Saturday, 29 April 2017

راشی دانشور

آج پھر سوشل میڈیا پہ شرمناک خبر گردش کر رہی ہے کہ دانشوروں کے بڑے بڑے نام بھی رشوت خور ہیں - میڈیا پہ بیٹھ کر دوسروں کے کپڑے اتارنے والے خود بھی ننگے ہیں - مغرب , سیکولر , لبرل سوچ کے مالک یہ اینکر جو بھی بولتے ہیں لفافے کا وزن دیکھ کر بولتے ہیں - یہ وہ لوگ ہیں جن کو سن کر لوگ اپنی راے قائم کرتے ہیں - اسلام کے نظام کی خوبیاں انکی زبانوں پہ اسی لئے نہیں آتی , کہ رشوت کسی بھی شکل میں ہو ایسا گناہ ہے جس کی سزا جہنم کی آگ ہے - ان صحافی لوگوں سے پولیس , فوج , سیاسی لیڈر , مذہبی قائدین , بیورو کریٹ غرضیکہ ہر کوئی خوف زدہ ہے - کیا اس صورت حال کے سامنے آنے سے یہ یقین کر لینا کہ یہی لوگ ہیں جو دشمنوں کے لئے راہ ہموار کرتے ہیں - یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے نظام کو برباد کرنے میں اہم رول ادا کیا -  ایسے لگتا ہے کہ ان سے زیادہ محب وطن کوئی دوسرا ہے ہی نہیں - مجال ہے کوئی ایک سیاسی لیڈر , کوئی ایک ایجنسی , کوئی محتسب اتنی جرات کرے کہ ان سے پوچھے یہ الزام ہے تو عدالت جایں , اگر سچ ہے تو اپنی دانشمندی کو ملک کی بربادی کیلیے استمعال کرنا بند کریں -
یہ مالدار شخص جس نے پورا معاشرہ گندہ کر دیا ہے , اس سے محبان وطن کیوں نہیں پوچھتے کہ صاحب , یہ دولت کی ریل پیل کا کوئی دوسرا استمعال کیوں نہیں کرتے - یہ دولت کیا درختوں پہ لگتی ہے جو بے دریغ بانٹ رہے ہو - وہ کیا مفادات ہیں جو اس رشوت کی آڑ میں حاصل کر رہے ہو - کہیں آپ بھی کسی بیرونی سازش کا حصہ تو نہیں ہو - یہ کوئی خوبی نہیں جس کا اشتہار آپ نے لگا رکھا ہے - میڈیا میں ایک برائی کا اظہار کچھ قابل تعریف نہیں - راتوں رات دولت عقل سے نہیں سازش یا کسی ناجائز رستے سے ہی آ سکتی ہے - وہ کونسا الہ دین کا چراغ ہے جس کو رگڑتے ہو اور کروڑوں روپے برائی کی راہ پہ خرچ کر ڈالتے ہو - کچھ ایسا ہی چراغ رگڑو اور وطن کے یتیم بچوں کے لئے امراء کے بچوں والی تعلیم کا بندوبست کر دو , ہسپتالوں میں دوائی کے لئے ترستے مریضوں کے علاج پہ توجہ کرو - ننگے , بھوکے لوگوں کی مدد کرو - نیکی بھی کما لو گے اور مشہوری کا ارمان بھی پورا ہو جایگا -
ہے کوئی جو یہ پیغام ان سب تک پہنچا دے -
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment