Thursday, 30 November 2017

جمہوری فیصلے

" جمہوری فیصلے "
ہم بھی عجیب قوم ہیں . اللہ پاک کی تسبیح کرتے ہیں , اسے رب العالمین مانتے ہیں مگر اسکے احکامات کی  قطعی پرواہ نہیں کرتے . ختم نبوت کا تحفظ کرنے میں جان دینے کیلئے تیار ہیں  مگر خاتم الانبیاء کے اسوہ سے کوسوں دور ہیں . آل رسول صل اللہ علیہ وسلم سے محبت میں سرشاری دکھاتے ہیں مگر یزیدیت کے ساتھ کھڑے ہیں . جمہوریت اگر غنڈوں کی ہے تو غنڈہ راج پر سیخ پا ہو جاتے ہیں , پھر انہی غنڈوں کو ووٹ بھی دیتے ہیں . جمہوریت جو فیصلے کرتی ہے , اگر اپنی طبیعت سے ملتے جلتے ہوں تو فیصلے مان لیتے ہیں . اگر اپنی طبیعت سے متضاد ہوں تو سڑکوں پر آ کر فساد پھیلانے سے بھی نہیں چوکتے , بھلے آپ کے ساتھ چند لوگ ہی کیوں نہ ہوں . جو مسلک اقلیت میں ہے جمہوری طرز پر اکثریت والے مسالک انہیں کافر قرار دے دیں تو وہ کفر کی زد میں آ گئے . یہ وہ خرابی ہے جس سے سارا نظام , امن و آشتی اور معاشرتی یگانگت تباہ ہو کر رہ گئی . حسین علیہ السلام کے ساتھ چند جانثار تھے , جبکہ یزید ملعون اکثریت میں تھا . جمہوریت کی کسوٹی پر یزید درست سمجھا جاتا ہے , جبکہ اسلام کے قواعد کے مطابق وہ ظالم اور سراسر غلط تھا . آج کسی مائی کے لال کی جرات نہیں کہ چوروں کے سامنے کھڑا ہو کے کہہ سکے کہ مذہب کے فیصلے قران اور سنت سے کئے جائیں . جمہوریت کسی کو نہ کافر کرے نہ مسلمان بنائے . ہم وہ بیوقوف لوگ ہیں کہ اپنا نظام ہوتے ہوئے , ایسے نظام کی پرستش کرنے لگے ہیں . جس کی روایت سر گننا ہے معیار نہیں . جبکہ اسلام  معیار کی بنیاد پر فیصلوں کو لازم سمجھتا ہے اور اسی کا حکم دیتا ہے .
ہم بہت کچھ کھو چکے ہیں . اب وقت ہے کہ شعور سے کام لیا جائے اور اپنی ماضی کی کوتاہیوں کا ازالہ کریں .
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment