Thursday, 1 March 2018

یہ دلدل ہے

" یہ دلدل ہے "
جن لوگوں کو اللہ سبحانہ تعالی نے شعور کی نعمت دے رکھی ہے ۔ وہ یقینی طور پر موجودہ مذہبی چپقلش ، مسالک کی جنگ ، سیاسی کھلاڑیوں کی بیہودہ اور لچر گفتگو ، سیاسی کارکنوں کی اخلاق باختگی ، میڈیا پر دولت کے پجاری دانشوروں کی بک بک اور ایک دوسرے کی کردار کشی سے  اس نتیجے پر پہنچ گئے ہونگے ، کہ یہ سارا کھلواڑ جو پاکستان کے ہر میدان میں جاری ہے ۔ عوام کیلئے ایسی دلدل ہے ۔ جو متعفن بھی ہے اور عقل کو شل کرنے کے ساتھ ساتھ ادھ موا کر رہی ہے ۔ پتہ ہی نہیں چل رہا کہ کون محب وطن ہے اور کون غدار ۔ عدالت سپریم ہے یا اسمبلی ۔ بد کردار ہونا کوئی عیب ہے یا نہیں ۔ عقل کے بغیر قانون بنانے والے کیا قانون بنائیں گے ۔ وردی پہن لینے کے بعد کیا حدود پھلانگنا جرم ہے ، وردی والوں کو پتہ ہی نہیں ۔ پبلک سے تنخواہ لینے والے ملازم پبلک کو غلاموں کیطرح سلوک کرتے ہیں ۔ کون روکے گا ، کسی کو بھی معلوم نہیں ۔ عجب تماشا ہے ۔ زبان اتنی غیر شائستہ ہو گئی ہے کہ کسی بھی شریف انسان کو گھن آتی ہے ۔
یہ کیسی دلدل ہے ، جس میں پوری قوم داخل ہوتی جارہی ہے ۔ بہتان ، تہمت ، گالی گلوچ کو روایت بنایا جا رہا ہے ۔
کیا ساری قوم اندھی ، گونگی اور بہری ہوگئی ہے ۔ سب دیکھتے ، سنتے انہی بد کردار ، بد زبان اور بد طینت لوگوں کو اپنی سربراہی دینے پر تلے بیٹھے ہیں ۔ آج پورے سیاسی میدان میں کوئی ایک ایسا سیاستدان ، مذہبی رہنماء نہیں ، جس کے کردار کو مثال بنایا جا سکے ۔ سب کے سب اسمبلیوں میں بیٹھے قوم کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ بھی رہے ہیں اور خدمت کا ڈھنڈورا بھی پیٹ رہے ہیں ۔ قوم کی بھلائی اسی میں ہے ، کہ ان سب کھلاڑیوں کو لڑنے دیں ، خود اس دلدل سے نکل کر " نظام مصطفے " کا مطالبہ کریں ۔ بس یہی وہ راہ باقی ہے ورنہ ڈوبنا مقدر ہو جائے گا ۔
آزاد ھاشمی

یہ ہے وقت آذان

" یہ ہے وقت اذان "
ہر وہ شخص جس کو اللہ کی پاک ذات اور اسکے حبیب پاک صل اللہ علیہ وسلم سے ذرہ برابر بھی محبت ھے ۔ وہ اس پر آمادہ بھی ہے اور حسب مقدور کوشاں بھی کہ ھمارا نظام اللہ کی رضا کے تابع ہو ۔ شدت سے احساس بھی ہے کہ کفر کے ھاتھ ھماری گردنوں کو پکڑ چکے ہیں ۔ اس میں بھی کوئی دوسری رائے نہیں کہ مسلمانوں کے درمیان خلفشار کے محرک ھاتھ بھی انہی لوگوں کے ہیں ۔ یہ بھی غلط نہیں کہ مسلمانوں میں جب بھی کوئی غداری کرتا ھے وہ مذہب کا باغی ہی ھوتا ہے ۔ اللہ کا خوف جس دل میں ھوگا ، وہ کبھی اسلام دشمنی کا مرتکب نہیں ہو گا ۔ ان سب حقائق سے بخوبی اگاہی رکھنے والی اکثریت تذبذب میں ہے کہ وہ کیا کرے ۔ وہ سمجھ رہے ہیں کہ ملکی اور بین الاسلامی ممالک  کے مقتدر طبقے ، کفر کی طاقت سے مرعوب بھی ہیں اور انکی دنیاوی ترقی سے متاثر بھی۔ 
اس بے سرو سامانی میں کوئی بھی آواز ، تحریک اور اقدام کا بے سود ہونا یقینی نظر آتا ہے ۔
اگر ھم ایمانی جذبہ کے ساتھ یقین کر لیں کہ اللہ اپنے دین کی جنگ لڑنے والوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا اور نہ ہی رسوا ہونے دیتا ہے ۔ ہم ایک ربط قائم کر کے اگر آذان دینا شروع کریں گے ۔ تو بہت جلدی ایک قافلہ بن جائے گا ۔
آغاز ہمارا فرض بھی ہے اور ضرورت بھی۔ انجام اللہ کے ھاتھ میں ، جو کبھی غلط نہیں ھوتا۔
ایک رابطہ کا آغاز ، ایک آذان سے۔۔
شکریہ
آزادھاشمی

کرائے کا مکان

" کرائے کا مکان "
وہ اپنے علاقے کا امیر ترین انسان تھا ۔ دولت کی ریل پیل نے اسے رب کی یاد سے ایسا غافل کر دیا تھا ۔ کہ جب کوئی کہتا
" بھائی ! کبھی نماز بھی پڑھ لیا کرو "
تو زور سے قہقہہ لگاتا اور طنزیہ انداز میں پوچھتا ۔
" کس لئے ؟ کیا مانگوں اللہ سے ۔ کیا نہیں میرے پاس "
دنیا داری کا مرض بھی لا علاج ہے ۔ ایک بار لگ گیا ، پھر قبر تک جان نہیں چھوڑتا ۔ کوئی بڑا نصیب والا ہو گا ، جس کو اللہ کا خوف راہ راست پر لے آئے ۔ شاید انہی خوش نصیب لوگوں میں سے یہ دولتمند بھی تھا ۔ چند روز پہلے سے وہ مسجد میں آنے لگا ۔ مسجد کی صفوں کو اپنے سر کے رومال سے جھاڑتا ، پھر قرآن اٹھاتا ، اسے چومتا اور لیکر بیٹھ جاتا ۔ ظہر سے عصر تک اس کا معمول تھا ۔ سب حیران تھے اور اللہ کے کرم کو دیکھ کر رشک بھی کر رہے تھے ۔
" کیا بات ہے چوہدری صاحب ! آپ کو تو اللہ نے سب کچھ دے رکھا تھا ، اب کیا مانگتے ہو " قصبے کا میراثی پوچھنے بیٹھ گیا ۔
" چوہدری نے ایک دلدوز آہ بھری ۔ "
" یار دادا ، میں جس سب کچھ کو اپنا سمجھتا رہا ، وہ سب تو میرا ہے ہی نہیں ۔ یہ سب تو دوسروں کا ہے ۔ کچھ روز میرے پاوں میں کوئی چیز چبھی ہے ، درد نے پورا بدن سن کر دیا ۔ بے آرام ہو گیا تھا ، دل کیا مسجد چلتا ہوں ۔ مسجد میں آگیا ۔ قرآن کھولا تھوڑا سا پڑھا تو پتہ چلا کہ ہم سب تو مسافر ہیں ۔ ہمارا گھر تو قبر ہے ۔ اعمال ہیں جو ہمارے ساتھ جائیں گے ۔ یار مجھے خوف لاحق ہو گیا ہے کہ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ، کیا لے کے جاوں گا ۔ میرا اصلی گھر تو مٹی کے اندر ہے ۔ اعمال اچھے ہوئے تو اچھا گھر ملے گا ، نہیں تو ۔۔۔۔۔۔"
وہ رونے لگا ۔
" یار دادا ، میں تو کرائے کے مکان میں رہتا ہوں ، یہ تو میرا گھر ہی نہیں جس پر میں اتراتا پھرتا تھا ۔ ہمارا تو کچھ بھی نہیں یہاں پہ ۔ یہ سب تو دوسروں کا ہے ۔ "
آنسو پونچھتے ہوئے ، اس نے لمبی سانس لی ۔
" یار ! بہت دیر ہوگئی ہے سمجھنے میں ۔ اب دیکھو میں نے جوتا پہننا بھی چھوڑ دیا ، شاید کوئی کانٹا چبھ جائے ۔ اور درد ہو ۔ "
" میں نے اپنے بچوں کو بول دیا ہے ۔ میرا حصہ الگ کر دیں ۔ میں نے سب اللہ کے نام پر دے کر اپنا وہ گھر بنانا ہے ، جو میرا ہو گا ۔ کرائے کا نہیں ہو گا ۔ جہاں مجھے ہمیشہ رہنا ہے "
آزاد ھاشمی

ماں نیند نہیں آتی

" ماں نیند نہیں آتی "
قبرستان کی سنسان جگہ پہ ، عام طور پر ایک خوف کی سی علامت ہوتی ہے ۔ رات کا سناٹا اور بھی اس خوف میں اضافہ کرتا ہے ۔ گورکن دو معصوم بچوں کو لئے ہر آنے جانے والے کو روک کر پوچھ رہا تھا کہ کوئی ان معصوموں کے وارثان کو جانتا ہے ۔ وہ بتا رہا تھا ، یہ دونوں بچے دو دن سے ایک قبر کے پاس بیٹھے ہیں ۔ اپنے گھر بار کے بارے میں کچھ نہیں بتاتے ۔
" بیٹا ! قبروں سے ڈر نہیں لگتا "
میرے سوال پہ ننھی سی بچی بولی ۔
" نہیں انکل ، میں نہیں ڈرتی ، یہ میرا بھائی ڈرتا ہے ۔ میں نے اسے بتایا ہے یہاں ہماری ماں ہے قبر میں ۔ اب نہیں ڈرتا ۔ رات کو جب ہم سو جاتے ہیں تو ماں آکر بہت پیار کرتی ہے ۔ "
لگ رہا تھا ، میرا سینہ پھٹ جائے گا ۔
رونا اگر بس میں ہوتا تو شاید میں نہ روتا ۔
" انکل آپ تو بڑے ہیں ، آپ کیوں روتے ہیں ۔ کیا آپ کی ماں بھی مر گئی ہے "
ایک طوفان تھا تو میری آنکھوں سے بہہ نکلا ۔ یہ معصوم کیا جانیں کہ ماں تو اولاد کو کبھی بڑا ہونے ہی نہیں دیتی ۔ اپنی آغوش میں بچوں کیطرح چھپائے رکھتی ہے ۔ ماں کے پاس کب کوئی بڑا ہوا ہے ، بچہ ہی رہتا ہے ۔
" میرے ساتھ چلو ، میرے گھر میں ۔ "
میں  نے پیار سے کہا
" نہیں انکل ! ہم نہیں جائیں گے ۔ ہم اپنی ماں کے پاس جائیں گے ۔ اس انکل کو کہیں گے ہمیں بھی ماں کے ساتھ دبا دے "
گورکن کیطرف اشارہ کرتے ہوئے بولے
" بابو جی ! یہ صبح سے یہی ضد کر رہے ہیں ۔ کہ قبر کھودوں اور انکو ماں کے ساتھ دبا دوں "
گور کن بھی رو رہا تھا ۔
" بابو جی ! کل سے ساری مسجدوں میں بھی اعلان کروا چکا ہوں ۔ آخر کوئی تو ہو گا ، کوئی بھائی ، کوئی بہن ، کوئی چچا تایا ، کوئی ماموں کوئی خالہ ۔ مگر کوئی نہیں آیا ۔ میں غریب آدمی ہوں ، کیسے انکی ضروریات پوری کروں گا  "
میں سوچ رہا تھا کہ ہمارا معاشرہ اسقدر بے حس بھی ہو سکتا ہے ۔
" بابوجی ! صبح سے بیسیوں لوگوں کو روک چکا ہوں ۔ کوئی ایک لمحے کیلئے بھی پریشان نہیں ہوا ۔ جیسے یہ بچے انسان کے نہیں کسی جانور کے ہیں ۔ لمبی لمبی نمازوں والے نمازیوں سے بھی کسی نے بڑھ کر پیار کا ہاتھ انکے سروں پر نہیں رکھا ۔ "
گورکن نے بچوں کے سر پر ہاتھ رکھا اور انہیں قبرستان کیطرف لیکر چلنے لگا ۔
" نہیں بابا ! میرے ساتھ جانے دو ، میں انکو اپنے بچوں سے زیادہ عزیز رکھوں گا ۔ "  سارے پیار کے باوجود نہ انکے آنسو رکتے ہیں اور نہ  سوال ۔  کہاں سے لاوں انکے لئے ماں کا پیار ۔ 
آزاد ھاشمی

سیاست نے لوٹا

" سیاست نے لوٹا "
آج اگر ہم اپنا اپنا محاسبہ کرنے بیٹھیں ، تو ہم ایک لٹے پٹے قافلے کے ہم رکاب ہیں ۔ ہمیں جو کرنا تھا ، جو فرض تھا ، جس میں فلاح تھی ، جس پر اللہ راضی تھا ۔ سب کچھ چھوڑ دیا ، سب کچھ بھلا دیا ۔ اخلاقیات ختم ہوئی ، ایک دوسرے کا احترام نا پید ہوا ۔ گھر گھر میں الگ الگ نظریات نے جنم لیا ۔ ہم سب نے جن رہنماوں سے راہ نجات پانا تھا ، انکو فراموش کردیا ۔ دنیا کے بھوکے ، اقتدار کے حریص اور عمل کی  منحرف  شخصیات کو راہنماء مان لیا ۔ یہ تمام سیاسی پنڈت اور مذہب کا کھلواڑ کرنے والے ملا ، ہمارے الگ الگ رہنماء ہیں ۔ ہم یہی سمجھ رہے ہیں کہ انہی کی پیروی کریں گے تو منزل ملے گی ۔ جبکہ ایک خائن ، ایک زانی ، ایک شرابی اور ایک جھوٹا کونسی منزل پہ لے جائے گا ۔ وہ منزل یقینی فلاح کی منزل نہیں ہو گی ۔

نبی اور رسول سیاستدان نہیں ہوتے

" نبی اور رسول ، سیاست دان نہیں ہوتے "
ہمارے ذہنوں میں ایک غلط فہمی گھر کر چکی ہے ، اور اس غلط فہمی کا اصل محرک وہ دانشور ہیں ، جنہوں نے دین کی ناو کے پتوار بھی پکڑے ہوئے ہیں اور جمہوریت کی ناو پر بھی سوار ہیں ۔ کہتے ہیں
"" مگر یہ لفظ ”سیاست“ وہی ہے جسے آج سے چودہ سو سال پہلے حضرت محمد رسول اللہﷺ نے اختیار کر کے ایک قلیل مدّت میں نہ صرف مظلوم طبقہ کو غربت اور جہالت کی اتھاہ گہراٸیوں سے نکال کر آسمانوں کی بلندیوں تک پہنچایا بلکہ تربیت کے خاص مراحل میں سے گذار کر انتہاٸ عام لوگوں میں قیادت کی  ""
سیاست ، صرف اور صرف اقتدار کے حصول کیلئے لڑی جانے والی جائیز یا ناجائز جنگ ہے ۔ جسکے نہ کوئی اصول ہوتے ہیں اور نہ کوئی اخلاقیات ۔ نبوت اور رسالت کا اقتدار کے حصول سے کوئی رشتہ ہوتا ہے اور نہ کوئی ناطہ ۔ نبی اور رسول کا کام گمراہی کو ختم کرنا اور ہدایت کو عام کرنے کے سوا کچھ نہیں ہوتا ۔ اگر سرور کائنات صل اللہ علیہ وسلم کو اقتدار تک پہنچانا مقصود ہوتا تو کفار مکہ نے اوائل نبوت میں ہی کہہ دیا تھا
" اگر آپ کو اقتدار چاہئیے تو ہم آپ کو پورے عرب کی حاکمیت دیتے ہیں "
مسلہ کا حل تو مل گیا تھا ، آپ سیاست سے کام لیتے ، اقتدار لیتے اور پھر قوانین ربی نافذ فرما دیتے ۔ اتنے سارے غزوات اور سرایہ کی کیا ضرورت تھی ۔ رسول اور نبی دو ٹوک ہوتے ہیں ۔ ہر عمل اللہ کے تابع ہوتا ہے ۔ جو حکم ملتا ہے ، اسی پر چلنا ہوتا ہے ۔ قرآن پاک نے پوری وضاحت سے وہ رہنمائی بیان فرما دی ، جو اللہ سبحانہ تعالی سے آپ ؐ کو ملتی رہی ۔ یہ جسے سیاست کہا جا رہا ہے ، اور جسطرح سے صحابہ کی تربیت کی گئی ، سیاست نہیں ، دین کی تشریح ہے ۔ اللہ کا بتایا ہوا راستہ ہے ۔ اللہ تعالی نے جو فرض سونپا اسکی عملی تکمیل ہے ۔
خدا را ! آپ سیاست کو عبادت کہو یا فلاح کا راستہ ، آپکی مرضی ۔۔ نبیوں پر تہمت مت رکھیں ۔
اگر اللہ کے حبیبؐ سیاست کی تربیت  دیتے تو حسین ؑ کبھی اپنا پورا خاندان اور جانثاروں کو کربلا میں شہید نہ ہونے دیتے ۔ کربلا کے بعد کوئی ابہام باقی نہیں کہ نبی کے گھر میں سیاست نہ پڑھائی گئی اور نہ سکھائی گئی ۔ ایک ہی سبق ملا ، جو کربلا میں آل نبیؐ نے دھرا دیا ۔
آزاد ھاشمی

جمہوری تماشا

" جمہوری تماشا "
بہت سارے زیرک احباب ، درج ذیل شعر کو جمہوریت کی تقویت کیلئے استعمال کرتے ہیں ۔ کہ جمہوریت دین کے ساتھ لازم ہے ۔
"جلالِ پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی "
جمہوریت کو اس میں نظام نہیں بلکہ " جمہوری تماشا " کا نام دیا گیا ہے ۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ یہ ایک تماشا ہے ، جسے جمہور سجاتی ہے ، جمہور لطف اٹھاتی اور جمہور ہی سزا بھگت رہی ہوتی ہے ۔
بادشاہت بھی تکبر ، رعونت ، جبر اور بے لگامی ہے ۔ ان دونوں کو اگر دین کی حدود و قیود سے آزاد کر دیا جائے تو ظالمانہ طرز حکومت بن جاتا ہے ۔ دین ، حدود و قیود اور قواعد و ضوابط کا نام ہے ۔ جو اللہ کیطرف سے طے کئے جاتے ہیں ۔ اللہ کیطرف سے نافذ کئے جاتے ہیں ، جن میں کسی ترویج و تنسیخ کی گنجائش ہی نہیں ہوتی ۔ دین ، کسی قوم کو اپنی مرضی کے دستور اور قانون کی اجازت نہیں دیتا ، ایک طے شدہ طریقے کے مطابق چلاتا ہے ۔ مگر ہم نے شعر کا مطلب اپنی ضرورت کے مطابق جوڑ رکھا ہے ، کہ دین اور سیاست کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ دانشوروں نے اسکا ایک مطلب یہ نکال لیا ہے کہ اگر دین اور سیاست کو الگ الگ کر دیا جائے تو بربریت باقی بچتی ہے ۔ سیاست تماشا ہے اور دین حقیقت ۔ دین امن اور سلامتی ہے ، سیاست منافقت اور طاقت کے حصول کی کوشش ۔
آزاد ھاشمی

انگریز کے نمک خوار

" انگریز کے نمک خور "
عام طور پر ایک سوال ذہن میں آتا ہے کہ آخر مسلمانوں ہی میں غدار کیوں پیدا ہوتے ہیں ؟ دوسری قوموں اور مذاہب کے لوگ اس بیماری میں شاذ ہی مبتلا ہوتے ہیں ۔ پھر یہ بیماری بر صغیر میں عام ہے اور پاکستان میں خاص ۔ آخر کیوں ۔
باشعور لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ جب برصغیر میں انگریز آیا تو اس نے ایسے لوگ تلاش کئے ، جن کا ضمیر مردہ ہو ۔ جن کو دم ہلانے کا ہنر آتا ہو اور جو آسانی سے خریدے جائیں ۔ ایسے لوگوں کو بڑے بڑے اعزاز دئیے گئے اور بڑی بڑی جاگیروں سے نوازا ۔ یہی وہ پودا تھا جو بارآور ہوتا رہا ، آج بھی اسی نسل کے لوگ موجود ہیں ۔ انگریز بہت شاطر قوم ہے ، انہوں نے کتے پالے اور کتا اپنے مالک کی وفاداری کا بھرم رکھتا ہے ۔ آج بھی یہی لوگ ، ملک کی سالمیت پر انگریز کے نمک کو ترجیح دیتے ہیں ۔ وطن اور قوم پر انگریز کو مقدم رکھتے ہیں ۔
اب حد یہ ہوگئی ہے کہ ان دم ہلانے والے انسانی شکل میں کتوں نے مذہب پر بھونکنا شروع کر دیا یے ۔ امریکہ اور دوسرے یورپ ممالک میں بیٹھے یہ لوگ اسلام پر ، قران پر ، نماز پر ، روزے پر ، حج پر ، پردے پر اور دیگر اسلامی شعار پر نئی نئی اختراعات گھڑ رہے ہیں ۔ یہ اپنے آقا کی نمک حلالی کا پورا پورا حق ادا کر رہے ہیں ۔ بڑے بڑے جید شیوخ بھی انکی گود میں بیٹھنے لگے ہیں ۔ انکی اصلاح کا چوغہ پہن کر ، یہ بھولے بیٹھے ہیں کہ اپنے دیس میں سود نظام معیشت بن چکا ہے ۔ اسلام کے متبادل ، جمہوریت کو رائج کر دیا گیا ہے ۔ نبیوں کو سیاستدان کہا جانے لگا ہے ۔ یہ انگریز کے نمک خوار اصل ننگ قوم و وطن ہیں ۔ باشعور لوگوں کو ان کے طلسم سے آزادی حاصل کرنے کی سعی کرنا ہو گی ۔ ہماری ضرورت دنیا کی چکا چوند نہیں ، چودہ سو سال پہلے والی ہدایت ہے ۔ ہمیں ایمان کا حق ادا کرنا ہو گا ۔
آزاد ھاشمی

مسالک کی آگ

" مسالک کی آگ "
اسلام ، امن و آشتی کا مذہب ۔ اخوت اور بھائی چارے کا درس ، درگذر اور معاف کرنے کا پیغام ۔ تبلیغ و تلقین کی تمام حدود ایک اخلاق کے اندر ۔ کسی شخص کو اختیار نہیں کہ وہ دوسرے کے عقیدے میں ٹانگ اڑائے ۔ جو ہدایت قبول کرنے سے انکاری ہو ، اسے تمہارے لئے تمہارا دین میرے لئے میرا کہہ کر فساد سے الگ ہونے کا حکم ربی ۔ پھر کیا ہوا کہ ہم مسلمان گروہ در گروہ تقسیم ہوگئے ۔ فروعی اختلافات ، فقہ اور فلسفہ پر تضادات اپنی جگہ رہنے میں کوئی حرج نہیں ۔ جو نہیں مانتا اسے اسکے حال پر چھوڑ دینے کی روایت موجود ۔ مگر اب اسی مسلک کی اندھی ضد نے مسلمانوں کا جسطرح سے نقصان کر دیا ہے ، اس کا ازالہ ممکنات میں سے نہیں ۔ عراق کی تباہی میں شیعہ اور غیر شیعہ کا تضاد اہم کردار تھا ۔ یمن اور سعودیہ کی چپقلش ، جو ایک بڑی تباہی کیطرف جا رہی ہے ، اسی مسلک کی چنگاڑی کے باعث ہے ۔ شام میں آگ اور خون کی ہولی کے پیچھے بھی یہی نفرت اور آگ ہے ۔ ایران اور سعودیہ کے درمیان بھی یہی مسلک کچھاو کا باعث ہے ۔ مصر بھی اسی طرح کی دبی دبی آگ میں اٹھتا ہوا دہواں ہے ۔ پاکستان میں بھی الاو تیار نظر آرہا ہے ۔ گویا تمام مسلم ممالک یکے بعد دیگرے

یہ تو میری کہانی ہے

" یہ تو میری کہانی ہے  "
ابن آدم کیلئے یہی بہت ہے کہ وہ عمر کے کسی نہ کسی حصے میں شوہر بن ہی جاتا ہے ۔ قسمت کا یہ پھول ، آغاز میں بہت سہانا ہوتا ہے ۔ ابن آدم سوچ سوچ کر دیوانہ ہوتا ہے ، ہنسی رکنے کا نام ہی نہیں لیتی ، قسمت پہ رشک کرنے کا عروج ہوتا ہے ۔ سوچتا ہے کہ اب ایک گھر ہو گا ، ایک خدمت گذار حور شکل کی خادمہ ہو گی ۔ جو رات دن اسکی ایک ایک حماقت پر بھی واری صدقے جائے گی ۔ پھر بچے ہونگے ، گھر کے آنگن میں جنت ہی جنت ہوگی ۔ انہی خوابوں کی تکمیل میں ایک دن وہ دلہا بن ہی جاتا ہے ۔ یہ زندگی کا پورا کلائمکس ہے ۔ یہاں سے کہانی کا رخ بدلتا ہے ، خوابوں کی تعبیر بدل جاتی ہے ۔ جب صبح اٹھنے کو دل نہیں کرتا تو بیگم کی آواز ، یاد رہے اب یہ آواز کوئل کی نہیں لگتی کوے کی لگتی ہے ۔ ناشتہ بنا ہوا نہیں ملتا ، بنانا پڑتا ہے ۔ پھر جو ناشتے میں نقص نکلتے ہیں اور ہر نقص پر " جی جی " کرنی پڑتی ہے ۔ صبر اور برداشت کی انتہا ۔ سارے خواب حماقت لگتے ہیں ۔ اگلی زندگی یونہی گذرتی ہے ۔
" جی جی ۔۔ ہاں ہاں "
ایسے یاد ہو جاتے ہیں کہ " نہیں " کہنے والے موقع پر بھی " ہاں " نکل جاتی ہے ۔ جو شوہر جتنا چہکے ، بس اتنا ہی بے بس ہے ۔ جو خاموش ہو جائے ، چھت اور دیواروں کو گھورتا رہے ، بس وہی ہے جس نے منزل پا لی ہوتی ہے ۔ کون بہادر ہو گا جو سینہ تان کر کہہ دے ۔
" یہ تو میری کہانی ہے "
آزاد ھاشمی

کونسا زوال باقی ہے

" کونسا زوال باقی ہے "
کیا اللہ سبحانہ تعالی نے اپنی بلیغ و عظیم کتاب میں بالکل واضع الفاظ میں باور نہیں کرایا ، کہ ان کفار کو اپنا دوست مت بنانا ۔ ان پر اعتماد مت کرنا ۔ کیا اللہ نے نہیں فرمایا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے اسکے فریب میں مت آنا ۔ کیا یہ حکم نہیں ہوا کہ اپنے رب کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنا اور گروہ در گروہ تقسیم مت ہو جانا ۔  کیا اللہ نے واضع نظام ہمارے سامنے نہیں رکھا ۔ کیا اللہ نے اپنے پیارے حبیبؐ کی زندگی کا نمونہ ہمارے سامنے نہیں رکھا کہ ہم نے کیسے جینا ہے ۔
جب سب فلاح کے راستے ہم پر واضع کر دئیے گئے تھے ، پھر ہم نے انحراف کیا ۔ سرکشی کی ۔ اللہ کو بھول گئے ۔ اللہ سبحانہ تعالی نے کھول کھول کر بتا دیا کہ یہ دنیا کی زندگی عارضی ہے ۔ یہاں ہم سب مسافر ہیں ۔ پھر ہم نے یہاں پر مستقل قیام کی تیاریاں شروع کر دیں ۔ سمجھتے رہے ہم نے ترقی کی بے پناہ منزلیں طے کر لی ہیں ، ایک انگلی کے اشارے پہ جہاں چاہیں ، منزل کو اپنے میز پہ کھینچ لاتے ہیں ۔ ہم نے فاصلے سمٹ ڈالے ۔ گویا ہماری ایک انگلی کی طاقت کا حساب لگانا ، قرین قیاس نہیں رہا ۔ ہم اپنے آپ کو فائدے ہی فائدے میں دیکھتے ہیں ۔ مگر اللہ سبحانہ تعالی فرماتا ہے ۔
" بے شک انسان خسارے میں ہے "
ہم نے زوال کی اتھاہ گہرائیوں کو چھو لیا ۔ دنیا کو جہنم میں بدل ڈالا ، اپنے بس کی آگ دوسروں پر برسانا شروع کردی ۔ اپنا اپنا سکون ، دوسروں کا سکون برباد کرنے میں کھو دیا ۔ مخمل کے بستر نوکدار پتھروں کی طرح چبھتے ہیں ، سکون کی نیند کا ایک پل میسر نہیں رہا ۔
ہم زوال کی اس اندھی وادی میں ہیں ، کہ جہاں شیطان کا غلبہ ہے ۔ جن کو دوست بنا لیا تھا ، وہ ہماری جان کے درپے ہیں ۔ ہمیں یہی دوست بھیڑ بکریوں کیطرح ذبح کر رہے ہیں ۔
یہ اللہ کی بات نہ ماننے کی پاداش ہے ۔ بھائی نے بھائی کی گردن پر خنجر رکھ دیا ہے ۔
کیا یہ ابن آدم کا عروج ہے یا زوال ؟ کیا امت مسلمہ اب عروج پر رہ گئی یا زوال کی کھائی میں گر گئی ؟
آپ بھی سوچیں ، میں بھی سوچتا ہوں ۔
آزاد ھاشمی

سورہ ماعون

" سورہ ماعون  "
جب بھی قرآن کی کسی آیت ، کسی سورت ، کسی حکم پر غور و فکر کیا جاتا ہے ۔ ہدایت کے کئی در کھلتے ہیں ۔ پتہ نہیں ہمیں قرآن سے دوری کیوں رہی ۔ سورہ ماعون کو فکر کے ساتھ پڑھا جائے تو معاشرت کا ایک نہایت خوبصورت راستہ نظر آئے گا ۔ اللہ فرماتا ہے کہ
“ کیا تو نے اس شخص کو نہیں  دیکھا ،  جو روز جزا کو جھٹلاتا ہے۔  "
یہ ایک شخص کیطرف اشارہ تو ہے مگر یہ کردار تو ہمارے معاشرے کا عمومی حصہ ہے ۔ جھٹلانا صرف یہی نہیں کہ اس حقیقت سے انکار کر دیا جائے کہ روز جزا و سزا ہوگا ۔ جھٹلانا یہ بھی ہے کہ ہم روز جزا و سزا کو اہمیت ہی نہ دیں ۔ بے لگام ہو کر چلتے رہیں ۔ یہ ایک معاشرتی برائی کا ذکر ہے ۔ جو اب ہمارے معاشرے کا حصہ بن گئی ہے ۔ پھر اللہ سبحانہ تعالی فرماتا ہے ۔
"  یہی وہ ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے ، اور محتاج کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا "
یتیم اور محتاج کی ضرویات سے پہلو تہی کرنا ، انکے حقوق جو ہمارے معاشرے پر واجب ہیں ، انکا نہ خود خیال کرنا اور نہ دوسروں کو اس طرف متوجہ کرنا ، اس کار لازم کی طرف رغبت نہ دلانا ، اللہ سبحانہ تعالی کے ہاں ناپسندیدہ شخص کے اعمال ہیں ۔ احتساب کریں کہ ہم میں سے کتنے ہیں جو اس حکم کو پورا کرتے ہیں ۔
پس افسوس (اور خرابی) ہے ایسے نمازیوں کے لیے۔
جو اپنی نماز (کی روح) سے بے خبر ہیں (یعنی انہیں محض حقوق اللہ یاد ہیں اور حقوق العباد بھلا بیٹھے ہیں)۔
وہ لوگ (عبادت میں) دکھاوا کرتے ہیں۔
اور برتنے کی معمولی چیز بھی مانگے نہیں دیتے”۔