" گھر مت جلاو"
کسی ایک مرحلے پہ , کسی ایک معاملے میں نظر نہیں آتا کہ قادیانیوں نے دھرنے کے خلاف کوئی ایک بیان دیا ہو . حکومت نے جو بھی آئین میں تبدیلی کی , اس میں قادیانیوں کی کوئی ایماء تھی . اسمبلی میں تو ایک بھی نمائیندہ ایسا نہیں , جسکے قادیانی ہونے کا ثبوت ہو . کیونکہ میری معلومات کے مطابق , وہ انتخابات میں حصہ ہی نہیں لیتے . بفرض محال ایسی کوئی سازش ہوئی تھی تو حکمرانوں کو اور اسمبلی میں بیٹھے ممبران کو چاہئیے تھا کہ وہ قوم کو بھی اگاہ کرتے اور اسمبلی کو بھی کہ فلاں ممبر قادیانی ہے . فوج , پولیس یا دیگر ایجینسیوں میں اگر کلیدی عہدوں پر کوئی قادیانی تھا اور اس کی ایماء پر یہ سازش ہوئی ہے تو قوم کا فرض ہے کہ اسے پبلک میں سامنے لایا جائے . قادیانی پاکستان کے اندر کسی سیاسی کھیل کا حصہ نظر نہیں آتے . پھر کیا جواز ہے کہ ایکشن عدالت لے , اس پر عمل پولیس یا دیگر ادارے کریں . گھر , جائیدادیں اور کاروبار قادیانیوں کا برباد کر دیا جائے . اسلام انکو پورا تحفظ دیتا ہے کہ انکے جان , مال اور آبرو کی حفاظت کی جائے . تحفظ ختم نبوت کو قادیانیوں نے سبوتاژ کیا ہے تو آئین کے مطابق ایکشن لیا جائے . قادیانی پوری دنیا کے کونے کونے میں , بغیر کسی الجھن کے اپنے عقائد کے مطابق سکون سے جی رہے ہیں . پھر انہیں کیا ضرورت آن پڑی تھی کہ خاموش سلگتی آگ کو الاو میں تبدیل کرکے اپنے گھروں کو جلانے کا اہتمام کرتے .
قوم کو اچھی طرح سمجھنا ہو گا کہ سازش کا محرک کون ہے . اس سارے کھیل کے سارے مہرے اسلام کی محبت کا پرچار کرتے تو نظر آتے ہیں , مگر یہ سارے جمہوریت کے گود میں بیٹھنے والے لوگ ہیں . بہت جلد سب کے سب انتخابات میں کود پڑیں گے . جبکہ یہ انتخابات اسلامی طرز پر نہیں ہونگے . اللہ کے حبیب صل اللہ علیہ وسلم کی محبت کا تقاضا ہے کہ زندگی کے ہر شعبے میں اسوہ حسنہ کو اپنا لیا جائے . زبان سے مغلظات , ہاتھ سے کسی کو آزار دینا , اسوہ حسنہ سے سرکشی ہے . اپنے اپنے عقائد کیلئے جدوجہد سب کا حق ہے . بشرطیکہ وہ فساد کی آگ نہ پھیلاتا ہو . امید کرتا ہوں کہ دوست اسے مثبت انداز سے پڑھیں گے .
ازاد ھاشمی
Thursday, 30 November 2017
گھر مت جلاو
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment