Friday, 19 May 2017

چیخو ، جتنا چیخ سکو

" چیخو ، جتنا چیخ سکو "
قوم کے سامنے ہر روز ایک نیا امتحان کھڑا ہے ۔ سارے جتن بے سود ہو گئے ہیں اور سارے جتن بے سود ہو جائیں گے ۔ ساری تدبیریں ناکام رہیں گی ۔ کچھ حاصل نہیں ہو گا ۔
جو راستہ ہم نے چن رکھا ہے ، اسکی منزل اندھیرا کنواں ہے ۔ ہم نے اگر راستہ نہ بدلا تو اس کنویں میں گرنا مقدر ہے ۔
ایک ایک کر کے سارے ادارے اپنے فرائض سے غافل ہیں ۔ محافظ رہزن کی حفاظت کر رہا ہے اور بے خبر ہے ۔ عدالت عدل کا گلا گھونٹ رہی ہے اور بے خبر ہے ۔ دین کی کشتی کے پتوار سنبھالے ہوئے علماء قران کی تعلیمات سے بے خبر ہیں ۔ قانون بنانے والے قانون کے ابجد سے اگاہ نہیں ۔
دانشور نے آنکھیں بند کر لی ہیں ، اور جاہل راستہ بتا رہا ہے ۔ سب کے سب بھانت بھانت کی بولی بول رہے ہیں ۔ شور ہے غلغلہ ہے ۔ کوئی سوچتا ہی نہیں کہ یہ سب کیوں ہو رہا ہے ۔ کون روکے گا ، کیسے رکے گا ۔ اندھے رہنما اندھی قوم ۔ داخلی امور کنٹرول سے باہر ، خارجہ پالیسی زیرو ۔ جن سے دوستی ضروری تھی ان سے دشمنی بنا لی اور جو دشمن تھے انہیں دوست سمجھ لیا ۔  یہ سب اسلئے کہ ہم نے اللہ کے نظام سے ضد کر لی کہ اسے نافذ نہیں ہونے دینا ۔ قران کے احکامات کو سمجھنے اور عمل کرنے سے گریز کیا ۔ اللہ کی رضا سے عاری ہو گئے ۔ مسیحا کا انتظار اور وہ بھی مسیحا بھیجنے والے کی ہدایت سے نظریں پھیر کر ۔
کیا قوموں پر برے حکمران ، قوموں کے کردار کے سبب نہیں ہوتے ؟
چیخنے سے کیا ہو جائے گا ۔
چور چوری چھوڑ دے گا ؟
بد کردار صالح بن جائے گا ؟،
غدار کے دل میں حب الوطنی جاگ جائے گی ؟
کچھ نہیں ہو گا ،  کوئی تبدیلی نہیں آئے گی ۔  سب ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں ۔
اگر مخلص ہو تو نظام بدلنے کے لئے اٹھو ۔ سب ٹھیک ہو جائے گا ۔ 
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment