Friday, 19 May 2017

احتساب

احتساب کا عمل انسان کی اپنی ذات سے شروع ہوتا ہے - یہی وہ جہاد ہے جس سے ہم جان  بچاتے ہیں - ہم جانتے ہیں کہ ہماری نجات کی صرف ایک ہی راہ ہے - وہ ہے اسلامی نظام کی راہ - جس میں نہ سربراہ , نہ کوئی لیڈر , نہ کوئی حکومتی اہلکار بد دیانت ہو سکتا ہے - نہ کبیرہ گناہ کی گنجائش ہے جو فساد کی اصل جڑ ہے - نہ کسی کو معاشرتی جرم کرنے پر معافی ہے - نہ کوئی کسی کی حق تلفی کر سکتا ہے - ہم سب اسلامی نظام سے گبھراتے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں ہمیں بہت ساری پابندیوں کو عملی طور پر قبول کرنا ہو گا - بہت ساری آزاد خالی باقی نہیں رہے گی - یہی وہ اسباب ہیں کہ ہم جمہوریت کی کشتی پہ سواری کو پسند کرتے ہیں - اسے کبھی اسلامی جمہوریت کہہ لیتے ہیں , کبھی عوام کی حکومت کا نظام کہہ لیتے ہیں , اور کبھی ترقی کا واحد نظام کہہ کر اسلامی نظام سے دوری کا راستہ ڈھونڈھ لیتے ہیں -
ہم سب چونکہ معاشرتی برائیوں کے عادی ہو چکے ہیں - مادر پدر آزادی چاہتے ہیں اسلیۓ اسلامی حدود سے بچنا چاہتے ہیں -
اگر ہم خود پہ اسلامی قوائد و ضوابط لاگو کر لیں تو بد قماش حکمران , راشی افسران , فسادی ملا , گناہ کبیرہ و صغیرہ کے عادی سیاستدان خود بخود ختم ہو جائیں گے - بے حیائی ترقی کے نام  پہ نہیں پھیلے گی -
ہمیں انفرادی طور پہ جمہوریت کے فریب سے نکلنا ہو گا - ووٹ کو مقدس امانت سمجھ کر زانی اور شرابی لیڈروں کی مدد نہیں کرنی ہو گی بلکہ یہ مقدس امانت اسلامی نظام کے نفاز کو لاگو کرنے کی جد و جہد  کے سپرد کرنا ہو گی - اپنے ارد گرد سیدھے سادے لوگوں کو آگاہی دینا ہو گی - ایک ایک فرد کی کوشش آگے بڑھے گی کیونکہ یہ وہ کوشش ہے جسے تائد ربی ہو گی - یہ سمجھ  لینا کہ  ہمارے اکیلے  سوچنے سے  کچھ  نہیں  بدلے  گا  الله  طاقت  پہ  نا  امیدی  ہے-
آ ئیے اس نیک کام میں اپنا اپنا حصہ ڈالیں -
آزاد ہاشمی

کیسا شکوہ

" کیسا شکوہ " 
چہرے کے شکن اور رنگت کی زردی گواہ تھی کہ اسکی عمر کس کشاکشی سے گذری ہو گی ۔ مگر چہرے کا سکون اور لہجہ میں ظرافت اسکے حوصلے اور توکل کی عکاس تھی ۔ گذشتہ کئی سال کی شناسائی میں کبھی نہیں دیکھا کہ اس نے کبھی اللہ سے گلہ کاایک لفظ بھی بولا ہو ۔ جب بھی کہا الحمدوللہ ہی کہا ۔ آج بھی بخار میں تپتا ہوا بدن ، مگر چند سکوں کی تلاش میں ، تاکہ جینے کی ضروریات پوری کر سکے ، وہ پورے انہماک سے مصروف تھا ۔ میں نے طبیعت کا پوچھا ۔ وہی لہجہ وہی اظہار تشکر ۔ 
" بابا جی ! کبھی اللہ سے شکایت بھی کی ، زندگی میں کبھی تو تھکن ہوتی ہو گی ، کبھی تو احساس مایوسی غالب آتا ہو گا ۔" 
بابا جی مسکرائے ۔ 
" کرتا ہوں ، بہت کرتا ہوں ۔ جب کسی بہکے ہوئے مسلمان کو دیکھتا ہوں ۔ کہتا ہوں اللہ سے ، اے قادر مطلق ، تیرے اختیار میں ہے ، تو اسکا دل بدل سکتا ہے ، کیوں نہیں بدل رہا ۔ اسے اس لذت سے آشنا کیوں نہیں کر رہا ، جس سے اپنے پسندیدہ لوگوں کو کرتا ہے ۔ اپنے لئے کیا مانگوں ، اطمینان کی جس دولت سے اس کریم نے نواز دیا ہے ، اسکے بعد کچھ  مانگنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی ۔ بیٹا ! دنیا مانگنا کوئی دانشمندی نہیں ، حماقت ہے ۔ میں اور آپ تو مسافر ہیں پھر کیوں حرص و ہوس کی غلامی کریں ۔ کیوں نہ اطمینان سے سفر کاٹیں ۔ یہ دنیا تو ایسی دلدل ہے جس میں گھسنے کے بعد انسان ایسے ڈوبتا ہے کہ بدبودار کیچڑ اسکے گلے میں گھس جاتا ہے ۔  کیا اس دلدل سے بچے رہنے پہ شکر کرنا چاہئے یا شکوہ ۔ بھوک لگتی ہے تو روٹی مل جاتی ہے ، پیاس لگے تو پانی ۔ پھر کیا شکوہ کروں رب سے ۔ سیانے کہتے ہیں کہ بیماری تو گناہوں کا بوجھ کم کرتی ہے ، پھر بیماری کا گلہ کیوں کروں ۔ " 
بابا جی کی انوکھی منطق کو کیا نام دیا جائے ۔ لگتا ہے وہ ٹھیک کہتے ہیں ۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے اطمینان قلب ممکن ہے ۔ 
شکریہ
آزاد ہاشمی

عزیز بلوچ‎

عزیر بلوچ کی کہانی سن کے یہ یقین ہو جاتا ہے کہ ہماری تمام اجنسیاں صرف کاغذی کاروائیوں کی ماہر ہیں - عملی طور پر نا اہل ہیں - اس  ساری کہانی سے بہت سارے سوال جنم لیں گے -
وہ پولیس افسران , وہ سیاسی لیڈر , وہ مذہبی گروپ , وہ تمام لوگ جو دہشت گردوں کی پشت پناہی , مالی اور قانونی امداد , پناہ گاہوں کی فراہمی کرتے ہیں - کیا انکا جرم معاف ہو جاے گا , یا انھیں  بھی پوچھا جاے گا کہ یہ وطن سے غداری کیوں کی - کیا انہیں ان جرائم میں ملوث ہونے کی وہی سزا ملے گی , جو غدار کی ہوتی ہے - کیا ایجنسیوں کے ذمہ داروں سے پوچھا جاے گا کہ تم لوگ ملک کے وسائل کو ہڑپ کر رہے ہو - اپنی ڈیوٹی کیوں نہیں کرتے -
کیا یہ تسلیم نہیں کر لینا چاہیے کہ دہشت کرنے والے ہمارے اداروں پر حاوی ہیں - کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ عزیر بلوچ کو آئ جی پولیس لگا دیا جاے -
ایف آئ اے کے وہ بہادر افسران کہاں ہیں جنہوں نے بول ٹی وی کے سربراہ کو امریکنوں کی ایماء پر کنگال کر دیا -
کیا ایسا کوئی جج ہے جو از خود ان تمام محرکات کا نوٹس لے گا -
سالہا سال سے جرم پلتا رہتا ہے اور کسی کو کان و کان خبر نہیں ہوتی - نہ
میڈیا بولتا ہے  نہ  دانشور-
کیا اسمبلیوں میں قانون بنانے والے اس ساری حماقتوں پر بھی بولیں گے -
ہمیں جو برائی عزیر بلوچ میں دکھائی جا رہی ہے - اس سے کہیں زیادہ برائی ان پولیس افسران میں تھی , ان سیاسی لیڈروں میں تھی , جنہوں نے اسے ہر سہولت دے رکھی تھی -
آزاد ہاشمی

دو چار جلوس اور

" دو چار جلوس اور " 
عافیہ صدیقی ، ایک بیٹی اس وطن کی ، ایک مظلوم بہن غیرت کے مبلغوں کی ۔ کیسے اٹھا لی گئی ، کیوں اٹھا لی گئی ، کیوں اس بےچاری کی عزت و ناموس پامال کی گئی ۔ کیا ایسا جرم تھا جو ایسی بھیانک سزا  ملنی چاہئے تھی ۔ وہ صرف پاکستانی نہیں تھی ، بہن اور بیٹی تھی ہر کلمہ گو کی ، جو کسی بھی خطے کا باسی ہے ۔ ہم مسلمان قوم بن جاتے تو کسی کی جرات نہیں تھی کہ ہماری ناموس یوں پامال ہوتی ۔ ہم پہلے فرقوں میں تقسیم ہوئے ، اور یہ کارنامہ ہمارے علماء نے سرانجام دیا ۔ عیسائی صرف عیسائی ہے ،  پروٹنسٹ ہے تو بھی عیسائی ، کیتھولک ہے تو بھی عیسائی ۔ یہودی صرف یہودی ہے وہ کہیں بھی رہتا ہے ۔ پہلے یہودی ہے پھر اسکا کوئی ملک ہے ۔  مگر مسلمان کی پہلی شناخت شیعہ ، سنی ، اہلحدیث وغیرہ وغیرہ ہے ، پھر وہ ایرانی ہے ، پاکستانی ہے ، پھر وہ راجہ ، رانا ، سید ، خان ہے ۔ پھر کہیں جا کے مسلمان ۔ تقسیم در تقسیم کے اس عمل نے ہمیں اتنا کمزور کر دیا ہے ۔ کہ جس کا جب دل چاہے ہماری ناموس کو پاوں تلے روند ڈالے ۔  ہمارے حریت کے علمبردار ، جہاد کے پیامبر  اور مذہبی چیمپئن ، سیاست کے کھلاڑی کیا کرتے ہیں ۔ چند وعدے ، چند بیان ، چند جلوس ، چند مذاکرے ۔ آخر بے بس قوم اور کر بھی کیا سکتی ہے ۔  ہمیں باہمی خلفشار سے وقت ملے تو اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کا سوچیں ۔ ہمیں فرقہ پرستی سے فرصت ملے تو امت مسلمہ کا بندھن مضبوط کریں ۔ کمزور قوموں کی بہن ، بیٹیاں ، عزت و آبرو ، جان و مال طاقتور قوموں کا مال غنیمت ہوتا ہے ۔ آج میرے گلے میں پھندہ ، کل آپ کے گلے میں ۔  
سمجھ نہیں آتا آخر وہ کیا وجہ ہے کہ پوری دنیا کے مسلمان رہنما اسطرف توجہ نہیں دیتے ۔ جو بولتا ہے اپنے لوگوں کے ہاتھوں مروا دیا جاتا ہے ۔ شاہ فیصل ، قذافی ، بھٹو ، صدام اسکی بین مثالیں ہیں ۔ شائد خوف یا پھر مصلحت حائل رہتی ہے ۔ 
امت مسلمہ کیلئے لمحہ فکریہ ہے ۔ 
شکریہ 
ازاد ہاشمی

سرمایہ کا نشہ

ج ایک ٹی وی پروگرام دیکھا - ایک سرمایہ دار کی کامیابی کی کہانی جسے یہ زعم ہے کہ اس نے بے پناہ دولت بنا لی اور اس وقت اسکے پاۓ کا کوئی دوسرا کاروباری پاکستان میں نہیں - اسکی اس کامیابی کے پیچھے نظام کو خرید لینے کا ہنر ہے - اور وہ سربراہ حکومت سے لے کر ہر کسی کو خرید سکتا ہے - اسکا یہ خیال کہ ہر شخص کی ایک قیمت ہے اور ہر کوئی بک جاتا ہے -
یہ بات اس نے میڈیا پہ کہی اور اسکے سامنے بیٹھا ہوا منہ زور صحافی بھیگی بلی سے زیادہ کچھ نہیں تھا -
یہ ایک حقیقت تھی جو وہ سرمایہ دار کہہ رہا تھا - مگر یہ حقیقت ایک نہایت شرمناک پہلو تھا , سرمایہ دار کی شخصیت کا اور پورے نظام کا , جس میں برائی کو کامیابی بنا کر پیش کیا گیا  -
اگر برائی کا سہارا لے کر دولت کما لی جاے تو یہ کوئی قابل تعریف بات نہیں - اور نہ ہی کوئی خوبی ہے -
دولت کی ریل پھیل انسان کا امتحان ہوا کرتا ہے - اور ہمیشہ دولت کے نشے میں مخمور  , الله  کی پکڑ کا شکار ہوے ہیں -
موصوف کو اپنی اصلاح کی ضرورت ہے , پیسہ بہت کما لیا , اس سے خیرات بھی بہت کی ہو گی -
مگر یہ اعلان کہ یہ پیسہ اس ذریعے سے کمایا , جس کے لئے جہنم کی آگ کی نوید ہے -
موصوف ہواؤں سے نیچے آ کر سوچنا شروع کریں - مجھے
خوشی  ہو گی  - اگر  کوئی  بھائی  موصوف  کو  یہ  باور  کرا دے کہ اس نے اپنی خطا کا کروڑوں لوگوں کو گواہ بنا لیا - الله اسے توبہ کی توفیق بخشے - آمین
آزاد ہاشم

کہیں ایسا تو نہیں

کہیں ایسا تو نہیں "
میڈیا پر مسلسل ایسے لوگوں کو لانا , جو اسلام  کے اساسی مسائل کو الجھا رہے ہیں , جو کردار کے لحاظ سے قطعی طور اسلام سے مطابقت نہیں رکھتے , لبرل سوچ کو پوری کوشش سے آگے بڑھانے کے  لئے علماء کے بھیس میں ماڈرن دانشوروں کی پوری کھیپ  میڈیا پر براجمان ہے - اور  اسلامی اقدار کو مذاق کی شکل دی جا رہی ہے -
کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ ایک پہلے سے تیار کیا ہوا منصوبہ ہو , کہ ان شہرت کے بھوکے افراد کو استعمال کر کے مذھب کی اساس میں مغربیت کا پیوند لگا دیا جاے - جو کام فرقہ بندی سے نہیں ہو سکا وہ اس منصوبے سے پورا کیا جاے - علماء میں  اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو صاحب کردار بھی ہیں اور علمی اعتبار سے مستند بھی - پھر کیا وجہ ہے ان سب کو اہمیت دینے کی بجاے   یہ ماڈرن دانشور پورے میڈیا پہ لا کر بیٹھا دیے گئے ہیں - جنھیں نہ دین کی خبر ہے اور نہ اسلامی اقدار کا لحاظ -  حیرانی کی بات ہے کہ ایک مفتی اسقدر ذہنی طور پر نا بالغ کیسے ہو گیا , کہ اپنے سر کی توقیر اٹھا کر ایک فیشن زدہ بچی کے سر پر رکھ دی -
مفتی بننے کے لئے صرف چند کتابیں پڑھ لینا ہی تو معیار نہیں ہوتا , ایک کردار کی تعلیم بھی اسکا حصہ ہوتی ہے -
کہیں ایسا تو نہیں
کہ اسلامی مدرسوں میں یہ مفتی اس پنیری کا ایک پودا ہو , جو مسلسل یہودی لگاتے رہے ہیں - تا کہ اسلام کا تصور تبدیل ہو سکے -
کہیں  ایسا تو نہیں ,
کہ اسلام کی تہذیب کو تبدیل کرنے کے لیے ایک سازش تکمیل کیطرف بڑھ رہی ہو - یہ وہی ملا ہیں جو فتوے بانٹتے رہتے ہیں - الله کی توحید کا ایمان رکھنے والا , حبیب خدا کو رسول  کو بر حق کہنے والا , نماز اور روزے کی پابندی کرنے والا , قران کی تعلیمات کو الہامی احکامات تسلیم کرنے والا  , اگر ان مفتیوں سے عقائد کا اختلاف رکھے تو اسے کافر قرار دینا انکے لئے کوئی مشکل نہیں - انکے اپنے اعمال اگر یہ ہیں تو انکے ایمان کا فیصلہ کون کرے گا -
کہیں ایسا تو نہیں
کہ یہ ملت نبی کو تقسیم کرنے والا گروہ ہے -
آؤ فکر کریں -
شکریہ
آزاد ہاشمی

چیخو ، جتنا چیخ سکو

" چیخو ، جتنا چیخ سکو "
قوم کے سامنے ہر روز ایک نیا امتحان کھڑا ہے ۔ سارے جتن بے سود ہو گئے ہیں اور سارے جتن بے سود ہو جائیں گے ۔ ساری تدبیریں ناکام رہیں گی ۔ کچھ حاصل نہیں ہو گا ۔
جو راستہ ہم نے چن رکھا ہے ، اسکی منزل اندھیرا کنواں ہے ۔ ہم نے اگر راستہ نہ بدلا تو اس کنویں میں گرنا مقدر ہے ۔
ایک ایک کر کے سارے ادارے اپنے فرائض سے غافل ہیں ۔ محافظ رہزن کی حفاظت کر رہا ہے اور بے خبر ہے ۔ عدالت عدل کا گلا گھونٹ رہی ہے اور بے خبر ہے ۔ دین کی کشتی کے پتوار سنبھالے ہوئے علماء قران کی تعلیمات سے بے خبر ہیں ۔ قانون بنانے والے قانون کے ابجد سے اگاہ نہیں ۔
دانشور نے آنکھیں بند کر لی ہیں ، اور جاہل راستہ بتا رہا ہے ۔ سب کے سب بھانت بھانت کی بولی بول رہے ہیں ۔ شور ہے غلغلہ ہے ۔ کوئی سوچتا ہی نہیں کہ یہ سب کیوں ہو رہا ہے ۔ کون روکے گا ، کیسے رکے گا ۔ اندھے رہنما اندھی قوم ۔ داخلی امور کنٹرول سے باہر ، خارجہ پالیسی زیرو ۔ جن سے دوستی ضروری تھی ان سے دشمنی بنا لی اور جو دشمن تھے انہیں دوست سمجھ لیا ۔  یہ سب اسلئے کہ ہم نے اللہ کے نظام سے ضد کر لی کہ اسے نافذ نہیں ہونے دینا ۔ قران کے احکامات کو سمجھنے اور عمل کرنے سے گریز کیا ۔ اللہ کی رضا سے عاری ہو گئے ۔ مسیحا کا انتظار اور وہ بھی مسیحا بھیجنے والے کی ہدایت سے نظریں پھیر کر ۔
کیا قوموں پر برے حکمران ، قوموں کے کردار کے سبب نہیں ہوتے ؟
چیخنے سے کیا ہو جائے گا ۔
چور چوری چھوڑ دے گا ؟
بد کردار صالح بن جائے گا ؟،
غدار کے دل میں حب الوطنی جاگ جائے گی ؟
کچھ نہیں ہو گا ،  کوئی تبدیلی نہیں آئے گی ۔  سب ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں ۔
اگر مخلص ہو تو نظام بدلنے کے لئے اٹھو ۔ سب ٹھیک ہو جائے گا ۔ 
ازاد ھاشمی

Thursday, 18 May 2017

اصلاح نفس کے اصول

*اصلاح نفس کے چار اصول ہیں:*
....................................................................
*1- "مشارطہ"*
اپنے نفس کیساتھ"شرط" لگانا کہ"گناہ" نہیں کروں گا-
*2- " مراقبہ"*
کہ آیا "گناہ" تو نہیں کیا-
*3- "محاسبہ"*
کہ اپنا حساب کرے کہ کتنے "گناہ"کیے اور کتنی "نیکیاں" کیں-
*4- "مواخذه"*
کہ"نفس" نے دن میں جو "نافرمانیاں" کیں ھیں اس کو ان کی"سزا" دینا اور وہ سزا یہ ھے کہ اس پر "عبادت" کا بوجھ ڈالے-
(امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ ۔۔۔ احیاء علوم الدین)
1)هرصبح نفس کے ساتهہ شرط لگائ جاے کہ آج دن بهر گناه نہیں کروں گا.....
2) دن بهر اپنی نگرانی رهے کہ گناه نہ هوجاے.
3) رات کو سونے سے پہلے تنہائ میں دن بهر کا جائزه لیا جاے کہ کیا غلط هوا اور کیا اچها هوا ......
4) جوغلط هوا اس پر شرمندگی کے ساتهہ استغفار کرلے اور جو اچها کیا اس پر خوب اللہ تعالی شکر کرے.....
یہ حاصل هے اوپر ذکرکئے گے اصلاح نفس کے اصول کا ...اللہ تعالی هم سب کو اپنی اصلاح کی طرف متوجہ فرمادے آمین.

غداری کس نے کی

" غداری کس نے کی "
سب کہتے ہیں کہ نواز شریف نے ملک  کے مفادات سے دہوکہ کیا - دشمن سے ساز باز کی ۔ اسلئے غداری کا ارتکاب کیا ۔ کچھ لوگ تو غداری کی سزا پھانسی تجویز کرتے ہیں ۔ نواز شریف نے تو جو کیا سو کیا ۔ مگر ان لوگوں کی کیا سزا ہے ، جنہوں نے اسکی اعانت کی ۔ ان لوگوں کی کیا سزا ہے ، جو اپنی ذمہ داری سے غافل رہے اور ملکی مفادات کے سودے ہوتے رہے ۔ ان لوگوں کی کیا سزا ہے ، جو ثابت ہو جانے پہ ، کہ وطن سے غداری ہوئی اور مصلحت کے پیش نظر خاموشی اختیار کئے بیٹھے ہیں ۔  نواز شریف تو ایک مہرہ ہے ۔ غداری کا عمل تو ہر ذمہ دار نے کیا ۔ ہر سیاستدان نے کیا ، جو ملک کو لٹتا دیکھتے رہے ۔ پارلیمنٹ کے ہر ممبر نے کیا ، جو اپنی مراعات کے علاوہ کچھ سوچتے ہی نہیں ۔
غداری تو ہم سب کرتے ہیں ، جو ووٹ کو مقدس امانت بھی کہتے ہیں اور ووٹ دیتے وقت نہیں سوچتے کہ جس نظام کو ہم لا رہے ہیں ، وہ اکثریت کا نظام ہے ۔ وہ ہاتھ گننے کا نظام ہے ۔  اور اکثریت بد کردار ، خائن اور دروغ گو ہے ۔ اس منتخب اکثریت کی طاقت کون ہے ۔ میں اور آپ ۔ غدار کون ہے ، میں اور آپ ۔
میں اور آپ نے صرف ملک سے غداری نہیں کی ، بلکہ اپنے ایمان سے غداری کی ۔ نظام ربی سے غداری کی ۔ نظام مصطفےٰ سے غداری کی ۔ قران کے قانون سے غداری کی ۔ ایک نواز شریف کی سزا سے کیا ہو جائے گا ۔ دوسرا ، تیسرا چوتھا ، جو بھی آئے گا ، یہودی کے نظام کا ایجنٹ اور اللہ کے نظام کا غدار ہی آئے گا ۔  میں اور آپ پھر واویلا کرتے رہیں گے ۔ نظام بدلے گا تو سب بدلے گا ۔
ازاد ھاشمی

اے آسودہ حال لوگو

" اے آسودہ حال لوگو "
اللہ کے ان احسانات کا شکر کرو ، کہ اس نے مفلسی ، غربت اور بے بسی کے دکھ سے دور رکھا ہے ۔ جو چاہتے ہو پہنتے ہو ، جو چاہتے ہو کھاتے ہو ، فکر معاش سے آزاد ہو ۔ اسے اللہ کا احسان بھی سمجھو اور امتحان بھی ۔
رمضان کا مبارک مہینہ ، رحمتوں کے نزول کا مہینہ ہے ۔ لمبے لمبے دستر خوانوں پر دنیا کی نعمتیں ، پھل ، مشروب ، ترش و شیریں کھانے سجانے کے قابل ہو ۔ مت بھولنا ، ان غریب ، مسکین ، یتیم اور مستحقین کو ، جو آپ کے گرد و نواح میں ان سب کو ترسیں گے ۔ جو سوکھی ہوئی روٹی سے سحر کریں گے اور پانی کے چند گھونٹ لیکر افطار ۔  یہ تمہارے روزہ کا امتحان ہیں ۔
تمہاری  پر آسائش افطاری دیکھ کر ، اگر ایک آہ انکے دل سے نکل گئی  ، تو یاد رکھو تمہاری عبادت اللہ کے ہاں کبھی قبولیت نہیں پائے گی ۔ دستر خوان وسیع کر دو ، انکو ساتھ بٹھا لو ۔ دنیا میں کئی گنا کی ضمانت اللہ دیتا ہے ۔ آخرت کی بھلائی آپ کا حق بن جاتا ہے ۔ 
اللہ کے دئے ہوئے وسائل ، اسکے بندوں کے لیے وقف کر کے دیکھو ، وہ سکون ملے گا ، جس کی لذت زندگی بھر ساتھ رہے گی ۔  رمضان کی رحمتیں لوٹنا چاہو تو اپنے گرد و نواح کے ہر روزہ دار کو تنگی اور مفلسی کا احساس مت ہونے دینا ۔
ازاد ھاشمی

