" دباو پر سزائے موت "
ایک خبر نظر سے گذری ہے ۔ خبر کی صداقت کا معیار کیا ہے ، اس پر کوئی رائے قائم نہیں کی جا سکتی ۔ خبر ہے
" ممتاز قادری کو پھانسی ، جنرل راحیل شریف کے دباو پر دی نواز شریف پھانسی کا مخالف تھا "
یہ خبر جسٹس کھوسہ کے توسط سے ہے ۔
اس خبر کے دو پہلو بہت اہم ہیں ایک یہ کہ عدالتی فیصلوں کے پیچھے جو لوگ عمل فرما ہوتے ہیں ، ان میں ایک وزیراعظم اور دوسرا فوج کا سپہ سالار ۔ دوسرا پہلو کہ عدالت کی کرسی پہ بیٹھا ہوا جج قانون کی تابعداری نہیں کرتا بلکہ اپنے ان حکمرانوں کے حکم کے تحت فیصلے کرتا ہے ۔ اسکا مطلب تو یہ ہوا کہ آج تک جتنے بھی سیاسی اہمیت کے فیصلے ہوتے آئے ہیں ، وہ قانون کے مطابق کبھی بھی نہیں ہوئے ۔ ایسے فیصلوں میں اگر کسی کو سزائے موت ہو جاتی ہے اور وہ پھانسی پہ جھول جاتا ہے تو یہ قتل کرنے میں تین لوگ شامل ہو سکتے ہیں ۔ یا کم از کم دو تو لازم ہونگے ۔
یہ بات کرنے والا بھی جسٹس ہے اور جس ڈھٹائی سے بات کر رہا ہے ، وہ کسی بھی مہذب معاشرے میں قابل تعزیر ہے ۔ ایسے انصاف پہ ، ایسے عدل پہ ، ایسے قانون پہ اور ایسے زور آور لوگوں پہ صد افسوس ہے ۔ ہماری بے حسی کی انتہا ہے کہ ہم کسی کے گلے میں پھندا ڈالتے ہوئے نہیں سوچتے کہ ایک روز ہم بھی بے بسی کے عالم میں قادر مطلق کی عدالت میں کھڑے ہونگے ۔ یہ کرسی ، یہ اقتدار اور کندھے پہ لگے ہوئے یہ عہدے تو حرافہ کیطرح ہیں ، آج کسی کے پاس کل کسی دوسرے کے پاس ۔
اگر یہ بات سچ ہے کہ ممتاز قادری کو راحیل شریف کی ایماء پر پھانسی ہوئی تھی ۔ تو تمام سیاسی کیسز مشکوک ہو جاتے ہیں ۔ تمام فیصلے مشکوک ہو جاتے ہیں اور جو ملک کے اندر انتشار کی فضا ہے وہ اسی مثلث کی خود ساختہ ہونے میں کوئی شک باقی نہیں رہ جاتا ۔ اگر ایسا ہے تو ملکی سالمیت سے کھلواڑ میں سازش نظر آتی ہے ۔ کہاں ہے انکا حلف ، کہاں ہے انکا ایمان اور کہاں ہے انکی حب الوطنی ۔
اول تو جج صاحبان کو اس حلف کی پاسداری کرنی چاہئیے اور قوم کو اعتماد میں لینا چاہئیے تھا۔ تاکہ ایسے فیصلوں کے محرکات سامنے آئیں ۔
اگر جسٹس صاحب نے جھوٹ بولا ہے تو انکو اس پر گرفت ہونی چاہئیے کہ وہ قوم کو گمراہ کیوں کر رہے ہیں ۔ ایسی باتیں در گذر کرتے رہنے سے ملک کا نظام بگڑتا رہے گا ۔ انتقامی طور پر غداری کے عوامل متحرک ہوتے رہیں گے ۔ اور ملک کی سلامتی پر خطرات منڈلاتے رہیں گے ۔ اس کے ذمہ دار وہی ہونگے جنہوں نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہو گا ۔ خواہ وہ سیاستدان ہو ، سپہ سالار ہو ، جج ہو یا بیورو کریٹ ۔
آزاد ھاشمی
١٥ جون ٢٠١٨
Saturday, 16 June 2018
دباو پر سزائے موت
Friday, 15 June 2018
پاگل ٹیکسی ڈرائیور
" پاگل ٹیکسی ڈرائیور "
وہ ایک خستہ حال بیہوش عورت کو لیکر ہسپتال کی ایمرجینسی وارڈ میں داخل ہوا ۔ جسکے ساتھ دو نو عمر بچے تھے ۔ شکل و شباہت سے بھکاری لگ رہے تھے ۔ ڈاکٹر نے مریضہ کو دیکھا اور بولا ۔
" اس بی بی کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے ۔ اگر فوری امداد نہ دی گئی تو یہ مر جائیگی ۔ فوری علاج کیلئے خاصی رقم کی ضرورت ہے " سنتے ہی بچوں نے چیخنا شروع کر دیا ۔ وہ شخص کبھی ڈاکٹر کو دیکھتا ، کبھی مریضہ کو اور کبھی بچوں کو ۔
" کیا لگتی ہیں یہ آپ کی ؟ " ڈاکٹر نے اس شخص کو تذبذب میں دیکھتے ہوئے پوچھا ۔
" کچھ نہیں ۔ میں ٹیکسی چلاتا ہوں ۔ اسے سڑک پہ لیٹے دیکھا ، اسکے پاس بیٹھے یہ دونوں بچے رو رہے تھے ۔ میں ہمدردی میں یہاں لے آیا ہوں ۔ میری جیب جو ہے ، دے دیتا ہوں " اس نے جیب سے جمع پونجی نکال کر میز پر رکھ دی ۔ ڈاکٹر نے پیسوں کیطرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے بولا ۔
" بابا جی ! یہ بہت تھوڑے پیسے ہیں ۔ ڈھیر سارے پیسے چاہئیں " وہ بے بسی میں ادھر ادھر دیکھ رہا تھا ۔ کبھی آسمان کیطرف دیکھتا کبھی دیواروں کیطرف ۔ اچانک ایک چمک سی اسکے چہرے پر عیاں ہوئی ۔
" ڈاکٹر صاحب ! آپ اسکی جان بچائیں ۔ یہ میری گاڑی کے کاغذات ضمانت ہیں ۔ میں ابھی پیسے لیکر آتا ہوں "
وہ چلا گیا ۔ ڈاکٹر نے ابتدائی طبی امداد شروع کر دی ۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ دو لوگوں کے ساتھ واپس آیا ۔
" ڈاکٹر صاحب! میں نے ٹیکسی بیچ دی ہے ۔ آپ پیسوں کی فکر نہ کریں " اس نے گاڑی کے کاغذات ساتھ آنے والوں کو دیتے ہوئے کہا ۔ صورت حال کو بھانپتے ہوئے ، قریب کھڑا ایک خوش باش نوجوان پوچھنے لگا ۔
" کیا لگتی ہیں یہ خاتون آپکی "
" میں نہیں جانتا کہ یہ کون ہیں ۔ مگر کوئی رشتہ ضرور ہے جو مجھے اسکی زندگی اپنے روزگار سے زیادہ اہم لگی ہے ۔ ٹیکسی کا کیا ہے ، میں کرائے پہ لیکر چلا لوں گا ۔ اگر یہ مر گئی تو یہ بچے بھی جیتے جی مر جائیں گے ۔ قیامت کے روز اللہ کو کیا منہ دکھاوں گا کہ مجھے ایک انسان کی زندگی سے زیادہ اپنی ٹیکسی عزیز تھی "
ساتھ آنے والے پیسے گن رہے تھے اور ساری کہانی بھی سن رہے تھے ۔
" آپ اپنے پیسے واپس رکھ لیں ، اسکی ٹیکسی اسی کے پاس رہنے دیں ۔ علاج کے پیسے میں ادا کر دیتا ہوں "
نوجوان بولا ۔
" نہیں بابو ! سودا ہو گیا ہے ۔ ہم ٹیکسی بھی نہیں لے جارہے اور پیسے بھی دے رہے ہیں ۔ ٹیکسی کے لئے نہیں علاج کے لئے "
دونوں شخص یک زبان بولے ۔
" یہ بڈھا تو پاگل ہو گیا ہے ۔ اس عمر میں کون اسے کرائے پر ٹیکسی دے گا ۔ ہم تو کمانے آئے تھے ۔ یی آدھی قیمت پر ٹیکسی بیچ رہا تھا ۔ ہمیں دگنا منافع تھا ۔ اب ہم ستر گنا مبافع کمائیں گے ۔ پیسے نہیں تو نہ سہی ، ایک نیکی ہی سہی "
وہ پیسے میز پر رکھتے ہوئے اٹھے ۔
" ڈاکٹر صاحب ! اور ضرورت پڑے تو ہمیں اس نمبر پر کال کر دینا ۔ " اپنا کارڈ ڈاکٹر کو دیتے ہوئے ہسپتال سے باہر نکل گئے ۔ ٹیکسی والا زار و قطار روئے جا رہا تھا ۔
" بابو ! اللہ کو میری ٹیکسی پسند نہیں آئی ۔ پیسے والے نیکی لے گئے ۔ میں غریب پھر خالی ہاتھ رہ گیا "
آزاد ھاشمی
١٥ جون ٢٠١٨
Thursday, 14 June 2018
ایک کروڑ کا عمرہ
" ایک کروڑ کا عمرہ "
شنید ہے کہ عمران خان نے ایک کروڑ سے زاید رقم خرچ کرکے ستائیسویں رمضان کی شب مدینہ منورہ اور مکہ شریف میں گذاری ۔ اللہ کے رسولؐ کی محبت میں گو یہ رقم کوئی بھی اہمیت نہیں رکھتی ۔ پھر عمران خان جیسے امیر کبیر کیلئے تو یہ " مونگ پھلی کے دانے " سے زیادہ نہیں ۔ اس سے زیادہ خرچ کرنے والے بیشمار امیرزادے بھی موجود ہیں ۔
اللہ کے حکم کی تعمیل اور رسول خدا سے محبت کا تقاضا کیا ہے ؟ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو کبھی ہماری سمجھ میں نہیں آتا ۔
اللہ کے نبیؐ کی سنت کیا ہے اور مسنون حج اور عمرے کتنے ہیں ؟ جبکہ آپ اس مخصوص خطہ کے رہائشی بھی تھے ۔ اللہ کا حکم کیا ہے اور عمرہ کب لازم ہے ۔ یہ وہ ضرورت تھی جسے جاننا چاہئیے تھا ۔
اسلام اعتدال کا دین ہے اور اعتدال کی تعلیم دیتا ہے ۔ اسراف قرآن کی تعلیمات میں بھی نا پسندیدہ ہے اور نبی پاک کی تعلیمات کے بھی منافی ہے ۔ صاحبان ثروت پر اللہ نے کچھ ذمہ داریاں لگا رکھی ہیں ۔ پہلی یہ کہ اللہ کے دئیے ہوئے مال سے خرچ کرو اور کیسے خرچ کرو اسکی بھی تفصیل بتا دی ۔ جس میں حقوق العباد اول ہیں ۔ زکوٰة لازم ہے ۔ ایک کروڑ روپے کا عمرہ کرنے والا شخص یقینی طور پر ارب پتی ہوگا ۔ ایک ارب پتی پر کتنی زکوِٰة واجب ہے ؟ کیا عمران خان اتنی زکوٰة ادا کرتا ہے جتنے اثاثے ہیں ؟ اگر کرتا ہے تو قابل تحسین ہے اگر نہیں تو عمرے کرنا فلاح نہیں ہے ۔ کیا اس کثیر رقم سے اکر بھیک مانگنے والے چند خاندانوں کو ذرائع آمدن کھول دئیے جاتے ، چند یتیم بچیوں کی شادیاں کر دی جاتیں ، افریقہ کے قحط زدوں کی مدد کر دی جاتی تو عمرے جیسا ثواب نہ ملتا ۔
لگتا یوں ہے کہ انکی اہلیہ کی رائے ہو گی کہ ستائیسویں کو جو بھی دعا کریں گے قبول ہو گی ۔ اسلئے رخت سفر باندھا ہو گا ۔ کیا مانگا ہوگا؟؟ اس پہ رائے نہیں دی جاسکتی ۔ اغلب امکان ہے کہ اقتدار کی خواہش نے اس اسراف پر مائل کیا ہو گا ۔ جیسے بھی ہے یہ اسراف ہے اور اللہ کو نا پسند ہے ۔ اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ یہ اسراف عمران خاں نے اپنی جیب سے کیا ہے تو بھی درست نہیں کیونکہ ہر وہ رقم جو ملک سے باہر جاتی ہے وہ وطن کی امانت ہے اسراف میں نہیں جانی چاہئیے ۔
آزاد ھاشمی
١٤ جون ٢٠١٨
ہمارے بادشاہ
پرانے زمانوں میں ایک ملک کا صرف ایک بادشاہ ھوا کرتا تھا ۔ آج بھی یہ رسم بیشتر ملکوں میں رائج ھے ۔ مگر ھمارے وطن کی زرخیز سر زمین کو اعزاز حاصل ھے کہ بے شمار بادشاھوں کا بوجھ اٹھائے ھوئے ھے ۔ اور ھماری قوم کا مثالی صبر ھے کہ ان بادشاھوں کو اپنی اولاد کا پیٹ کاٹ کر پال رھی ھے ۔ ۔ ۔ کسان جو وطن کی معیشت کا انتہائی اھم ستون ھوتے ھیں ۔ ان پر پٹواری نام کے بادشاہ حکمران ھوتے ھیں ۔ یہ اسقدر زور آور ھوتے ھیں کہ کسی بھی کسان کا ورثہ چھین کر کسی بھی جاگیر دار کو تحفہ کر سکتے ھیں ۔ ۔ ۔ بادشاھوں کی ایک قسم کو تھانیدار کہا جاتا ھے ۔ یہ بڑے جلالی قسم کے بادشاہ ھوتے ھیں ۔ ان کی رعایا میں شریف النفس لوگ معتوب رھتے ھیں اور غنڈے ان کے چہیتے ھوتے ھیں ۔ کسی بھی غنڈے کے جرائم کی تختی کسی بھی شریف کے گلے میں ڈال سکتے ھیں ۔ ۔ ۔ ان بادشاھوں کی فہرست میں عدالتوں کے جج بھی بہت طاقتور بادشاہ ھوتے ھیں ان کے دربارمیں کھانسنا بھی ناقابل ضمانت جرم ھو سکتا ھے ۔ انکی ھر صوابدید قانون ھوتی ھے۔ یہاں تک کے چوری کے مجرم کو سزائے موت بھی دے سکتے ھیں اور قاتل کو با عزت بری کر دینا بھی صوابدید ھو سکتا ھے ۔ ان بادشاہوں کی ایک لمبی فہرست ھے ۔ پھر کبھی چند دوسرے باشاھوں کا تذکرہ کریں گے ۔۔
آزاد ھاشمی
15 جون 2015
Wednesday, 13 June 2018
سیاسی خیرات
" سیاسی خیرات "
پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس بچے ، کانپتے ہاتھوں والے کمر خمیدہ بوڑھے ، گرد اٹے بالوں والی خواتین کا ایک جم غفیر جمع تھا ۔ سب کی نظریں سڑک پر تھیں ۔ ایک گرد اڑاتی کار لوگوں کے ہجوم سے گزرتی ایک طرف رک گئی۔ کلف لگے کپڑے پہنے ایک نوجوان گاڑی سے اترا ، سب کیطرف ہاتھ ہلایا اور آٹے ، گھی اور دیگر اشیاء کے ڈھیر کیطرف بڑھ گیا ۔ اب ایک ایک ضرورت مند کو پروگرام کے تحت سامان دیتا اور ہر خیرات کیمرے میں محفوظ ہو جاتی ۔ رمضان کا مہینہ ، برکتوں کا مہینہ ، بخششوں کے دن اور رحمتیں لوٹنے کے دنوں ، سخاوت اور خیرات کے یہ تماشے اکثر ہوتے ہیں ۔ یہ تماشے عام طور پر کرنے والے یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اپنی ساری خطاوں کا حساب برابر کردیا ۔ یہ تماشا دیکھنے والوں میں ، ہڈیوں کا ایک ڈھانچہ بوڑھا شخص بھی تھا ۔ وہ ایک کونے میں بیٹھا ، دیکھ بھی رہا تھا اور مسلسل کچھ بول بھی رہا تھا ۔ جب کھیل ختم ہوا تو وہ اٹھا اور سخاوت کرنے والے کے پاس آکر کھڑا ہوا ۔ نوجوان بولا ۔
" بابا جی ! آپ نے دیر کردی ۔ اب سب کچھ ختم ہو گیا ، کل دوسرے محلے کی باری ہے ، کل وہاں آجانا "
بوڑھا سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا ۔
" کوئی بات نہیں ۔ تیرے پاس تو سب ختم ہوگیا ۔ اسلئے میرے نصیب میں کچھ نہیں آیا ۔ ایک بات تو بتاو بابو ؟ یہ سخاوت کس لئے کر رہے ہو ؟ گھر میں برکت کیلئے ، کسی بیمار کی صحت کیلئے یا الیکشن میں امیدوار ہو ؟ "
غریب بوڑھے کے سوال نے " سخی " کو پریشان کر دیا
" بابو ! یہ بھوکے ننگے کیا دعا دیں گے ۔ اور اگر دیں گے بھی ، تو اللہ انکی کب سنتا ہے ۔ اگر سنتا تو یہ بھیک تھوڑی مانگ رہے ہوتے ۔ انکو تو انسانوں سے مانگنے کی عادت ہے ۔ اور انسانوں سے مانگنے والے ہمیشہ بھوکے ہی رہتے ہیں ۔ یہ تو روز راستہ دیکھتے رہتے ہیں کہ کوئی خیرات دینے والا آئے ۔ انکی اللہ نہیں سنتا بابو "
" تم پیسے والے ہو ۔ پیسہ بانٹتے نہیں ہو ، رب سے تجارت کرتے ہو ۔ خیرات نہیں کرتے ہو اللہ سے کاروبار کرتے ہو ۔ اللہ اپنے وعدے کا پکا ہے ، تم نے دیا وہ نفع کے ساتھ لوٹا دے گا ۔ تمہارا تو فائدہ ہو ہی جائے گا ۔ مگر تم نے ان بد نصیب احمقوں کو یقین دلا دیا کہ وہ اللہ سے نہ بھی مانگیں گے تو انہیں انسانوں سے مل ہی جائے گا ۔ تم نے انہیں ایمان اور توکل سے محروم کر دیا ہے بابو "
بوڑھے کی فکر میں جو گہرائی تھی ، وہ شاید بابو کو سمجھ نہیں آ رہی تھی ۔ اسکے چہرے کی ناگواری سے ظاہر ہو رہا تھا کہ بہت مشکل میں پڑ گیا ہے ۔
" بابو ! ان قسمت گزیدہ لوگوں کو یہ خیرات نہ بھی ملتی تو یہ سب پھر بھی بھوکے نہیں سوتے ۔ اللہ نے انکے رزق کی ذمہ داری اٹھا رکھی ہے ۔ دیکھو ! تمہارے پاس میرے لئے کچھ باقی نہیں بچا ۔ میں مانگنے نہیں آیا تھا ۔ تماشا دیکھنے آیا تھا ۔ میرے نصیب کا رزق مجھے روز ملتا ہے اور روز ملتا رہے گا ۔ تم میری فکر مت کرو ۔ اپنی عاقبت کی فکر کرو ۔ یہ سب اللہ کے بندے ہیں اور اللہ ان سے بہت محبت کرتا ہے ۔ تم انہیں انسانوں سے مانگنے کی عادت ڈال رہے ہو ۔ انسانوں سے مانگنے والے ہاتھ پھیلے ہی رہتے ہیں ۔ جھولی اسی کی بھرتی ہے جو اللہ سے مانگتا ہے ۔ "
" اگر خیرات کرنا مقصود ہے ، تو اسطرح بانٹو کہ دوسرے ہاتھ کو خبر نہ ہو ۔ اشتہار مت لگاتے پھرو ۔ ایک کام کرو نوجوان ! تم اپنے گوداموں میں ذخیرہ اناج کو کم منافع پر بیچنا شروع کر دو ۔ مہنگائی کی کمر توڑ دو تو یہ سب دو وقت کی روٹی مزدوری کر کے بھی کما لیں گے "
بابا جی بولے جا رہے تھے ۔ لوگ سن کر محظوظ ہو رہے تھے کہ عمر کی طوالت نے اس کے حواس چھین لئے ہیں ۔
" بابو جی ! آپ ثواب کماتے رہیں ۔ یہ چریا ہو گیا ہے "
مجمعے سے آواز آئی ۔ بابا جی نے مڑ کر دیکھا
" شکریہ بیٹا " کہا اور دوسری سمت چلنے لگا ۔
آزاد ھاشمی
١٣ جون ٢٠١٨
شہادت علی کرم اللہ وجہہ
" شہادت علی کرم اللہ وجہہ"
اگر ہم یہ سوچتے ہیں کہ اس شہادت میں ابن ملجم کا کوئی ذاتی عناد تھا , تو بات زیادہ موزوں نہیں لگتی . جس ہستی کا بچپن , رحمت العالمین کی گود میں , جوانی حبیب خدا کے سائے میں گزری ہو . جس کی زندگی کا حاصل ہی اللہ کی رضا ہو . اسکی عداوت کسی سے ہو ہی نہیں سکتی . علی کرم اللہ وجہہ کا وہی دشمن ہوگا , جو اللہ کا راندہ ہوا ہو گا . جو شیطان کا پجاری ہو گا , جو رسول (ص) کا دشمن ہو گا . وہ ملوکیت کے پرستاروں کے سوا کوئی نہیں تھا . بد بخت ابن ملجم تو ایک کارندہ تھا . ملوکیت کو خوف تھا کہ اگر علم کا دروازہ بند نہ ہوا تو اسلام کی روشنی پھیلتی جائے گی . جہالت پنپ نہیں پائے گی . اور جہالت کے بغیر ملوکیت چل نہیں سکتی . سازش کی کامیابی اسی صورت ممکن تھی کہ ہدف مسجد میں ہو . ان جانے میں ہو , چھپ کر ہو . کیونکہ خطہ ارض میں کسی ماں نے وہ سپوت جنا ہی نہیں جو علی کرم اللہ وجہہ کے مقابل آکر وار کرے اور بچ نکلے .
سلام اس جرات کے مینار پر , سلام اس صبر کی انتہا پر , جان لیوا وار پر بھی نہ عدل سے ایک لغزش کی , نہ انتقام کا جذبہ غالب ہوا . اپنے لخت جگر سے فرمایا
" اگر میں جانبر ہو گیا تو اپنا معاملہ خود دیکھوں گا . اگر نہ ہوا تو بدلہ اتنا ہی لینا , جتنا وار ہوا ہے . خبردار بدلے میں ایک ہی وار کرنا , بہتر ہو گا کہ قاتل کا معاملہ اللہ کے سپرد کر دینا "
کیا مقام ہے , کیا ضبط ہے , پوری طاقت ہوتے ہوئے بھی , جان پر حملے کے باوجود , نہ طیش , نہ غضب , نہ تحقیق , نہ تفتیش - نہ زندگی کی پرواہ , نہ موت کا خوف .
اللہ کے گھر میں پیدا ہونے والی ہستی , اللہ کے گھر سے آخری سفر کی تیاری .
نہ چہرے پر خوف , نہ غصہ . طمانت ہی طمانت . علی کرم اللہ سے بہتر کون جانتا تھا کہ اللہ کی راہ میں جان دینے کی لذت اور طبعی موت میں کیا فرق ہے . علی کرم اللہ کی شہادت سے کسے فائدہ ہوا اور کون نقصان میں آگیا . تاریخ کا ایک ایک ورق گواہ ہے .
آزاد ہاشمی
13 جون 2017
نہیں جاوں گا عید پڑھنے
" نہیں جاوں گا عید پڑھنے "
بچہ ماں کے حکم کی تعمیل پر جز بز بھی تھا اور روتی آنکھوں سے عید پڑھنے کے فرض سے انکاری بھی ۔
" بیٹا ! ہر سال اپنے باپ کی انگلی پکڑ کر تو شوق سے جایا کرتا تھا ۔ آج نہیں جائیگا تو تیرا بابا کیا سوچے گا "
ماں کی آنکھیں بھی بھیگ گئیں ۔ بچے نے بھی زور زور سے رونا شروع کردیا ۔ ماں کے سینے سے چمٹتے ہوئے بولا ۔
" ماں جی کیوں روتی ہو ۔ چلا جاتا ہوں "
یہ کہہ کر اس نے ٹوپی سر پہ رکھی اور برستی آنکھوں سے چل پڑا ۔
" بیٹا ! کیا ہوا ، عید کی نماز پر جانے سے اللہ خوش ہوتا ہے ۔ "
میں نے اسکے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
" روزے رکھے تھے تم نے "
میں نے پوچھا
" نہیں "
اس نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا
" کیوں "
میرا دوسرا سوال اسکے رکتے ہوئے آنسووں میں پھر سے تیزی لے آیا ۔
" پچھلے سال عید کی نماز کے دوران بم دھماکہ ہوا تھا ۔ میرے ابا شہید ہوگئے تھے ۔ اسکے بعد ہم نے کبھی دو وقت کھانا نہیں کھایا ۔ میری ماں سحری کھائے بغیر روزہ رکھ لیتی ہے ، مجھ سے نہیں رکھا جاتا ۔ ورکشاپ جاتا ہوں ، کام سیکھنے ۔ گرمی بھی ہوتی ہے ، بھوک بھی لگتی ہے پیاس بھی ۔ اسلئے روزہ نہیں رکھتا ہوں "
بچے کی اس مختصر سی بات میں ، حالات کی پوری تصویر میرے سامنے تھی ۔ ایک سال سے یہ مختصر سا خاندان ایک وقت کی روکھی سوکھی روٹی پر گذارہ کر رہا تھا ۔ اس معاشرے میں جہاں دین اور مذہب سکھانے والوں کی اکثریت ہے ۔ جہاں کے مذہبی ماحول کا یہ عالم ہے کہ اذان پر ہر چھوٹا بڑا مسجد کیطرف بھاگ کھڑا ہوتا ہے ۔ جہاں خیرات کی دیگیں چڑھتی رہتی ہیں ۔ جہاں مساجد میں ثواب کی خاطر محفلیں سجتی رہتی ہیں ۔ انہی مذہبی لوگوں کے درمیان ایک گھر ایسا بھی ہے کہ جہاں چولہا بھی شاذ ہی جلتا ہو گا ۔ عید گاہ کیطرف بڑھتے ہوئے ، میرے قدم بھی بوجھل ہوتے جارہے تھے ۔ ذہن چاہ رہا تھا کہ ایسے لوگوں کے ساتھ کیا نماز پڑھوں گا جو اپنے اہم فرض سے اتنے غافل ہیں ۔ میں بچے سے بہت سارے سوال کرنا چاہ رہا تھا ۔ پوچھنا چاہتا تھا کہ آپ لوگوں نے گھر میں کیا پکایا ہے ، نئے کپڑے کیوں نہیں پہنے وغیرہ وغیرہ ۔
" عید پڑھنے سے انکار کیوں کر رہے تھے "
سوال کرنے کی بری عادت کے باعث میں نے پوچھ لیا ۔
" یہ سارے انکل مجھے عیدی کی بجائے فطرانہ دیں گے ۔ مجھے اچھا نہیں لگتا کہ خیرات لیکر گھر واپس لوٹوں ۔ جس جس بچے کے کپڑے پھٹے پرانے ہوتے ہیں ، اسے سب فطرانہ دیتے ہیں عیدی نہیں "
بچے کی بات نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ۔ میرا بھی تو پوری زندگی کا یہی معمول تھا ۔ میں بھی تو یہی کرتا رہا ۔
عیدی تو ہر بچے کا حق ہوتا ہے ۔ اپنا ہو یا پرایا ۔ ہم تو اسی بچے کو عیدی دیتے ہیں جس سے کوئی تعلق ہو ۔ ہم نے تو غریب بچوں سے تعلق ہی توڑ رکھا ہے ۔ ہم خیرات ، زکوِٰة ، صدقہ اور فطرانہ ہی انکے ہاتھوں پہ رکھتے ہیں ۔ ہم تو ہر غریب عورت کو نہ بہن سمجھتے ہیں ، نہ بیٹی ، نہ ماں ۔ کبھی خیال ہی نہیں آیا کہ کسی بیوہ کے گھر بہن سمجھ کر عیدی ہی بھیج دیں ۔ اپنی عبادتوں کو بے وزن سمجھ رہا تھا ۔ خوف زدہ تھا کہ میں نے تو جو بھی روزے رکھے تھے ، جتنی بھی نمازیں پڑھی تھیں ، اسی بے خبری میں ہی پڑھی ہیں ۔ روز محشر اگر اللہ نے ساری حقوق العباد کی غفلت کے سبب میرے منہ پہ مار دیں تو کیا کروں گا ۔ سوچتے سوچتے میری حالت غیر تھی ۔
" کیا ہوا انکل ۔ آپ کیوں رو رہے ہیں "
مجھے خبر بھی نہیں تھی کہ میری آنکھیں میری ندامت کے آنسو نہیں سنبھال پا رھیں ۔
ایک فیصلہ تھا ، جو میں کر چکا تھا کہ اب کبھی اکیلے عید نہیں کروں گا ۔ اب ان کے ساتھ ہی عید کروں گا جن کو فراموش کئے بیٹھا تھا ۔
آزاد ھاشمی
١٣ جون ٢٠١٨
Tuesday, 12 June 2018
کیوں روتا ہے
" کیوں روتا ہے "
آج ماں خواب میں آکے پوچھتی ہے ۔
" کیوں روتا ہے میرے لئے ۔ میں لمبی نیند سونا چاہتی تھی ۔ اسلئے یہاں آگئی ہوں ۔ دیکھ میری صحت بھی ٹھیک ہو گئی ہے ۔ اب میں بیمار بھی نہیں ہوتی ۔ بھوک بھی نہیں لگتی ، پیاس بھی نہیں ۔ تو روئے گا تو میرا دل تڑپے گا ، کل بھی تیری ماں تھی آج بھی ماں ہوں ۔ اپنا خیال رکھ ۔ دیکھ کمزور ہوتا جا رہا ہے "
" امی جان ! میرا بڑا گھر چھوٹا سا مکان بن کر رہ گیا ہے ۔ آپ کے نام سے سب اسے بڑا گھر کہتے تھے ۔ آپ کی دعائیں میرے بد خواہوں کے سامنے ڈھال تھیں ۔ اب بھی انتظار کرتا ہوں کوئی فون کر کے پوچھے گا ، اپنی ایک تصویر بھیج ، دیکھنے کو دل چاہتا ہے ۔ اب کوئی نہیں پوچھتا ، کوئی نہیں کہتا ، یہ کیا حال بنا لیا ہے ۔ رو لیتا ہوں بہل جاتا ہوں ۔ کچھ روز سکون سا مل جاتا ہے ۔ پھر انتظار کرنے لگتا ہوں ، آپ کے فون کا ، پیاری سی ڈانٹ سننے کو پھر من چاہنے لگتا ہے . "
