" کیسی زبان بولتے ہو "
ختم رسالت کے تحفظ کی تحریک , اسکے مقاصد , اسکے اثرات اور دیگر ظاہر یا باطن پلان سے الگ ہو کر سوچنے سے جو تاثر قائم ہوتا ہے . وہ نہایت فکر انگیز ہے . علماء یا مذہبی رہنماء معاشرے کے انتہائی سلجھے ہوئے کردار کے حامل ہوں تو معاشرہ مثبت راستے کی طرف چلنے لگتا ہے . روحانی تربیت کے ذمہ دار , یہ لوگ ہمیشہ معتبر مقام رکھتے ہیں . آج کل جو زبان زد عام ہوئی ہے , سوشل میڈیا پر جس طرح کے کلپ نظر آتے ہیں . جسطرح یہ لوگ ایک دوسرے کی کردار کشی کرتے ہیں . انکے سامنے گلی محلے کے کن کٹے اور دادا گیر طفل مکتب دکھائی دیتے ہیں . شرم آتی ہے کہ اگر دوسرے مذاہب کے ماننے والے سنیں گے تو اسلام کے بارے میں کیا تاثر قائم کریں گے . پہلے کفر کے فتوے , پھر نام بگاڑنے کی روایت اور اب ننگی گالیاں . کون یقین کرے گا کہ یہ لوگ حقیقی اسلام لے آئیں گے . الحفیظ الاماں .
ان لوگوں کی زباں سے جنہیں لوگ اپنا امیر مانتے ہیں , جب گالیاں سیکھنے کو ملیں گی تو مسلمانوں کی کیا تشخیص باقی رہے گی . سیاسی لوگوں کے بارے میں تو یہی سمجھا جاتا ہے کہ یہ کردار باختہ لوگ ہوتے ہیں . مگر علماء کے بارے میں اگر یہی تاثر قائم ہوگیا , جیسا کہ آغاز ہو گیا ہے , تو ہم دنیا کے سامنے کیا منہ دکھائیں گے . حیرانی ہوتی ہے جب چند نمازیں پڑھنے والا , مذہب کےابجد تک رسائی نہ رکھنے والا منبر پر کھڑے ہو کر اللہ کے حبیب کا پیغام لیکر آتا ہے کہ رات کو نبی پاک نے یہ پیغام دیا ہے . میری ناقص سوچ کے مطابق اللہ کے حبیب کا خواب میں آنا تو
" بڑے کرم کی بات ہے."
یہ سب علمیت نہیں جہالت کے اشارے ہیں . خدا را , اسلام کے ساتھ تو اوائل ہی سے کھیل شروع ہو گیا تھا , جب ملوکیت کی بنیاد رکھ دی گئی تھی , جب آل رسول کو یکے بعد دیگرے رستے سے ہٹانے کا رحجان قائم ہو گیا تھا . جب قران پر یہ رائے باندھ لی گئی تھی کہ قران سمجھنے کیلئے امدادی کتابوں پر انحصار لازمی ہے اور پھر یہی کتابیں اصل اسلام کی سند بن گئیں . اور باور کرایا جانے لگا کہ کتابوں کے بغیر قرآن سے کچھ حاصل نہیں ہو گا .
تحمل اور باہمی یگانگت سے مل بیٹھ کر " طاغوت کے نظام " کے خلاف آواز بلند کرنے کی اشد ضرورت ہے . اسکے لئے پہلا قدم زبان کو اخلاقیات کی حد میں رکھنا ہو گا .
اللہ کرے یہ سمجھ آ جائے .
ازاد ھاشمی.
Thursday, 30 November 2017
کیسی زبان بولتے ہو
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment