" اللہ سے ڈرو "
مصر میں ایک مسجد میں , ایک ہی وقت میں کئی دھماکے , جس سے دو اڑھائی سو لوگ شہید ہوئے . کہا جاتا ہے کہ جو بچ گئے انہیں مسجد سے باہر نکلتے ہی گولیوں سے بھون دیا گیا . یہ خبر ایک دوست نے پوسٹ میں لگائی . اب اس پر تبصرہ کرنے والے کچھ پکے مسلمانوں نے , سوچے سمجھے بغیر اسے اہل تشیع کے سر تھوپ دیا . مظلوم حسین علیہ السلام کے ماننے والے کبھی ظالم نہیں ہو سکتے - اور جو ظالم ہو گا اسکا اہل بیت سے کوئی واسطہ ہی نہیں . جس احمق نے شیعہ سنی کی آگ بھڑکانے کی کوشش کی ہے . یہ وہ لوگ ہیں , جن کا نہ اسلام سے کوئی تعلق ہے اور نہ وہ سنی ہیں اور نہ ہی شیعہ . تمام ائمہ کی تعلیم میں فساد کی کوئی گنجائش نہیں . یہ مسالک کی تعلیمات بھی نہیں کہ ایک دوسرے پر بہتان لگایا جائے . ایک دوسرے کو آزار پہنچایا جائے . جو ایسا سوچتے ہیں یا ایسی سوچ کی حمایت کرتے ہیں انکا کسی بھی مسلک سے تعلق نہیں .
جس دل میں بھی اسلام ہے وہ نہ ظالم ہو سکتا اور نہ ایسے گھناونے کھیل کھیل سکتا ہے . ایسا تاثر چھوڑنے والے کفار کے ساتھی ہیں . اور تمام مسالک والوں کو ایسے لوگوں کا سختی سے نوٹس لینا ہو گا .
اگر مسالک کے درمیان ہم آہنگی آ جائے تو یہ ایک دوسرے کے محافظ بن جائیں گے . پھر کس کی مجال کہ مقدس مقامات میں بم چلائے . فساد پھیلانا شیطان کا کام ہے . وہ انسان سے بدلہ لینا چاہتا ہے . فساد پھیلانے کی تحریک جو بھی کرے اسے شیطان سمجھنا چاہیئے . یہی ہم سب کی بھلائی کیلئے لازم ہے .
ازاد ھاشمی
Thursday, 30 November 2017
اللہ سے ڈرو
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment