" کیسا شکوہ "
چہرے
کے شکن اور رنگت کی زردی گواہ تھی کہ اسکی عمر کس کشاکشی سے گذری ہو گی ۔
مگر چہرے کا سکون اور لہجہ میں ظرافت اسکے حوصلے اور توکل کی عکاس تھی ۔
گذشتہ کئی سال کی شناسائی میں کبھی نہیں دیکھا کہ اس نے کبھی اللہ سے گلہ
کاایک لفظ بھی بولا ہو ۔ جب بھی کہا الحمدوللہ ہی کہا ۔ آج بھی بخار میں
تپتا ہوا بدن ، مگر چند سکوں کی تلاش میں ، تاکہ جینے کی ضروریات پوری کر
سکے ، وہ پورے انہماک سے مصروف تھا ۔ میں نے طبیعت کا پوچھا ۔ وہی لہجہ وہی
اظہار تشکر ۔
" بابا جی ! کبھی اللہ سے شکایت بھی کی ، زندگی میں کبھی تو تھکن ہوتی ہو گی ، کبھی تو احساس مایوسی غالب آتا ہو گا ۔"
بابا جی مسکرائے ۔
"
کرتا ہوں ، بہت کرتا ہوں ۔ جب کسی بہکے ہوئے مسلمان کو دیکھتا ہوں ۔ کہتا
ہوں اللہ سے ، اے قادر مطلق ، تیرے اختیار میں ہے ، تو اسکا دل بدل سکتا ہے
، کیوں نہیں بدل رہا ۔ اسے اس لذت سے آشنا کیوں نہیں کر رہا ، جس سے اپنے
پسندیدہ لوگوں کو کرتا ہے ۔ اپنے لئے کیا مانگوں ، اطمینان کی جس دولت سے
اس کریم نے نواز دیا ہے ، اسکے بعد کچھ مانگنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی ۔
بیٹا ! دنیا مانگنا کوئی دانشمندی نہیں ، حماقت ہے ۔ میں اور آپ تو مسافر
ہیں پھر کیوں حرص و ہوس کی غلامی کریں ۔ کیوں نہ اطمینان سے سفر کاٹیں ۔ یہ
دنیا تو ایسی دلدل ہے جس میں گھسنے کے بعد انسان ایسے ڈوبتا ہے کہ بدبودار
کیچڑ اسکے گلے میں گھس جاتا ہے ۔ کیا اس دلدل سے بچے رہنے پہ شکر کرنا
چاہئے یا شکوہ ۔ بھوک لگتی ہے تو روٹی مل جاتی ہے ، پیاس لگے تو پانی ۔ پھر
کیا شکوہ کروں رب سے ۔ سیانے کہتے ہیں کہ بیماری تو گناہوں کا بوجھ کم
کرتی ہے ، پھر بیماری کا گلہ کیوں کروں ۔ "
بابا جی کی انوکھی منطق کو کیا نام دیا جائے ۔ لگتا ہے وہ ٹھیک کہتے ہیں ۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے اطمینان قلب ممکن ہے ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment