر آئے . حب رسول ( ص) اعزاز ہے . آپ کے ولولے کی مثبت باتیں اپنی جگہ مسلم ہیں . مگر جذبات کا ہوش پر غالب آ جانا , اس تدبر سے بعید ہے جو آپ ( ص) کی تعلیمات اور اسوہ ہیں . زبان سے کسی کو آزار دینا بھی اسلامی تعلیمات سے نا آشنائی نظر آتی ہے . مقصد کتنا بھی صالح ہو اسکی تشریح گالم گلوچ سے اتنی موثر نہیں ہوتی , جتنی حسن خلق سے ہو جاتی ہے . غالب امکان ہے کہ آپ کی جماعت اس سیاسی میدان میں کودے گی , جس کی بنیاد یہودی کا نظام انتخاب " جمہوریت " ہے . گویا آپ پوری سعی سے اس نظام کی آبیاری کریں گے . کاش ! آپ صرف نظام اسلام کیطرف ہو جائیں . دوسری بات کہ آپ انتخابات میں سنی مسلک کی چھتری استعمال کریں گے . چلیں , اس چھتری تلے آپ اقتدار کی کرسی تک پہنچ  جاتے ہیں . اسکے بعد آپ کا پورا زور سنی مسلک  کے فقہ پر ہو گا .  تقاضا کیا جائے گا کہ آپ سنی مسلک کے فقہ کو اولیت دیں اور آپ ایسا ہی کریں گے . اس موقع پر باقی تمام مسالک کبھی قبول نہیں کریں گے . پھر وہی مروجہ دھرنے , احتجاج اور شدت پسندی سامنے آئیگی . کیا یہ کوشش فساد کی طرف نہیں لے جائے گی . کیا فساد اسلام کی تعلیمات کی نفی نہیں ہو گی .
کیا بہتر نہیں کہ آپ اسلامی نظام کا نعرہ لے کر اٹھیں . جس میں اخلاص کے ساتھ سب مسالک کو ساتھ شامل کریں . اقلیتوں کو امن اور انکے بنیادی حقوق کی پوری ضمانت دیں . جیسے اسوہ حسنہ ہے .
کیا آپ کا مزاج اس تحمل کا ثبوت دے گا . کیا دھرنے والی زبان , اگر آپ کی عادت نہیں بن چکی تو آپ کنٹرول کر لیں گے .
امید ہے اس تحریر کو مثبت انداز میں پڑھا اور سمجھا جائے گا .
ازاد ھاشمی

