کہیں ایسا تو نہیں "
میڈیا پر مسلسل ایسے لوگوں کو لانا , جو اسلام کے اساسی مسائل کو الجھا رہے ہیں , جو کردار کے لحاظ سے قطعی طور اسلام سے مطابقت نہیں رکھتے , لبرل سوچ کو پوری کوشش سے آگے بڑھانے کے لئے علماء کے بھیس میں ماڈرن دانشوروں کی پوری کھیپ میڈیا پر براجمان ہے - اور اسلامی اقدار کو مذاق کی شکل دی جا رہی ہے -
کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ ایک پہلے سے تیار کیا ہوا منصوبہ ہو , کہ ان شہرت کے بھوکے افراد کو استعمال کر کے مذھب کی اساس میں مغربیت کا پیوند لگا دیا جاے - جو کام فرقہ بندی سے نہیں ہو سکا وہ اس منصوبے سے پورا کیا جاے - علماء میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو صاحب کردار بھی ہیں اور علمی اعتبار سے مستند بھی - پھر کیا وجہ ہے ان سب کو اہمیت دینے کی بجاے یہ ماڈرن دانشور پورے میڈیا پہ لا کر بیٹھا دیے گئے ہیں - جنھیں نہ دین کی خبر ہے اور نہ اسلامی اقدار کا لحاظ - حیرانی کی بات ہے کہ ایک مفتی اسقدر ذہنی طور پر نا بالغ کیسے ہو گیا , کہ اپنے سر کی توقیر اٹھا کر ایک فیشن زدہ بچی کے سر پر رکھ دی -
مفتی بننے کے لئے صرف چند کتابیں پڑھ لینا ہی تو معیار نہیں ہوتا , ایک کردار کی تعلیم بھی اسکا حصہ ہوتی ہے -
کہیں ایسا تو نہیں
کہ اسلامی مدرسوں میں یہ مفتی اس پنیری کا ایک پودا ہو , جو مسلسل یہودی لگاتے رہے ہیں - تا کہ اسلام کا تصور تبدیل ہو سکے -
کہیں ایسا تو نہیں ,
کہ اسلام کی تہذیب کو تبدیل کرنے کے لیے ایک سازش تکمیل کیطرف بڑھ رہی ہو - یہ وہی ملا ہیں جو فتوے بانٹتے رہتے ہیں - الله کی توحید کا ایمان رکھنے والا , حبیب خدا کو رسول کو بر حق کہنے والا , نماز اور روزے کی پابندی کرنے والا , قران کی تعلیمات کو الہامی احکامات تسلیم کرنے والا , اگر ان مفتیوں سے عقائد کا اختلاف رکھے تو اسے کافر قرار دینا انکے لئے کوئی مشکل نہیں - انکے اپنے اعمال اگر یہ ہیں تو انکے ایمان کا فیصلہ کون کرے گا -
کہیں ایسا تو نہیں
کہ یہ ملت نبی کو تقسیم کرنے والا گروہ ہے -
آؤ فکر کریں -
شکریہ
آزاد ہاشمی
میڈیا پر مسلسل ایسے لوگوں کو لانا , جو اسلام کے اساسی مسائل کو الجھا رہے ہیں , جو کردار کے لحاظ سے قطعی طور اسلام سے مطابقت نہیں رکھتے , لبرل سوچ کو پوری کوشش سے آگے بڑھانے کے لئے علماء کے بھیس میں ماڈرن دانشوروں کی پوری کھیپ میڈیا پر براجمان ہے - اور اسلامی اقدار کو مذاق کی شکل دی جا رہی ہے -
کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ ایک پہلے سے تیار کیا ہوا منصوبہ ہو , کہ ان شہرت کے بھوکے افراد کو استعمال کر کے مذھب کی اساس میں مغربیت کا پیوند لگا دیا جاے - جو کام فرقہ بندی سے نہیں ہو سکا وہ اس منصوبے سے پورا کیا جاے - علماء میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو صاحب کردار بھی ہیں اور علمی اعتبار سے مستند بھی - پھر کیا وجہ ہے ان سب کو اہمیت دینے کی بجاے یہ ماڈرن دانشور پورے میڈیا پہ لا کر بیٹھا دیے گئے ہیں - جنھیں نہ دین کی خبر ہے اور نہ اسلامی اقدار کا لحاظ - حیرانی کی بات ہے کہ ایک مفتی اسقدر ذہنی طور پر نا بالغ کیسے ہو گیا , کہ اپنے سر کی توقیر اٹھا کر ایک فیشن زدہ بچی کے سر پر رکھ دی -
مفتی بننے کے لئے صرف چند کتابیں پڑھ لینا ہی تو معیار نہیں ہوتا , ایک کردار کی تعلیم بھی اسکا حصہ ہوتی ہے -
کہیں ایسا تو نہیں
کہ اسلامی مدرسوں میں یہ مفتی اس پنیری کا ایک پودا ہو , جو مسلسل یہودی لگاتے رہے ہیں - تا کہ اسلام کا تصور تبدیل ہو سکے -
کہیں ایسا تو نہیں ,
کہ اسلام کی تہذیب کو تبدیل کرنے کے لیے ایک سازش تکمیل کیطرف بڑھ رہی ہو - یہ وہی ملا ہیں جو فتوے بانٹتے رہتے ہیں - الله کی توحید کا ایمان رکھنے والا , حبیب خدا کو رسول کو بر حق کہنے والا , نماز اور روزے کی پابندی کرنے والا , قران کی تعلیمات کو الہامی احکامات تسلیم کرنے والا , اگر ان مفتیوں سے عقائد کا اختلاف رکھے تو اسے کافر قرار دینا انکے لئے کوئی مشکل نہیں - انکے اپنے اعمال اگر یہ ہیں تو انکے ایمان کا فیصلہ کون کرے گا -
کہیں ایسا تو نہیں
کہ یہ ملت نبی کو تقسیم کرنے والا گروہ ہے -
آؤ فکر کریں -
شکریہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment