" فوجی اور مجاہد "
قوم اور وطن کی حفاظت کا فریضہ ایک اعزاز ہے . صرف حکمرانوں کی حفاظت اور انکے مفادات کی نگہبانی کرنا باعث شرم ہے . کیونکہ حلف لیتے وقت وطن عزیز کی حفاظت کی ذمہ داری قبول کی جاتی ہے , نہ کی حکمرانوں کی غلامی . یہ وہ اصل حقیقت ہے جس سے ہماری فوج کے ہر فوجی کو اگاہ ہونا ضروری ہے . چاہے وہ افسر ہو , جنرل ہو یا سپاہی . راشد منہاس کو نشان حیدر اسلئے ملا کہ اس نے اپنے سنئیر کی وطن عزیز کیخلاف حکم عدولی کی . حالانکہ یہ فوج کے ڈسپلن کے منافی سمجھا جاتا ہے , مگر اسکے نشان حیدر سے یہ ڈسپلن کا عروج مانا گیا , اسی لئے اسے نشان حیدر دیا گیا کہ وطن عزیز کے خلاف ہونے والے کسی بھی حکم کو نہ ماننا جائز ہے . کیونکہ وطن عزیز کی سلامتی اولین ہے . اگر اسے اصول مان لیا جاتا تو شاید وطن کے خلاف کسی سازش کی نوبت ہی نہ آتی . شاید وطن کو بے دریغ لوٹنے کا رحجان پیدا ہی نہ ہوتا . آج پولیس کے جوان اور افسران , سول سروس کے دیانتدار افسران , فوج کے افسران اور سپاہی حتی کہ ملک کے حق میں بولنے والے کسی بھی شخص کی نہ جان محفوظ ہے , نہ مال اور نہ عزت و آبرو . کیوں .
محض اسلئے کہ مقتدر لوگوں کو سلیوٹ کرنا فرض اور انکی لوٹ مار کو روکنا فرض نہیں رہا . فوجی اور مجاہد میں بس یہی فرق ہے کہ فوجی نے خود کو حکمرانوں کے حکم کے تابع کر لیا ہے . جبکہ مجاہد اللہ کے حکم کے تابع رہتا ہے . ہم عہد تو اللہ کے سامنے لیتے ہیں اور پھر کرتے وہی ہیں جو حکمران کہے . اپنے فرائض سے پہلو تہی کی وجہ سے لوٹ مار کو عروج ملا . دہشت گردی کا جن بے قابو ہو گیا . اور روز کسی نہ کسی کا سہاگ لٹنے لگا . روز یتیمی کا سایہ معصوموں کے سر پر چھانے لگا . روز ماوں کے جگر گوشے مٹی اوڑھنے لگے . اے کاش ! میرے وطن کے سارے جرنیل , سارے کرنیل , سارے پولیس اور اداروں کے سربراہ خود کو مجاہد سمجھ لیں . وہی حکم مانیں , جسکی اجازت انکا حلف دیتا ہو . سب کی روزی , سب کی نوکری اور افسری اللہ کا انعام ہے . پھر اللہ کی رضا کے مطابق کام بھی کریں . وگرنہ انکے اعمال کا حساب ان سے یہاں بھی ہو گا , وہاں بھی . انکے سامنے جلائی گئی آگ آنے والے وقت میں انکی نسلوں کو بھی جلائے گی . فوجی نہ بنے رہیں مجاہد بن جائیں .
ازاد ھاشمی
Thursday, 30 November 2017
فوجی اور مجاہد
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment