" دو چار جلوس اور "
عافیہ
صدیقی ، ایک بیٹی اس وطن کی ، ایک مظلوم بہن غیرت کے مبلغوں کی ۔ کیسے
اٹھا لی گئی ، کیوں اٹھا لی گئی ، کیوں اس بےچاری کی عزت و ناموس پامال کی
گئی ۔ کیا ایسا جرم تھا جو ایسی بھیانک سزا ملنی چاہئے تھی ۔ وہ صرف
پاکستانی نہیں تھی ، بہن اور بیٹی تھی ہر کلمہ گو کی ، جو کسی بھی خطے کا
باسی ہے ۔ ہم مسلمان قوم بن جاتے تو کسی کی جرات نہیں تھی کہ ہماری ناموس
یوں پامال ہوتی ۔ ہم پہلے فرقوں میں تقسیم ہوئے ، اور یہ کارنامہ ہمارے
علماء نے سرانجام دیا ۔ عیسائی صرف عیسائی ہے ، پروٹنسٹ ہے تو بھی عیسائی ،
کیتھولک ہے تو بھی عیسائی ۔ یہودی صرف یہودی ہے وہ کہیں بھی رہتا ہے ۔
پہلے یہودی ہے پھر اسکا کوئی ملک ہے ۔ مگر مسلمان کی پہلی شناخت شیعہ ،
سنی ، اہلحدیث وغیرہ وغیرہ ہے ، پھر وہ ایرانی ہے ، پاکستانی ہے ، پھر وہ
راجہ ، رانا ، سید ، خان ہے ۔ پھر کہیں جا کے مسلمان ۔ تقسیم در تقسیم کے
اس عمل نے ہمیں اتنا کمزور کر دیا ہے ۔ کہ جس کا جب دل چاہے ہماری ناموس کو
پاوں تلے روند ڈالے ۔ ہمارے حریت کے علمبردار ، جہاد کے پیامبر اور
مذہبی چیمپئن ، سیاست کے کھلاڑی کیا کرتے ہیں ۔ چند وعدے ، چند بیان ، چند
جلوس ، چند مذاکرے ۔ آخر بے بس قوم اور کر بھی کیا سکتی ہے ۔ ہمیں باہمی
خلفشار سے وقت ملے تو اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کا سوچیں ۔ ہمیں فرقہ پرستی سے
فرصت ملے تو امت مسلمہ کا بندھن مضبوط کریں ۔ کمزور قوموں کی بہن ، بیٹیاں ،
عزت و آبرو ، جان و مال طاقتور قوموں کا مال غنیمت ہوتا ہے ۔ آج میرے گلے
میں پھندہ ، کل آپ کے گلے میں ۔
سمجھ نہیں آتا آخر
وہ کیا وجہ ہے کہ پوری دنیا کے مسلمان رہنما اسطرف توجہ نہیں دیتے ۔ جو
بولتا ہے اپنے لوگوں کے ہاتھوں مروا دیا جاتا ہے ۔ شاہ فیصل ، قذافی ، بھٹو
، صدام اسکی بین مثالیں ہیں ۔ شائد خوف یا پھر مصلحت حائل رہتی ہے ۔
امت مسلمہ کیلئے لمحہ فکریہ ہے ۔
شکریہ
ازاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment