Saturday, 29 April 2017

ثواب

ثواب
ثواب ۔ یہ لفظ وہ ہے جو دنیائے مذہب میں سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے لیکن جس کا متعین مفہوم بہت کم سامنے آتا ہے۔ مثلاً ایسا کہا جائے گا کہ تم ایسا کرو۔ اس سے بہت ثوابؔ ہو گا۔ لیکن اگر پوچھا جائے کہ اس کامطلب کیا ہے۔ اس سے کیا ہو گا۔ اس سے کیا ملے گا‘ تو اس کا جواب صرف اتنا دیا جائیگا کہ اس سے ثوابؔ ہو گا۔ اس سے ثواب ملے گا۔ یعنی ہمارے ہاں یہ لفظ ایسا مجرد (ABSTRACT) بن کررہ گیا ہے جس کا کوئی محسوس (CONCRETE) مفہوم سامنے نہیں آتا۔ بنا برین‘ اس کے صحیح مفہوم کا سمجھ لینا ضروری ہے۔
اس لفظ (ثواب) کا مادہ ۔(ث۔و۔ب) ہے جس کے بنیادی معنی ہیں کسی چیز کے چلے جانے کے بعد اس کا پھر واپس آجانا۔ بیماری سے انسان کمزور ہوجاتا ہے۔ صحت یاب ہونے کے بعد اس کی زائل شدہ توانائی کے واپس آجانے کے لئے کہتے ہیں ثَابَ جِسْمُہ‘۔ اس کا جسم پھر اپنی پہلی حالت پر آگیا۔ اگر کسی حوض کی یہ صورت ہو کہ اس سے جس قدر پانی نکل جائے اتنا ہی واپس آجائے تو اس کے للئے کہیں گے ثَابَ الْمَاءُ۔
آپ کوئی کام کریں۔ اس میںآپ کو وقت ‘ روپیہ‘ توانائی وغیرہ صرف ہوں گے۔ اس کے بعد اگر اس کا نتیجہ ایسا مرتب ہو جس سے یہ سب کچھ واپس لوٹ آئے تو اسے اس کام کا ثواب کہاجائے گا ۔ یہ ہے اس لفظ کا بنیادی مفہوم۔ (کاروباری دنیا میں انگریزی زبان کا لفظ (RETURN) اس کامفہوم سامنے لے آتا ہے۔ اس کے بعد اسے مکافاتِ عمل۔ یعنی اعمال کے نتائج کے لئے بھی استعمال کرنے لگ گئے۔
(1) اعمال کے نتائج کے معنوں میں
کفار کے اعمال کے نتائج۔ (83:36)
ایمان واعمالِ صالح کے نتائج۔ (3:195) ۔ (5:85) ۔ (18:31) ۔ (18:44) ۔ (18:46) ۔ (19:76)
(2) ثواب اللہ (29:80)
(3) ہمارے ہاں عام تصور یہ یہ کہ ثوابؔ ‘ آخرت میں جا کر ہی ملے گا۔ لیکن قرآن کریم میں ثواب الآخرہؔ اور ثواب الدنیاؔ دونوں آئے ہیں۔ یعنی اعمالِ صالح کا نتیجہ اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
جو ثواب الدنیا چاہے گا اُسے ثوابِ دنیا مل جائے گا۔ جو ثوابِ آخرت چاہے گا اسے ثوابِ آخرت مل جائے گا۔ (3:144) ۔خدا کے ہاں ثوابِ الدنیا اور ثواب الآخرت دونوں نہیں (4:134) ۔ خدا کی راہ میں جہاد کرنے والوں کو ثواب الدنیا اور ثواب الآخرۃ دونوں ملتے ہیں (3:147) خدا کے ہاں سے حسن التواب ملتا ہے۔ (3:194)
فتح قریب ‘ ثواب الدنیا ہے جو مومنوں کو عطا ہوتا ہے (48:18)
لہٰذا ثواب‘ انسانی اعمال کا وہ نتیجہ ہے جو محسوس شکل میں اس دنیا میں بھی ملتا ہے۔ اور آخرت میں بھی ملے گا۔ اس سے یہ بھی واضح رہے کہ یہ جو ہمارے ہاں ایصالِ ثواب کا عقیدہ رائج ہے۔
قرآن سے اس کی سند نہیں ملتی۔ جب ثواب کے معنی اپنے اپنے عمل کا نتیجہ ہیں‘ تو ایک شخص کے اعمال کے نتائج کسی دوسرے کی طرف منتقل کیسے ہو سکتے ہیں
(4) الثوب بھی اسیمادہ سے ہے جس کے عام معنی کپڑے ہیں لیکن عربوں کے ہاں ثیاب سے مراد انسان کی شخصیت بھی لیتے ہیں چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ فَلَاٌن وَنِسُ الثِّیَابَ۔ وہ شخص بڑی خبیث فطرت کا ہے ۔ اس کی شخصیت بڑی خراب ہے۔ (11:5) ا ور (71:7) میں یہ لفظ انہی معنوں میں آیا ہے ۔اس لحاظ سے قرآنِ کریم میں جو نبی اکرمؐ سے کہا گیا ہے کہ ثِیَابَکَ فَطَھِّرْ (74:4) تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ اپنی سیرت وکردار کو پاکیزہ رکھو۔
لیکن تَثْوِیْبٌ کے معنی ہیں لوگوں کو آواز دے کر بلانا۔ اکٹھا کرنا۔اس اعتبار سے ثِیَابَکَ فَطَھِّرْ کے معنی ہوں گے اپنی دعوت وپکار کو پاک اور صاف رکھو۔ اس میں نہ تو غلط تصورات ومقاصد کی آمیزش ہونے دو‘ نہ غلط قسم کے لوگوں کو اس میں گھسنے دو۔
(5) عام کپڑوں کے معنوں میں بھی یہ لفظ (ثیاب) آیا ہے (24:58) ۔ (24:60)
* ۔۔۔ * ۔۔۔ *

راشی دانشور

آج پھر سوشل میڈیا پہ شرمناک خبر گردش کر رہی ہے کہ دانشوروں کے بڑے بڑے نام بھی رشوت خور ہیں - میڈیا پہ بیٹھ کر دوسروں کے کپڑے اتارنے والے خود بھی ننگے ہیں - مغرب , سیکولر , لبرل سوچ کے مالک یہ اینکر جو بھی بولتے ہیں لفافے کا وزن دیکھ کر بولتے ہیں - یہ وہ لوگ ہیں جن کو سن کر لوگ اپنی راے قائم کرتے ہیں - اسلام کے نظام کی خوبیاں انکی زبانوں پہ اسی لئے نہیں آتی , کہ رشوت کسی بھی شکل میں ہو ایسا گناہ ہے جس کی سزا جہنم کی آگ ہے - ان صحافی لوگوں سے پولیس , فوج , سیاسی لیڈر , مذہبی قائدین , بیورو کریٹ غرضیکہ ہر کوئی خوف زدہ ہے - کیا اس صورت حال کے سامنے آنے سے یہ یقین کر لینا کہ یہی لوگ ہیں جو دشمنوں کے لئے راہ ہموار کرتے ہیں - یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے نظام کو برباد کرنے میں اہم رول ادا کیا -  ایسے لگتا ہے کہ ان سے زیادہ محب وطن کوئی دوسرا ہے ہی نہیں - مجال ہے کوئی ایک سیاسی لیڈر , کوئی ایک ایجنسی , کوئی محتسب اتنی جرات کرے کہ ان سے پوچھے یہ الزام ہے تو عدالت جایں , اگر سچ ہے تو اپنی دانشمندی کو ملک کی بربادی کیلیے استمعال کرنا بند کریں -
یہ مالدار شخص جس نے پورا معاشرہ گندہ کر دیا ہے , اس سے محبان وطن کیوں نہیں پوچھتے کہ صاحب , یہ دولت کی ریل پیل کا کوئی دوسرا استمعال کیوں نہیں کرتے - یہ دولت کیا درختوں پہ لگتی ہے جو بے دریغ بانٹ رہے ہو - وہ کیا مفادات ہیں جو اس رشوت کی آڑ میں حاصل کر رہے ہو - کہیں آپ بھی کسی بیرونی سازش کا حصہ تو نہیں ہو - یہ کوئی خوبی نہیں جس کا اشتہار آپ نے لگا رکھا ہے - میڈیا میں ایک برائی کا اظہار کچھ قابل تعریف نہیں - راتوں رات دولت عقل سے نہیں سازش یا کسی ناجائز رستے سے ہی آ سکتی ہے - وہ کونسا الہ دین کا چراغ ہے جس کو رگڑتے ہو اور کروڑوں روپے برائی کی راہ پہ خرچ کر ڈالتے ہو - کچھ ایسا ہی چراغ رگڑو اور وطن کے یتیم بچوں کے لئے امراء کے بچوں والی تعلیم کا بندوبست کر دو , ہسپتالوں میں دوائی کے لئے ترستے مریضوں کے علاج پہ توجہ کرو - ننگے , بھوکے لوگوں کی مدد کرو - نیکی بھی کما لو گے اور مشہوری کا ارمان بھی پورا ہو جایگا -
ہے کوئی جو یہ پیغام ان سب تک پہنچا دے -
شکریہ
آزاد ہاشمی