تمام سیاستدانوں کے نام

" تمام سیاستدانوں کے نام "
محترمین ! آپ کی کاوش کہ ملک کو آسودہ بنانا ہے ۔ آپ کی تشہیر کہ آپ نے سیاست عبادت سمجھ کر شروع کر رکھی ہے ۔ آپ کے دعوے کہ قوم کی حالت کو سدھارنے کے لئے اٹھارہ گھنٹے کام کرتے ہو اور نیند آرام سب قربان کر رکھا ہے ۔ سچ اور جھوٹ کو اللہ جانتا ہے ۔ دل کے ارادوں سے بھی وہی اگاہ ہے ۔ نیتوں کے بھید اس کی پاک ذات سے پوشیدہ نہیں ۔ اگر ان تمام باتوں میں خلوص ہے ، وہ انصاف کرنے والی ذات ہے ، آپ کی کوششوں کا ثمر ضرور ملے گا ۔
مجھے آپ کے کردار پر کچھ نہیں کہنا ۔ ایک گذارش کرنی ہے آپ سب سے کہ
رمضان مبارک میں ، وہ تمام اخراجات جو دھرنوں پہ ، سیاسی نمائش اور ذاتی عیاشیوں میں اڑاتے ہو ۔ وہ اپنے اپنے حلقوں میں غریبوں کو دے دو ۔ تا کہ وہ بھی رمضان کی ضرورتوں کا احسن انتظام کر سکیں ۔ مگر خیال رہے ، یہ سب فوٹو سیشن کے بغیر ہو تو زیادہ احسن ہو گا ۔ کیونکہ فوٹو سیشن میں ریا اور دکھاوہ آجائے گا اور آپ کی محنت اکارت جائے گی ۔ غریب کی عزت نفس بھی مجروح نہیں ہو گی ۔ جو اللہ کو نا پسند ہے ۔  دنیا کما چکے ہو اور اپنے دھن کو کرسی کی ہوس میں اڑانے سے کہیں بہتر ہے کہ اللہ کی رضا میں اڑا دو ۔
دوستوں سے التجا ہے کہ یہ خط ، ہر سیاستدان تک پہنچانے میں مدد کریں ۔ شاید کسی ایک کو سمجھ آجائے ،  اسکی عاقبت بھی سدھر جائے ، غریب کا بھی بھلا ہو جائے اور رمضان کا مقصد بھی مکمل ہو جائے ۔
نوازش ہو گی
ازاد ہاشمی

Wednesday, 17 May 2017

علی ع اور حسن ع

امام اصفہانی رح نے حلیۃ الاولیاء میں
حضرت علی ابن ابی طالب(ع)
اور حضرت حسن بن علی (ع)
کا ایک دلچسپ اور معارف سے بھرپور مکالمہ ذکر کیا ہے،
اس میں حضرت علی ابن ابی طالب کے کچھ سوالات اور
حضرت حسن ابن علی کی جانب سے ان سوالات کے جواب دیئے گئے ہیں:

حضرت علی :
راہ راست کیا ہے؟
حضرت حسن :
برائی کو بھلائی کے ذریعہ دورکرنا ۔

حضرت علی :
شرافت کیا ہے؟
حضرت حسن :
خاندان کو جوڑ کر رکھنا اور ناپسندیدہ حالات کو برداشت کرنا ۔

حضرت علی :
سخاوت کیا ہے؟
حضرت حسن :
فراخی اورتنگ دستی دونوں حالتوں میں خرچ کرنا ۔

حضرت علی :
کمینگی کیا ہے؟
حضرت حسن :
مال کو بچانے کے لئے عزت گنوابیٹھنا ۔

حضرت علی :
بزدلی کیا ہے؟
حضرت حسن :
دوست کو بہادری دکھانا اوردشمن سے ڈرتے رہنا ۔

حضرت علی :
مالداری کیا ہے؟
حضرت حسن :
اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر راضی رہنا،خواہ مال تھوڑا ہی کیوں نہ ہو ۔

حضرت علی :
بردباری کیا ہے؟
حضرت حسن :
غصے کو پی جانا اورنفس پر قابورکھنا ۔

حضرت علی :
بے وقوفی کیا ہے؟
حضرت حسن :
عزت دارلوگوں سے جھگڑا کرنا ۔

حضرت علی :
ذلت کیا ہے؟
حضرت حسن :
مصیبت کے وقت جزع فزع کرنا ۔

حضرت علی :
تکلیف دہ چیز کیاہے؟
حضرت حسن :
لایعنی اورفضول کلام میں مشغول ہونا ۔

حضرت علی :
بزرگی کیا ہے؟
حضرت حسن :
لوگوں کے جرمانے ادا کرنا اورجرم کو معاف کرنا ۔

حضرت علی :
سرداری کس چیز کا نام ہے؟
حضرت حسن :
اچھے کام کرنا اوربرے امور ترک کردینا ۔

حضرت علی :
نادانی کیا ہے؟
حضرت حسن :
کمینے لوگوں کی اتباع کرنا اورسرکش لوگوں سے محبت کرنا ۔

حضرت علی :
غفلت کیا ہے؟
حضرت حسن :
مسجد سے تعلق ختم کرلینا اوراہل فساد کی اطاعت کرنا ۔

حوالہ کتب !

حلیۃ الأولیاء:۲/۳۶،
المعجم الکبیر:۳/۶۸
التماس دعا:

دینی معلومات

ہ ہمارے دین کی وہ اہم باتیں ہیں، جن کا علم مسلمانوں کی اکثریت کو نہیں ہے.

جبکہ ان بنیادی باتوں کا ہم سب کیلئے جاننا بہت اہم ہے۔
جو احکام الٰہی بندوں کے افعال و اعمال کے متعلق ہیں ان کی آٹھ قسمیں ہیں

فرض
واجب
سنت
مستحب
مباح
حرام
مکروہ تحریمی
مکروہ تنزیہی

1- فرض !

جو دلیلِ قطعی (قرآن کی آیاتِ محکمات اور سنتِ متواترہ محکمہ اور اجماع )سے ثابت ہو اور اس کا بغیر عذر چھوڑنے والا فاسق اور عذاب کا مستحق ہوتا ہے اور جو اس کا انکار کرے وہ کافر ہے.
پھر اس کی دو قسمیں ہیں.

فرض عین اور فرض کفایہ

فرض عین.

وہ ہے جس کا کرنا ہر ایک پر ضروری ہے اور جو کوئی اس کو بغیر کسی عذر کے چھوڑے وہ مستحق عذاب اور فاسق ہے جیسے پنج وقتی نماز اور جمعہ کی نماز وغیرہ۔

فرض کفایہ.

وہ ہے جس کا کرنا ہر ایک پر ضروری نہیں بلکہ بعض لوگوں کے ادا کرنے سے ادا ہو جائے گا اور اگر کوئی ادا نہ کرے تو سب گنہگار ہوں گے جیسے جنازہ کی نماز وغیرہ ۔

2- واجب !

جو دلیل ظنی(جس کی دلیل میں دوسرا ضعیف احتمال بھی ہو) سے ثابت ہو،ا سکا بلا عذر ترک کرنے والا فاسق اور عذاب کا مستحق ہے، بشرطیکہ بغیر کسی تاویل اور شبہ کے چھوڑے اور جو اس کا انکار کرے وہ بھی فاسق ہے ، کافر نہیں۔

3۔ سنت !
وہ فعل ہے جس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم نے کیا ہو۔

اس کی دو قسمیں ہیں.

سنت مؤکدہ اور سنت غیر مؤکدہ

سنت مؤکدہ !

وہ فعل ہے جس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم نے ہمیشہ کیا ہو اور بغیر کسی عذر کے کبھی ترک نہ کیا ہو۔
لیکن ترک کرنے والے پر کسی قسم کا زجر اور تنبیہ نہ کی ہو ۔اس کا حکم بھی عمل کے اعتبار سے واجب کا ہے ، یعنی بلا عذر چھوڑنے والا اور اس کی عادت کرنے والا فاسق اور گنہگار ہے.
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے محروم رہے گا۔ ہاں اگر کبھی چھوٹ جائے تو مضائقہ نہیں مگر واجب کے چھوڑنے میں بہ نسبت اس کے چھوڑنے کے گناہ زیادہ ہے۔

سنت غیر مؤکدہ !

وہ فعل ہے جس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم نے کیا ہو اور بغیر کسی عذر کے کبھی ترک بھی کیا ہو اس کا کرنے والا ثواب کا مستحق ہے اور چھوڑنے والا عذاب کا مستحق نہیں اور اس کو سنت زائدہ اور سنت عادیہ بھی کہتے ہیں.

4۔ مستحب.

وہ فعل ہے جس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم نے کیا ہو لیکن ہمیشہ اور اکثر نہیں بلکہ کبھی کبھی۔ اس کا کرنے والا ثواب کا مستحق ہے اور نہ کرنے والے پر کسی قسم کا گناہ نہیں اور اس کو فقہاء کی اصطلاح میں نفل اور مندوب اور تطوع بھی کہتے ہیں۔

5۔ مباح !

وہ حکم ہے جس کرنے میں ثواب نہ ہو اور نہ کرنے میں عذاب نہ ہو۔

6۔ حرام!

جسکا ممنوع ہونا دلیل قطعی سے ثابت ہو ،اس کا منکر کافر ہے اور اس کا بے عذر کرنے والا فاسق اور عذاب کا مستحق ہے۔

7۔ مکروہ تحریمی!

جسکا ممنوع ہونا دلیل ظنی سے ثابت ہو۔ اس کا انکار کرنے والا فاسق ہے ۔جیسے کہ واجب کا منکر فاسق ہے اور اس کا بغیر عذر کرنے والا گنہگار اور عذاب کا مستحق ہے۔

8۔ مکروہ تنزیہی!

وہ فعل ہے جس کے نہ کرنے میں ثواب ہو اور کرنے میں عذاب نہ ہو