" تجھے ساری عمر عقل نہیں آئے گی ، تو روئے گا تو میرا دل پریشان رہے گا ۔ مائیں مر کے بھی زندہ ہی رہتی ہیں ، ہر وقت اولاد کو دیکھتی ہیں ۔ کبھی غافل نہیں ہوتیں ۔ دیکھ اپنے چھوٹوں سے غافل نہیں ہونا ۔ انہیں تیری بہت ضرورت ہے ۔ میں آتی رہوں گی "
آزاد ھاشمی
میرے اعمال اور تیری رحمتیں
" میرے اعمال اور تیری رحمتیں "
الحمدوللہ ، تیری رحمتوں سے بھرپور ماہ مبارک ہم سب کو نصیب ہوا ۔ جس جس کو تیری ذات نے توفیق بخشی ، اس اس نے اپنے اپنے مقدور کے مطابق تیری رحمتیں سمیٹ لیں ۔ مجھ جیسے کمزور اور ناتواں بھی تیری توفیق سے اپنے اعمال کا پلڑا بھاری کرنے کی سعی کرتے رہے ۔ تیری قبولیت ڈھونڈھنے کے سارے جتن کئے ۔ معمولات زندگی میں تغیر بھی لائے ۔ بھوک میں بھی ایک نوالہ حلق سے نیچے نہیں اتارا ۔ پیاس لگی تو پانی کا ایک گھونٹ بھی نہیں پیا ۔ ایمان تھا کہ اپنی اصلاح کا موقع ملا ہے ، پھر کون جانے زندگی وفا کرے کہ نہ کرے ، کیوں نہ تیرے احسانات سے جھولی بھر لی جائے ۔ جھولی تنگی کا خیال کئے بغیر تیری رحمتوں کی وسعت پر نظر جمائے رکھی ۔ یہ سوچ کر کہ تیری ذات ہر سال مجھ جیسے سرکش کو بھی یہ مبارک ایام نصیب کر دیتی ہے کہ اپنی غلاظتیں دھو لیں ۔ اپنی لغزشوں ، کوتاہیوں اور غفلتوں کا ازالہ کر لیں ۔
اس سے انکار بھی ممکن نہیں ، کہ ہم نے کھانے پینے سے تو ہاتھ روکے رکھا ، کہ تیرا حکم تھا ، مگر گاہے بگاہے شیطان کے دہوکے میں بھی آتے رہے ۔ دکھاوا بھی کرتے رہے ، نظریں بھی بہکتی رہیں ، جھوٹ بھی بولنا پڑا ، ترازو کے پلڑے بھی جھولتے رہے ، چغلی کی عادت بھی نہیں چھوٹی ، غریب کی غربت کا احساس بھی پیدا نہیں ہوا ، راگ و رنگ بھی ساتھ ہی رہا ، امراء اور تعلق داروں کیلئے دستر خوان تو سجتے رہے ، مستحقین سے نظریں بچائے رکھیں ، زکوٰة میں بھی جھول برقرار رہا ۔ گویا ہم عملی طور پر وہی رہے جو تھے ۔
تیرے کرم کی آس کل بھی تھی ، آج بھی ہے ۔ غفلتوں سے چھٹکارے کی طلب باقی ہے ۔ دل میں یوم حساب کا خوف رہتا تھا اب بھی ہے ۔ بخششوں اور عطاوں کی رات کب آئے گی اور کب گذر جائے گی ، کوئی خبر نہیں ۔ بس ایک دعا سن لے ، اسے قبول فرما لے تو مجھ جیسے کتنے فلاح پا لیں گے کہ ہمارے اعمال کو دیکھے بغیر ، ہماری اطاعت کو تولے بغیر ، ہمارے روزوں کی حقیقت کو ترازو پہ رکھے بغیر ، ہمیں اپنی رحمتوں سے محروم نہ کرنا ۔ وہ عطا فرما دے جو تیرے پیاروں کو نصیب ہوتا ہے ۔ ہمارے دلوں کا رخ اپنی اور اپنے پیاروں کی محبت کیطرف پھیر دے ۔ تو کریم ہے رحیم ہے ۔ ہم پر رحم فرما ، رحم فرما ، رحم فرما ۔ آمین
آزاد ھاشمی
١٢ جون ٢٠١٨