Thursday, 27 April 2017

رازداری نہیں خیانت

" رازداری نہیں خیانت "
پاکستان کی سیاست میں عمران خان کو ایک جرات مند ، بہادر اور محب وطن سیاسی لیڈر سمجھا جاتا ہے ۔ انصاف کی اس تحریک کا دعوی ہے کہ وہ سچائی کا پلڑا کبھی جھکنے نہیں دیں گے ۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قایداعظم کے بعد پہلا سیاسی لیڈر ، جو حق گوئی میں پورا اترتا ہے ۔
ابھی ایک نئی کہانی منظر عام پہ آئی ہے کہ محترم کو کسی نے دس ارب کی خطیر رقم کی پیشکش کی ہے کہ وہ پانامہ لیکس پر اپنا منہ بند رکھیں ۔ اور انہوں نے یہ پیشکش ٹھکرا دی ہے ۔
اب رازداری یہ ہے کہ پیشکش لانے والے کا نام منظر عام پہ نہیں لانا چاہتے ، کیونکہ وہ انکا دوست ہے اور اس وجہ سے کسی مشکل میں نہ پھنس جائے ۔
محترم نے اپنے تمام دعووں پر پانی پھیر دیا ۔ انصاف کی تحریک کا پلڑا جھکا دیا ہے ۔ جو شخص سودے بازی کروا رہا تھا ، وہ کسی بھی طور محب وطن نہیں ۔  اور کسی رعایت کس مستحق نہیں کیونکہ نہ جانے وہ کتنے سودوں میں ملوث ہو گا ۔ کتنی بار ملک بیچنے والوں ، عوام کے دشمنوں اور کرپٹ لوگوں کی دلالی کا فرض نبھاتا رہا ہو گا ۔
اسکا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ خان صاحب دوستوں کی محبت میں ملک کے خلاف اہم امور پر چپ اختیار کر کے اپنی سچائی ، حب الوطنی اور ساری تگ و دو کو مشکوک کر رہے ہیں ۔
دس ارب روپیہ قوم کا تھا ، لیکر قوم کو دے دیتے تو زیادہ  مثبت اقدام تھا ۔ 
خان صاحب کو معلوم ہونا چاہئے کہ برائی کے کو چھپانا بھی جرم ہے اور سدباب نہ کرنا بھی جرم ہے ۔ محض قوم کو بتا دینا کافی نہیں ۔
اگر سچ ہے تو سامنے لائیں اور اگر سامنے نہیں لاتے تو خود جرم کا ساتھ دینے کے مرتکب ہیں ۔
ازاد ھاشمی

صادق اور امین کی تکرار

" صادق اور امین کی تکرار "
ایک سوال گردش میں ہے کہ کونسا سیاسی لیڈر , اسمبلی کا ممبر , عدالت کا جج اور قیادت صادق و امین ہے .
ہم سب پر فرض ہے کہ ہم اپنے ذاتی مفادات سے پہلے , وطن , دین اور قومی فرائض کو ترجیح دیں .
اس اصول کے تحت کوئی بھی سیاستدان امین نہیں رہ جاتا . کیونکہ ہر سیاستدان , کسی نہ کسی رنگ میں , اپنے مفادات کو اولیت دے رہا ہے . اسمبلیوں کے تمام ممبران وہ مراعات حاصل کر رہے ہیں , جو انکی خدمات سے کئی گنا زاید ہیں . ان مراعات کا ملکی معیشت پر انتہائی منفی اثر ہے . قومی ترقی کی خاطر وصول کئے جانے والے ٹیکس , ان ممبران کی جیب میں چلے جاتے ہیں . جو کسی قانون و قاعدے مطابق ملکی مفاد نہیں . کچھ ایسا ہی حال باقی مقتدر لوگوں کا ہے .  قوم ان سیاستدانوں کو اپنی نمائیندگی کا امین بناتی ہیں اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی بھی سیاستدان نے مکمل امانتداری بنھائی ہو .
ان میں وہ سیاستدان جو مذہبی حلقوں کی نمائیندگی کرتے ہیں , وہ دہری بد دیانتی کے مرتکب ہیں . وہ مذہب کی ترویج کے لیے کبھی کچھ نہیں کرتے . جانتے ہوئے کہ جس راہ کا وہ انتخاب کئے بیٹھے ہیں , وہ اللہ کے راستے کے مخالف ہے . جھوٹ بولتے ہیں کہ یہ راہ تھوڑا آگے جا کے اسلام کی راہ بن جائے گی . یہ صداقت کی نفی اور منافقت کی تائید ہے .
گویا امانت اور صداقت کے ترازو پر کوئی ایک بھی پورا نہیں . بس فرق ہے کہ کوئی زیادہ جھوٹا ہے کوئی کم  . کوئی مکمل بد دیانت ہے کوئی آدھا .
انکی بد دیانتی اور جھوٹ کا ثبوت کہ جس کو آج بد دیانت کہتے ہیں کل اسی سے سیاسی گٹھ جوڑ کر لیتے ہیں . جو بد دیانتی کو جڑ سے اکھاڑنے کی بات کرتے ہیں , ان کے جلو میں بد دیانتوں کی فوج نظر آتی ہے .
باتوں اور عمل میں تضاد , امین اور صادق نہ ہونے کا بین ثبوت ہے اور ہر سیاستدان اسی کردار کا حامل ہے .
جو کہتے ہیں اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام , اور کوشش میں ہیں کہ جمہوریت پھلتی پھولتی رہے , ان سے بڑا جھوٹا کون ہو گا .
اگر یہ کہا جائے کہ سیاست میں جھوٹ اور خیانت کے سوا کچھ نہیں رہ گیا تو شاید حقیقت سے قریب تر ہو گا .
ازاد ھاشمی

Tuesday, 25 April 2017

سیاسی لیڈر اخلاقی دیوالیے

اگر ہم سیاستدانوں اور انکے حواریوں کا بغور جائزہ لیں , انکے بیانات , الزامات , ذاتی معاملات پر کیچڑ اچھالنے اور بحث و تمحیص میں ہونے والی گفتگو , سوشل میڈیا پر کارٹون اور تصاویر کی نمائش دیکھیں تو لگتا ہے کہ سب کے سب گلی محلوں کے غنڈے ہیں - تہذیب نام کی کوئی بھی شے انکے پاس سے نہیں گزری -
لیڈر کسی بھی قوم کی شناخت ہوا کرتے ہیں ,
تہذیبی اقدار کے امین ہوتے ہیں , آنے والی نسلوں کو رہنمائی دینے کا اہتمام کرتے ہیں ,
قوم میں شعور دیتے ہیں -
یہ ہمارے لیڈر کیا دے رہے ہیں - ہماری نسلوں کے لئے کونسی فصل بو رہے ہیں - یہ جو کر رہے ہیں , اسے کوئی بھی زی شعور ,وطن اور قوم کی خدمت نہیں کہہ سکتا -
اس پر طرہ یہ کہ ہر لیڈر نے صحافت کی منڈی سے صحافی خرید رکھے ہیں , دانشور بھی شو کیسوں میں سجے پڑے ہیں , جو اچھے دام دے گا ,اسی کے افعال کو سراہیں گے -
اسے کون ترقی کہے گا - مغربی تہذیب کے پجاری تو جو کر رہے ہیں , انکو کون روکے گا , مگر زبان اور الزام تراشی کا جو انداز مذہبی لوگوں نے بھی اپنا لیا ہے , وہ بھی شائستگی کی حدود سے باہر ہے - ایسے لگتا ہے کہ لیڈر مداری ہو گیے ہیں اور قوم تماش بین - روز  ایک  نیا  مداری ایک نئی ڈگڈگی بجانے آ جاتا ہے اور ہم دیہات کے چھوٹے بچوں کی طرح بھاگ کھڑے ہوتے ہیں , کہ تماشا دیکھیں گے - آج جتنے بھی لیڈر ہیں گھوم پھر کے سب کی خواہش کرسی ہے اور سب کے سب لبرل , سیکولر اور مغربی تہذیب کے لئے کوشاں ہیں , کچھ مذھب کے لبادے میں انہی کی پشت پر کھڑے ہیں - ہم اس دلدل میں گھستے جا رہے ہیں - اور سمجھ رہے ہیں کہ ترقی کی منزل یہی ہے - حالانکہ یہ اخلاقیات , تہذیب اور تمدن کی موت کی طرف جانے والی راہ ہے -
ہوش کرنے کی ضرورت ہے.
شکریہ
آزاد ہاشمی

Monday, 24 April 2017

قانون کے کمزور پہلو

" قانون کے کمزور پہلو "
کسی بھی مہذب معاشرے میں ہر شہری کے لئے لازم ہوتا ہے کہ وہ ان تمام فرائض  کو پورا کرے ، جو اس پر قانون کی صورت پہ لاگو ہیں ۔ قانون لاگو کرنے والے اداروں پہ بھی لازم ہے کہ وہ ہر شہری  کو وہ حقوق یقینی بنائیں جو اسے دئے گئے ہیں ۔ ان دونوں میں تناسب ہونا ضروری ہے ۔ ورنہ نہ قانون کی اہمیت رہے گی اور نہ اسے عملی طور پر مفید بنایا جا سکے گا ۔
ہمارے اوپر جو قانون لاگو ہے ، وہ مذہبی عقائد سے بھی مطابقت نہیں رکھتا اور نہ ہی معاشرتی رہن سہن کو تحفظ فراہم کرتا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ ہمارا قانون اندھا ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کیونکہ یہ قانون انگریز کی ضرورت کے مطابق تھا ، ہماری ضروریات کے مطابق نہیں ۔  مگر ہم نے اسے اپنا رکھا ہے اور مذہب سے اوپر کر رکھا ہے ۔ قانون نے ایک جج کو ایسا تحفظ فراہم کر دیا کہ عدالت کے اندر کھانسنا ، ہنسنا اور جج کی طبع نازک پر کوئی بھی ناگوار عمل قابل تعزیر ہے ، مگر اللہ کے رسول پر کوئی بھی بد کلامی عام سی بات ہے ۔ کتنے بد بخت اس جرم کے مرتکب عدالتوں میں آئے ، اور ٹہلتے ہوئے گھروں کو چلے گئے ۔  قانون کے رکھوالے اگر لبرل ہیں تو انکی عقل  میں مقام رسول ص کیسے  آئے گا ۔
قانون کا بد ترین سقم یہ ہے کہ جج کو صوابدیدی اختیار حاصل ہے ، گویا قانون کے قواعد و ضوابط سمجھ نہ آئیں تو جج کچھ بھی فیصلہ کر سکتا ہے ۔ بھلے وہ موت ہی کیوں نہ ہو ۔ دوسرا سقم استثناء ہے ۔ خاص لوگوں کو قانون آزادی دے دیتا ہے کہ انکے بہت سارے جرم جرم نہیں رہ جاتے ۔
ایسا قانون کیسے قابل عمل رہے گا  ، یہی سبب ہے کہ لوگوں نے فیصلے ہاتھوں میں لینا شروع کر دئے ۔ یہ ہوتا رہے گا ، جب تک قانون میں سقم رہے گا ، جب تک قانون مذہب سے متصادم رہے گا ، اور جب تک قانون ہر شہری کے لئے برابر نہیں ہو گا ۔ قانون اندھا اور جج بہرا ہو گا تو یہ سب جاری رہے گا ، قانون کے پاس دو نہیں چار آنکھیں ہونگی تو کام چلے گا.
  ازاد ہاشمی

