" قانون کے کمزور پہلو "
کسی بھی مہذب معاشرے میں ہر شہری کے لئے لازم ہوتا ہے کہ وہ ان تمام فرائض کو پورا کرے ، جو اس پر قانون کی صورت پہ لاگو ہیں ۔ قانون لاگو کرنے والے اداروں پہ بھی لازم ہے کہ وہ ہر شہری کو وہ حقوق یقینی بنائیں جو اسے دئے گئے ہیں ۔ ان دونوں میں تناسب ہونا ضروری ہے ۔ ورنہ نہ قانون کی اہمیت رہے گی اور نہ اسے عملی طور پر مفید بنایا جا سکے گا ۔
ہمارے اوپر جو قانون لاگو ہے ، وہ مذہبی عقائد سے بھی مطابقت نہیں رکھتا اور نہ ہی معاشرتی رہن سہن کو تحفظ فراہم کرتا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ ہمارا قانون اندھا ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کیونکہ یہ قانون انگریز کی ضرورت کے مطابق تھا ، ہماری ضروریات کے مطابق نہیں ۔ مگر ہم نے اسے اپنا رکھا ہے اور مذہب سے اوپر کر رکھا ہے ۔ قانون نے ایک جج کو ایسا تحفظ فراہم کر دیا کہ عدالت کے اندر کھانسنا ، ہنسنا اور جج کی طبع نازک پر کوئی بھی ناگوار عمل قابل تعزیر ہے ، مگر اللہ کے رسول پر کوئی بھی بد کلامی عام سی بات ہے ۔ کتنے بد بخت اس جرم کے مرتکب عدالتوں میں آئے ، اور ٹہلتے ہوئے گھروں کو چلے گئے ۔ قانون کے رکھوالے اگر لبرل ہیں تو انکی عقل میں مقام رسول ص کیسے آئے گا ۔
قانون کا بد ترین سقم یہ ہے کہ جج کو صوابدیدی اختیار حاصل ہے ، گویا قانون کے قواعد و ضوابط سمجھ نہ آئیں تو جج کچھ بھی فیصلہ کر سکتا ہے ۔ بھلے وہ موت ہی کیوں نہ ہو ۔ دوسرا سقم استثناء ہے ۔ خاص لوگوں کو قانون آزادی دے دیتا ہے کہ انکے بہت سارے جرم جرم نہیں رہ جاتے ۔
ایسا قانون کیسے قابل عمل رہے گا ، یہی سبب ہے کہ لوگوں نے فیصلے ہاتھوں میں لینا شروع کر دئے ۔ یہ ہوتا رہے گا ، جب تک قانون میں سقم رہے گا ، جب تک قانون مذہب سے متصادم رہے گا ، اور جب تک قانون ہر شہری کے لئے برابر نہیں ہو گا ۔ قانون اندھا اور جج بہرا ہو گا تو یہ سب جاری رہے گا ، قانون کے پاس دو نہیں چار آنکھیں ہونگی تو کام چلے گا.
ازاد ہاشمی
Monday, 24 April 2017
قانون کے کمزور پہلو
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment