ہ ہمارے دین کی وہ اہم باتیں ہیں، جن کا علم مسلمانوں کی اکثریت کو نہیں ہے.
جبکہ ان بنیادی باتوں کا ہم سب کیلئے جاننا بہت اہم ہے۔
جو احکام الٰہی بندوں کے افعال و اعمال کے متعلق ہیں ان کی آٹھ قسمیں ہیں
فرض
واجب
سنت
مستحب
مباح
حرام
مکروہ تحریمی
مکروہ تنزیہی
1- فرض !
جو دلیلِ قطعی (قرآن کی آیاتِ محکمات اور سنتِ متواترہ محکمہ اور اجماع )سے ثابت ہو اور اس کا بغیر عذر چھوڑنے والا فاسق اور عذاب کا مستحق ہوتا ہے اور جو اس کا انکار کرے وہ کافر ہے.
پھر اس کی دو قسمیں ہیں.
فرض عین اور فرض کفایہ
فرض عین.
وہ ہے جس کا کرنا ہر ایک پر ضروری ہے اور جو کوئی اس کو بغیر کسی عذر کے چھوڑے وہ مستحق عذاب اور فاسق ہے جیسے پنج وقتی نماز اور جمعہ کی نماز وغیرہ۔
فرض کفایہ.
وہ ہے جس کا کرنا ہر ایک پر ضروری نہیں بلکہ بعض لوگوں کے ادا کرنے سے ادا ہو جائے گا اور اگر کوئی ادا نہ کرے تو سب گنہگار ہوں گے جیسے جنازہ کی نماز وغیرہ ۔
2- واجب !
جو دلیل ظنی(جس کی دلیل میں دوسرا ضعیف احتمال بھی ہو) سے ثابت ہو،ا سکا بلا عذر ترک کرنے والا فاسق اور عذاب کا مستحق ہے، بشرطیکہ بغیر کسی تاویل اور شبہ کے چھوڑے اور جو اس کا انکار کرے وہ بھی فاسق ہے ، کافر نہیں۔
3۔ سنت !
وہ فعل ہے جس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم نے کیا ہو۔
اس کی دو قسمیں ہیں.
سنت مؤکدہ اور سنت غیر مؤکدہ
سنت مؤکدہ !
وہ فعل ہے جس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم نے ہمیشہ کیا ہو اور بغیر کسی عذر کے کبھی ترک نہ کیا ہو۔
لیکن ترک کرنے والے پر کسی قسم کا زجر اور تنبیہ نہ کی ہو ۔اس کا حکم بھی عمل کے اعتبار سے واجب کا ہے ، یعنی بلا عذر چھوڑنے والا اور اس کی عادت کرنے والا فاسق اور گنہگار ہے.
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے محروم رہے گا۔ ہاں اگر کبھی چھوٹ جائے تو مضائقہ نہیں مگر واجب کے چھوڑنے میں بہ نسبت اس کے چھوڑنے کے گناہ زیادہ ہے۔
سنت غیر مؤکدہ !
وہ فعل ہے جس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم نے کیا ہو اور بغیر کسی عذر کے کبھی ترک بھی کیا ہو اس کا کرنے والا ثواب کا مستحق ہے اور چھوڑنے والا عذاب کا مستحق نہیں اور اس کو سنت زائدہ اور سنت عادیہ بھی کہتے ہیں.
4۔ مستحب.
وہ فعل ہے جس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم نے کیا ہو لیکن ہمیشہ اور اکثر نہیں بلکہ کبھی کبھی۔ اس کا کرنے والا ثواب کا مستحق ہے اور نہ کرنے والے پر کسی قسم کا گناہ نہیں اور اس کو فقہاء کی اصطلاح میں نفل اور مندوب اور تطوع بھی کہتے ہیں۔
5۔ مباح !
وہ حکم ہے جس کرنے میں ثواب نہ ہو اور نہ کرنے میں عذاب نہ ہو۔
6۔ حرام!
جسکا ممنوع ہونا دلیل قطعی سے ثابت ہو ،اس کا منکر کافر ہے اور اس کا بے عذر کرنے والا فاسق اور عذاب کا مستحق ہے۔
7۔ مکروہ تحریمی!
جسکا ممنوع ہونا دلیل ظنی سے ثابت ہو۔ اس کا انکار کرنے والا فاسق ہے ۔جیسے کہ واجب کا منکر فاسق ہے اور اس کا بغیر عذر کرنے والا گنہگار اور عذاب کا مستحق ہے۔
8۔ مکروہ تنزیہی!
وہ فعل ہے جس کے نہ کرنے میں ثواب ہو اور کرنے میں عذاب نہ ہو