عمران خان کے نام

" عمران خان کے نام "
محترم ! اللہ نے آپکو عزت دی ، کیونکہ آپ نے اسکے بندوں کے لئے فلاحی کام کیا ، ایک ہسپتال بنایا ۔ اب اس فلاحی کام کا صلہ آپ نے مانگا ، قوم آپکو مسیحا مان کر آپ کے ساتھ ہو گئی ۔ مذہب سے لگاو میں پٹھان اپنی شناخت رکھتے ہیں ، انہوں نے آپکو احترام دیا اور موقع دیا کہ آپ ملکی سیاست میں رہنمائی کریں ۔
یہ عزت اللہ کی عطا ہے ۔ اگر کوئی انسان یہ سوچ لے کہ عزت اسکے اعمال کا حق ہے ، تو یہ تکبر کا وہ زینہ ہے ، جس پر شیطان نے قدم رکھا اور ملعون ہو گیا ۔ 
کچھ دنوں سے آپ کے ہراول دستے کے آزاد خیال لوگ ، توہین رسالت کے قانون کو ختم کرانے کی باتیں کر رہے ہیں ۔ آج ایسی ہی سوچ آپ کے بیان سے بھی ظاہر ہو رہی ہے ۔
تو محترم ! گذارش یہ ہے کہ آپ کی سوچ اگر تبدیل نہیں ہوتی تو یقین کر لیں کہ سیا ست سے آپکو کچھ نہیں ملے گا ۔ اللہ اپنے حبیب کی شان میں گستاخی کرنے والے ، ایسے شخص سے ہر تعاون کرنے والے ، ایسی بے لگامی کی راہ ہموار کرنے والے کو کبھی عزت و احترام کے قابل نہیں کرے گا ۔
آپ اچھی طرح اگاہ ہیں کہ ابھی تک آپ کے عزت و احترام میں اضافہ نہیں ہوا ، آپ کا کوئی سیاسی داوٴ کامیاب نہیں ہوا ، آپ کی ووٹ بنک کا اندازہ بھی آپ کو ہو گا ۔
اگر آپ نے ناموس رسالت کے قانون  کے خاتمے پر حمایت کا کوئی بھی اقدام کیا تو یہ  بھیانک غلطی آپ کے سارے خواب مٹا دے گی ۔
یہ اب آپ کی مرضی پر منحصر ہے ، اس پر غور کریں یا اس آگ میں کود جائیں ۔
بہتر ہو گا کہ آپ غور کریں ۔
والسلام
ازاد ھاشمی

چلو جشن منائیں

" چلو جشن منائیں "
قوم کا وزیراعظم سرخرو ہو گیا ۔ عدالت نے عدل کا ترازو جھکنے نہیں دیا ۔ اکثریت جیت گئی  ۔ جمہوریت کا میٹھا پھل ، قوم جی بھر کے کھائے گی ۔ سارے مسائل اب پلک جھپکتے حل ہو جائیں گے ۔
قوم کو ماتم کرنا ہو گا ، ان قائدین کی عقلوں کا ، جو سوچ رہے تھے کہ عدالت برے کو برا اور اچھے کو اچھا کہے گی ۔ عدالتوں میں مصلحت اندیشی کا رواج ہو گا ، تو فیصلے اسی طرح کے آئیں گے ۔ اب جو بولے گا ، عدالت کی توہین کا مرتکب ہو گا ۔ یہ سارے قواعد و قانون اکثریت نے بنا رکھے ہیں ، انہیں ماننا ہو گا ۔ ان کی اطاعت کرنا ہو گی ۔ اندھوں کے نگر میں روشنی ہو یا اندھیرا کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ 
اس سارے کھیل میں اصل مجرم وہ نہیں جو ملک لوٹ رہے ہیں ، اصل مجرم وہ ہیں جو اپنی امانت داری کا ڈھنڈورا پیٹ کر ان مجرموں کی راہ ہموار کرتے ہیں ۔
آج اگر اسلام کا نظام ہوتا تو کیا فیصلہ ہوتا ۔ اگر پانامہ کیس سچائی تھی تو وزیراعظم کو کیا سزا ہوتی ، اگر جھوٹ تھا تو الزام لگانے والے کو کیا قیمت چکانی پڑتی ۔ اب اس نظام کے آگے اصل رکاوٹ کے تمام ذمہ دار قوم ، وطن اور مذہب کے مجرم ہیں ۔  انکی سرزنش کرو تاکہ انہیں ہوش آئے ۔
تماش بین قوم کو فیصلہ کرنا ہو گا ۔ کفر یا ایمان ۔ دونوں میں سے ایک نظام اپنانا ہو گا ۔ اگر ایمان کا نظام ہوا تو جج کو جرات نہیں ہو گی کہ وہ سیاسی فیصلے کرے ۔ اگر جمہوریت رہی تو پھر اکثریت ہی جیتے گی ۔ 
توہین رسالت کے قانون کو ختم کرنے کا سوچو گے تو رسوائی ملے گی ۔ دیکھ لو ، اور سوچ بدلو ۔ وہ راہ منتخب کر لو ، جس پر اللہ راضی ہے ۔ واویلا کرتے ہو کہ لوگوں کو قانون کی پاسداری کرنا چاہئے ، اب کیا کہتے ہو کہ لوگوں کو کیا کرنا چاہئے ۔
کیا اب جشن مناو گے ؟
ازاد ھاشمی

شب برات

" شب برات "
مانگنے والے ! ہے یہ مانگنے کی رات
دینے والے کے بانٹنے کی رات
موجزن ہے
رحمتوں کا سمندر
برسے گی بخششوں کی بارش
عطا کی رات ہے
سخا کی رات ہے
تیری دعا سے ,سوا ملے گا
دنیا ملے گی  , خدا ملے گا
جو مانگے گا ، بر ملا ملے گا
جھکا دے جبیں
پھیلا دے ہاتھ
برات مانگے گا  ، برات ملے گی
جو بھی مانگے گا , سوغات ملے گی
ازاد ھاشمی

اسراف اور اسراف کرنے والے

" اسراف اور اسراف کرنے والے "
حکم ربی ہے کہ
" بے جا ( اسراف ) خرچ نہ کرو ، اللہ بے جا خرچ کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا "
بے جا خرچ نہ کرنے کو سمجھنا ، آسان اور بالکل عام فہم ہے ۔ ہر وہ خرچ جو ضروریات سے ہٹ کر کیا جائے ، نمائش اور دکھاوے کی غرض سے ہو ، جس خرچ سے کسی بھی ذی روح کو فائدہ نہ ہو ، سب اسراف ہے ۔
سیاست کی بساط پر کیا جانے والا خرچ ، کیا کہلائے گا ۔ اس پر قطعی رائے تو مفتیان کا کام ہے ۔ مگر عام علمیت  کا حامل ہر شخص اس پر ہم خیال ہے ، یہ کروڑوں ، اربوں کے اخراجات ، جس کا کسی ذی روح کو فائدہ نہیں ، سوائے ذاتی اقتدار کے حصول کی کوشش کے  ، اسکا کوئی مثبت ، شرعی اور اسلام کے قواعد و ضوابط کا جواز نہیں ۔ لہذا اسے اسراف کے سوا کوئی دوسرا نام نہیں دیا جا سکتا ۔ جس شخص کے اردگرد ، ان گنت ضرورت مند ، مستحق اور مفلوک الحال لوگ موجود ہوں ، انکی ضروریات کو نظر انداز کر کے ، جو بھی خرچ کیا جائے گا ۔ اسراف ہے اور یہ اللہ کو نا پسند ہے ۔
یہ سیاسی تگ و دو ، اشتہارات ، جلسے ، مذاکرے اور نمائشی پروگرام ، سب اسراف ہے ۔ 
پر تعیش گاڑیاں ، بڑے بڑے گھر ، بڑی بڑی ضیافتیں ، اہل اقتدار کا پروٹوکول ، حکومتی محلوں کے بے ہنگم اخراجات ، اسمبلیوں کے ممبران کی مراعات ، سب اسراف ۔ سادگی کا درس دینے والے ، خیرات پر مدرسے چلانے والوں کی پر آسائش زندگیاں اسراف ۔
اگر ہم احتساب کی نظر سے دیکھیں ، تو سیاست کا سارا کھیل اسراف ۔
جو چیز ، جو عمل  اللہ کو نا پسند ہے ، اسے زندگی کا حصہ بنا لینا اور اس پر مصر رہنا ، اس کیلئے توجیہات تلاش کرنا ، دلائل کے کھوج میں لگے رہنا ۔ اللہ کے حکم سے انکار ہے ۔ اور اللہ کی ناراضگی کا مکمل سبب ۔
ہم غور کر لیتے تو جس معاشی پسماندگی کا شکار ہیں وہ نہ ہوتے ۔
ازاد ہاشمی