اگر جج زندہ ہوتے

" اگر جج زندہ ہوتے "
ہمارے وطن کا  اصل المیہ عدل اور انصاف  کا فقدان ہے . جس ملک کے عدل کرنے والے کرپٹ ہو جائیں , وہ ملک ہر طرح کی  برائیوں کا مرکز بن جاتا ہے . جب قاضی بکنے لگے اور عدل نیلام ہونا شروع ہو جائے تو  سمجھ لیں کہ وطن بربادی کے راستے پہ چل نکلا ہے . پھر نہ حقوق باقی رہ جاتے ہیں اور نہ حب الوطنی . ہمارے اکثر جج صاحبان دولت اور دھن کی ہوس کا شکار ہو چکے ہیں . انہیں قانون سے زیادہ اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرنے کا چسکا پڑ چکا ہے . کیونکہ سودا بازی کیلئے سب سے زیادہ کارگر ہتھیار ہی صوابدیدی اختیارات ہیں . عدلیہ کے جج صاحبان قوم کے ساتھ عدل کے نام پر جو ظلم روا رکھے ہوئے ہیں , اسکی دلیل کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ بےقصور پھانسی کے پھندے پہ جھول جاتے ہیں , اگر انکے ہاتھ لمبے نہ ہوں اور قصور وار عدالت کی عزت بانس پر چڑھا دیتے ہیں , اگر اقتدار اور طاقت ہاتھ میں ہو . جسکی مثال موجود ہے . طاقتور کیلئے نہ کوئی توہین عدالت ہے اور نہ کوئی جرم . غریب کیلئے نہ کوئی عزت ہے نہ بنیادی حقوق .
ابھی دو روز پہلے فساد کو روکنے کیلئے فوج کے ایک جنرل نے ثالثی کی , جبکہ وہ طاقت بھی استعمال کر سکتا تھا . جسٹس صاحب کو برا لگا . شاید اسلئے کہ کریڈٹ فوج کیوں لے گئی . یا شاید اسلئے کہ فساد کیوں رک گیا . دونوں صورتوں میں اگر جنرل کے اختیارات سے ثالثی ماورا تھی تو عدالت کو قانون کے تحفظ کی خاطر بیانات جاری کرنے کی بجائے نوٹس بھیجنے چاہئے تھے . قوم بھی مانتی کہ جسٹس صاحب جرات مند ہیں . عدل کی تاریخ میں ایک سنگ میل قائم ہو جاتا . آئیندہ کوئی جنرل سو بار سوچتا . یا پہلے جسٹس صاحب کے ہاں حاضری دے کا اجازت طلب کرتا .
ایک سوال پوچھنا  ضروری لگتا ہے کہ اگر پولیس ایسے بگڑے ہوئے حالات کو کنٹرول کر سکتی  ہے تو فوج کو طلب ہی کیوں کیا جاتا ہے . پولیس کی ناکامی کی صورت میں جسٹس صاحب کیسے کنٹرول کرتے کوئی دلیل کوئی طریقہ کوئی گر یا کوئی دعا  بتادیں . فوج سے یہ ہی توقع کیوں کہ وہ بوٹ اور بندوق کی زبان ہی میں بات کریں . وہ بھی تو اخلاقی مصلحت کی راہ چن سکتے ہیں .
اللہ رحم کرے محترم جسٹس صاحب پر , اور انکی تاریخ میں امر ہونے کی آرزو پوری ہو جائے .
ازاد ھاشمی

ہر مسلمان سے ایک سوال

" ہر مسلمان سے ایک سوال "
الحمدوللہ ہم کو اللہ نے اس امت میں ہونے کا شرف بخشا . جو اسکے حبیب کی امت ہے . اللہ کے انعامات میں سے قران بھی ایسا انعام ہے جو ہماری ہدایت کی غرض سے نازل  بھی فرمایا  اور اسکی حفاظت کا ذمہ بھی اٹھایا . اسی پاک کتاب میں کھلے لفظوں میں حکم دیا .
" واعتصمو بحبل اللہ  جمیعا و لا تفرقو  " اللہ کی رسی کو  اکٹھے ہوکر , مل کر , ایک جماعت بن کے مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تفرقہ مت ڈالو . گروہ در گروہ مت ہو جاو . کیا اللہ کے اس حکم کو سمجھنے کیلئے کسی مزید وضاحت کی ضرورت تھی . کیا اس سیدھی سی  بات کیلئے صرف و نحو پڑھنا لازم تھا . کیا ہمیں کسی محقق , مفسر , مجتہد یا فلسفی کی ضرورت تھی کہ آکر ہمیں سمجھا جائے کہ اس آیت کا مطلب کیا ہے . کیا یہ آیت گروہوں میں بٹنے کی نفی  نہیں کرتی . پھر ہمیں کیوں خیال نہیں آیا کہ یہ مذہب کے شناسا ہمیں کدھر لے کر جا رہے ہیں . پھر جو ہم کلمہ گو , ایک رب اور ایک رسول کو ماننے والے ہیں , ایک کتاب کو پڑھنے اور سیکھنے والے فرقوں میں کیسے بٹ گئے . کیا جن کو ہم نے امام مان لیا تھا , انہوں نے ہمیں اللہ کے اس حکم کی ہدایت کیوں نہیں کی . ہمیں فروعات میں کیوں الحھایا گیا . ہم  حدیث والے , سنت والے , بریلی کے مدرسے والے , دیوبند کے مدرسے والے , آل رسول والے , امام ابو حنیفہ , امام مالک , امام حنبل , امام شافعی کے مقلدین بن کر الگ الگ کیوں ہو گئے .
کتنا اچھا ہوتا ہم اللہ  کے حکم کو اور رسول پاک کے حکم کو اولیت دیتے . اگر ایسا ہو جاتا تو مسلمان ملکوں کی سرحدیں یوں دیواریں نہ اٹھا لیتیں . مسالک کی بنیاد پر بےشمار اختلافات نے مسلمانوں کو کمزور کیا . سوال پوچھنے کی  جسارت کر رہا ہوں , ہر ذی شعور سے کہ کیا ہم سب کی
ذمہ داری نہیں کہ اس تفرقے کی دیوار کو راستوں سے ہٹا دیں . در گذر کی عادت اختیار کر کے فروعات سے دور ہو جائیں .
ازاد ھاشمی

گھر مت جلاو

" گھر مت جلاو"
کسی ایک مرحلے پہ , کسی ایک معاملے میں نظر نہیں آتا کہ قادیانیوں نے دھرنے کے خلاف کوئی ایک بیان دیا ہو . حکومت نے جو بھی آئین میں تبدیلی کی , اس میں قادیانیوں کی کوئی ایماء تھی . اسمبلی میں تو ایک بھی نمائیندہ ایسا نہیں , جسکے قادیانی ہونے کا ثبوت ہو . کیونکہ میری معلومات کے مطابق , وہ انتخابات میں حصہ ہی نہیں لیتے . بفرض محال ایسی کوئی سازش ہوئی تھی تو حکمرانوں کو اور اسمبلی میں بیٹھے ممبران کو چاہئیے تھا کہ وہ قوم کو بھی اگاہ کرتے اور اسمبلی کو بھی کہ فلاں ممبر قادیانی ہے . فوج , پولیس یا دیگر ایجینسیوں میں اگر کلیدی عہدوں پر کوئی قادیانی تھا اور اس کی ایماء پر یہ سازش ہوئی ہے تو قوم کا فرض ہے کہ اسے پبلک میں سامنے لایا جائے . قادیانی پاکستان کے اندر کسی سیاسی کھیل کا حصہ نظر نہیں آتے . پھر کیا جواز ہے کہ ایکشن عدالت لے , اس پر عمل پولیس یا دیگر ادارے کریں .  گھر , جائیدادیں  اور کاروبار قادیانیوں کا برباد کر دیا جائے . اسلام انکو پورا تحفظ دیتا ہے کہ انکے جان , مال اور آبرو کی حفاظت کی جائے . تحفظ ختم نبوت کو قادیانیوں نے سبوتاژ کیا ہے تو آئین کے مطابق ایکشن لیا جائے . قادیانی پوری دنیا کے کونے کونے میں , بغیر کسی الجھن کے اپنے عقائد کے مطابق سکون سے جی رہے ہیں . پھر انہیں کیا ضرورت آن پڑی تھی کہ خاموش سلگتی آگ کو الاو میں تبدیل کرکے اپنے گھروں کو جلانے کا اہتمام کرتے .
قوم کو اچھی طرح سمجھنا ہو گا کہ سازش کا محرک کون ہے . اس سارے کھیل کے سارے مہرے اسلام کی محبت کا پرچار کرتے تو نظر آتے ہیں , مگر یہ سارے جمہوریت کے گود میں بیٹھنے والے لوگ ہیں . بہت جلد سب کے سب انتخابات میں کود پڑیں گے . جبکہ یہ انتخابات اسلامی طرز پر نہیں ہونگے . اللہ کے حبیب صل اللہ علیہ وسلم کی محبت کا تقاضا ہے کہ زندگی کے ہر شعبے میں اسوہ حسنہ کو اپنا لیا جائے . زبان سے مغلظات , ہاتھ سے کسی کو آزار دینا , اسوہ حسنہ سے سرکشی ہے . اپنے اپنے عقائد کیلئے جدوجہد سب کا حق ہے . بشرطیکہ وہ فساد کی آگ نہ پھیلاتا ہو . امید کرتا ہوں کہ دوست اسے مثبت انداز سے پڑھیں گے .
ازاد ھاشمی 

جمہوری فیصلے

" جمہوری فیصلے "
ہم بھی عجیب قوم ہیں . اللہ پاک کی تسبیح کرتے ہیں , اسے رب العالمین مانتے ہیں مگر اسکے احکامات کی  قطعی پرواہ نہیں کرتے . ختم نبوت کا تحفظ کرنے میں جان دینے کیلئے تیار ہیں  مگر خاتم الانبیاء کے اسوہ سے کوسوں دور ہیں . آل رسول صل اللہ علیہ وسلم سے محبت میں سرشاری دکھاتے ہیں مگر یزیدیت کے ساتھ کھڑے ہیں . جمہوریت اگر غنڈوں کی ہے تو غنڈہ راج پر سیخ پا ہو جاتے ہیں , پھر انہی غنڈوں کو ووٹ بھی دیتے ہیں . جمہوریت جو فیصلے کرتی ہے , اگر اپنی طبیعت سے ملتے جلتے ہوں تو فیصلے مان لیتے ہیں . اگر اپنی طبیعت سے متضاد ہوں تو سڑکوں پر آ کر فساد پھیلانے سے بھی نہیں چوکتے , بھلے آپ کے ساتھ چند لوگ ہی کیوں نہ ہوں . جو مسلک اقلیت میں ہے جمہوری طرز پر اکثریت والے مسالک انہیں کافر قرار دے دیں تو وہ کفر کی زد میں آ گئے . یہ وہ خرابی ہے جس سے سارا نظام , امن و آشتی اور معاشرتی یگانگت تباہ ہو کر رہ گئی . حسین علیہ السلام کے ساتھ چند جانثار تھے , جبکہ یزید ملعون اکثریت میں تھا . جمہوریت کی کسوٹی پر یزید درست سمجھا جاتا ہے , جبکہ اسلام کے قواعد کے مطابق وہ ظالم اور سراسر غلط تھا . آج کسی مائی کے لال کی جرات نہیں کہ چوروں کے سامنے کھڑا ہو کے کہہ سکے کہ مذہب کے فیصلے قران اور سنت سے کئے جائیں . جمہوریت کسی کو نہ کافر کرے نہ مسلمان بنائے . ہم وہ بیوقوف لوگ ہیں کہ اپنا نظام ہوتے ہوئے , ایسے نظام کی پرستش کرنے لگے ہیں . جس کی روایت سر گننا ہے معیار نہیں . جبکہ اسلام  معیار کی بنیاد پر فیصلوں کو لازم سمجھتا ہے اور اسی کا حکم دیتا ہے .
ہم بہت کچھ کھو چکے ہیں . اب وقت ہے کہ شعور سے کام لیا جائے اور اپنی ماضی کی کوتاہیوں کا ازالہ کریں .
ازاد ھاشمی

اللہ سے ڈرو

" اللہ سے ڈرو "
مصر میں ایک مسجد میں , ایک ہی وقت میں کئی دھماکے , جس سے دو اڑھائی سو لوگ شہید ہوئے . کہا جاتا ہے کہ جو بچ گئے انہیں مسجد سے باہر نکلتے ہی گولیوں سے بھون دیا گیا . یہ خبر ایک دوست نے پوسٹ میں لگائی . اب اس پر تبصرہ کرنے والے کچھ پکے مسلمانوں نے , سوچے سمجھے بغیر اسے اہل تشیع کے سر تھوپ دیا . مظلوم حسین علیہ السلام کے ماننے والے کبھی ظالم نہیں ہو سکتے - اور جو ظالم ہو گا اسکا اہل بیت سے کوئی واسطہ ہی نہیں . جس احمق نے شیعہ سنی کی آگ بھڑکانے کی کوشش کی ہے . یہ وہ لوگ ہیں , جن کا نہ اسلام سے کوئی تعلق ہے اور نہ وہ سنی ہیں اور نہ ہی شیعہ . تمام ائمہ کی تعلیم میں فساد کی کوئی گنجائش نہیں . یہ مسالک کی تعلیمات بھی نہیں کہ ایک دوسرے پر بہتان لگایا جائے . ایک دوسرے کو آزار پہنچایا جائے . جو ایسا سوچتے ہیں یا ایسی سوچ کی حمایت کرتے ہیں انکا کسی بھی مسلک سے تعلق نہیں .
جس دل میں بھی اسلام ہے وہ نہ ظالم ہو سکتا اور نہ ایسے گھناونے کھیل کھیل سکتا ہے . ایسا تاثر چھوڑنے والے کفار کے ساتھی ہیں . اور تمام مسالک والوں کو ایسے لوگوں کا سختی سے نوٹس لینا ہو گا .
اگر مسالک کے درمیان ہم آہنگی آ جائے تو یہ ایک دوسرے کے محافظ بن جائیں گے . پھر کس کی مجال کہ مقدس مقامات میں بم چلائے . فساد پھیلانا شیطان کا کام ہے . وہ انسان سے بدلہ لینا چاہتا ہے . فساد پھیلانے کی  تحریک جو بھی کرے اسے شیطان سمجھنا چاہیئے . یہی ہم سب کی بھلائی کیلئے لازم ہے .
ازاد ھاشمی

فوجی اور مجاہد

" فوجی اور مجاہد "
قوم اور وطن کی حفاظت کا فریضہ ایک اعزاز ہے . صرف حکمرانوں کی حفاظت اور انکے مفادات کی نگہبانی کرنا باعث شرم ہے . کیونکہ حلف لیتے وقت وطن عزیز کی حفاظت کی ذمہ داری قبول کی جاتی ہے , نہ کی حکمرانوں کی غلامی . یہ وہ اصل حقیقت ہے جس سے ہماری فوج کے ہر فوجی کو اگاہ ہونا ضروری ہے . چاہے  وہ افسر ہو , جنرل ہو یا سپاہی .  راشد منہاس کو نشان حیدر اسلئے ملا کہ اس نے اپنے سنئیر کی وطن عزیز کیخلاف حکم عدولی کی . حالانکہ یہ فوج کے ڈسپلن کے منافی سمجھا جاتا ہے , مگر اسکے نشان حیدر سے یہ ڈسپلن کا عروج مانا گیا , اسی لئے اسے نشان حیدر دیا گیا کہ وطن عزیز کے خلاف ہونے والے کسی بھی حکم کو نہ ماننا جائز ہے . کیونکہ وطن عزیز کی سلامتی اولین ہے . اگر اسے اصول مان لیا جاتا تو شاید وطن کے خلاف کسی سازش کی نوبت ہی نہ آتی . شاید وطن کو بے دریغ لوٹنے  کا رحجان پیدا ہی نہ ہوتا . آج پولیس کے جوان اور افسران , سول سروس کے دیانتدار افسران , فوج کے افسران اور سپاہی حتی کہ ملک کے حق میں بولنے والے کسی بھی شخص کی نہ جان محفوظ ہے , نہ مال اور نہ عزت و آبرو . کیوں .
محض اسلئے کہ مقتدر لوگوں کو سلیوٹ کرنا فرض اور انکی لوٹ مار کو روکنا فرض نہیں رہا . فوجی اور مجاہد میں بس یہی فرق ہے کہ فوجی نے خود کو حکمرانوں کے حکم کے تابع کر لیا ہے . جبکہ مجاہد اللہ کے حکم کے تابع رہتا ہے . ہم عہد تو اللہ کے سامنے لیتے ہیں اور پھر کرتے وہی ہیں جو حکمران کہے . اپنے فرائض سے پہلو تہی کی وجہ سے لوٹ مار کو عروج ملا . دہشت گردی کا جن بے قابو ہو گیا . اور روز کسی نہ کسی کا سہاگ لٹنے لگا . روز یتیمی کا سایہ معصوموں کے سر پر چھانے لگا . روز ماوں کے جگر گوشے مٹی اوڑھنے لگے . اے کاش ! میرے وطن کے سارے جرنیل , سارے کرنیل , سارے پولیس اور اداروں کے سربراہ خود کو مجاہد سمجھ لیں . وہی حکم مانیں , جسکی اجازت انکا حلف دیتا ہو . سب کی روزی , سب کی نوکری اور افسری اللہ کا انعام ہے . پھر اللہ کی رضا کے مطابق کام بھی کریں . وگرنہ انکے اعمال کا حساب ان سے یہاں بھی ہو گا , وہاں بھی . انکے سامنے جلائی گئی آگ آنے والے وقت میں انکی نسلوں کو بھی جلائے گی . فوجی نہ بنے رہیں مجاہد بن جائیں .
ازاد ھاشمی

گنتی تو یاد ہو گی

" گنتی تو یاد ہوگی "
مشرقی پاکستان بننے جا رہا تھا , تو ہمارے پاس ایک دلیل باقی تھی کہ ہم یہ جنگ کبھی نہیں ہارتے , اگر پاکستان سے دوری نہ ہوتی . مکتی باہنی کی کامیابی ہماری کمزوری نہیں تھی , یہ مقامی لوگوں کی غداری تھی , جس نے ہمیں جنگ ہارنے پر مجبور کیا . پاکستان کی بہادر افواج کی قابلیت اور ذہانت کی پوری دنیا مداح رہی . عوام کے دلوں کی محبت کا تصور بھی ممکن نہیں , جو پاک فوج سے اسوقت تھی . مجھے یاد ہے کہ مجھے اپنے ایک ساتھی افسر کے ساتھ , جنگ رکنے کے بعد تیسرے روز لاہور شہر میں داتا صاحب کے ایریا میں آنا پڑا . ہم دونوں محاذ پر کیما فلاج کی  حالت میں ہی شہر آ گئے . لوگ دیوانہ وار  پھولوں کے ہار لا لا کر ہمارے گلے میں ڈالتے رہے . مجھے وہ بوڑھی ماں بہت یاد آتی ہیں جو ہم دونوں کو بار بار گلے لگاتی رہیں اور دعائیں دیتی رہیں . کبھی ماتھا چومتیں , کبھی گال اور کبھی وردی . پھر پاکستان کی شرمناک شکست کے بعد , کبھی وردی میں شہر کیطرف آنے کی جرات نہیں ہوئی .
اب پاکستان کی ان حدود کے اندر , جہاں نہ مکتی باہنی ہے , نہ زمینی فاصلے وجہ ہیں . جہاں چپہ چپہ پاکستانی فوج کی دسترس میں ہے . مٹھی بھر دہشت گرد , جن کے وسائل کسی طور ہماری فوج کے برابر نہیں . سمجھ سے بالاتر ہے کہ ہر دوسرے تیسرے روز کسی نہ کسی افسر کی شہادت کی خبر مل جاتی ہے . اسے کیا کہنا چاہیئے . میرے بہادر فوج کے سالاروں کو ان شہداء کی گنتی تو یاد ہو گی . اس دہشت گردی کو طول ملنے کا کوئی تو سبب ہوگا . میری اور آپکی بہنیں , بیٹیاں کب تک سہاگ لٹاتی رہیں گی . مائیں کب تک اپنی اجڑتی کھوکھ پر روتی رہیں گی . معصوم بچے کب تک یتیم ہوتے رہیں گے . اس کھیل کا آخری راونڈ کھیلنے میں تردد کیوں . آج فوج پر قوم کو کتنا بھروسہ باقی  رہ گیا ہے . اب  کتنے افسروں اور جوانوں کے گلے میں قوم ہار ڈالتی ہے . کبھی وقت ملے تو ضرور سوچیں . کبھی خیال آئے تو اس کھیل کو آخری بار کھیل جائیں . قوم کے تھکنے کا انتظار نہ کریں .
ازاد ھاشمی