Thursday, 30 November 2017

اگر جج زندہ ہوتے

" اگر جج زندہ ہوتے "
ہمارے وطن کا  اصل المیہ عدل اور انصاف  کا فقدان ہے . جس ملک کے عدل کرنے والے کرپٹ ہو جائیں , وہ ملک ہر طرح کی  برائیوں کا مرکز بن جاتا ہے . جب قاضی بکنے لگے اور عدل نیلام ہونا شروع ہو جائے تو  سمجھ لیں کہ وطن بربادی کے راستے پہ چل نکلا ہے . پھر نہ حقوق باقی رہ جاتے ہیں اور نہ حب الوطنی . ہمارے اکثر جج صاحبان دولت اور دھن کی ہوس کا شکار ہو چکے ہیں . انہیں قانون سے زیادہ اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرنے کا چسکا پڑ چکا ہے . کیونکہ سودا بازی کیلئے سب سے زیادہ کارگر ہتھیار ہی صوابدیدی اختیارات ہیں . عدلیہ کے جج صاحبان قوم کے ساتھ عدل کے نام پر جو ظلم روا رکھے ہوئے ہیں , اسکی دلیل کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ بےقصور پھانسی کے پھندے پہ جھول جاتے ہیں , اگر انکے ہاتھ لمبے نہ ہوں اور قصور وار عدالت کی عزت بانس پر چڑھا دیتے ہیں , اگر اقتدار اور طاقت ہاتھ میں ہو . جسکی مثال موجود ہے . طاقتور کیلئے نہ کوئی توہین عدالت ہے اور نہ کوئی جرم . غریب کیلئے نہ کوئی عزت ہے نہ بنیادی حقوق .
ابھی دو روز پہلے فساد کو روکنے کیلئے فوج کے ایک جنرل نے ثالثی کی , جبکہ وہ طاقت بھی استعمال کر سکتا تھا . جسٹس صاحب کو برا لگا . شاید اسلئے کہ کریڈٹ فوج کیوں لے گئی . یا شاید اسلئے کہ فساد کیوں رک گیا . دونوں صورتوں میں اگر جنرل کے اختیارات سے ثالثی ماورا تھی تو عدالت کو قانون کے تحفظ کی خاطر بیانات جاری کرنے کی بجائے نوٹس بھیجنے چاہئے تھے . قوم بھی مانتی کہ جسٹس صاحب جرات مند ہیں . عدل کی تاریخ میں ایک سنگ میل قائم ہو جاتا . آئیندہ کوئی جنرل سو بار سوچتا . یا پہلے جسٹس صاحب کے ہاں حاضری دے کا اجازت طلب کرتا .
ایک سوال پوچھنا  ضروری لگتا ہے کہ اگر پولیس ایسے بگڑے ہوئے حالات کو کنٹرول کر سکتی  ہے تو فوج کو طلب ہی کیوں کیا جاتا ہے . پولیس کی ناکامی کی صورت میں جسٹس صاحب کیسے کنٹرول کرتے کوئی دلیل کوئی طریقہ کوئی گر یا کوئی دعا  بتادیں . فوج سے یہ ہی توقع کیوں کہ وہ بوٹ اور بندوق کی زبان ہی میں بات کریں . وہ بھی تو اخلاقی مصلحت کی راہ چن سکتے ہیں .
اللہ رحم کرے محترم جسٹس صاحب پر , اور انکی تاریخ میں امر ہونے کی آرزو پوری ہو جائے .
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment