" یہ تو میری کہانی ہے "
ابن آدم کیلئے یہی بہت ہے کہ وہ عمر کے کسی نہ کسی حصے میں شوہر بن ہی جاتا ہے ۔ قسمت کا یہ پھول ، آغاز میں بہت سہانا ہوتا ہے ۔ ابن آدم سوچ سوچ کر دیوانہ ہوتا ہے ، ہنسی رکنے کا نام ہی نہیں لیتی ، قسمت پہ رشک کرنے کا عروج ہوتا ہے ۔ سوچتا ہے کہ اب ایک گھر ہو گا ، ایک خدمت گذار حور شکل کی خادمہ ہو گی ۔ جو رات دن اسکی ایک ایک حماقت پر بھی واری صدقے جائے گی ۔ پھر بچے ہونگے ، گھر کے آنگن میں جنت ہی جنت ہوگی ۔ انہی خوابوں کی تکمیل میں ایک دن وہ دلہا بن ہی جاتا ہے ۔ یہ زندگی کا پورا کلائمکس ہے ۔ یہاں سے کہانی کا رخ بدلتا ہے ، خوابوں کی تعبیر بدل جاتی ہے ۔ جب صبح اٹھنے کو دل نہیں کرتا تو بیگم کی آواز ، یاد رہے اب یہ آواز کوئل کی نہیں لگتی کوے کی لگتی ہے ۔ ناشتہ بنا ہوا نہیں ملتا ، بنانا پڑتا ہے ۔ پھر جو ناشتے میں نقص نکلتے ہیں اور ہر نقص پر " جی جی " کرنی پڑتی ہے ۔ صبر اور برداشت کی انتہا ۔ سارے خواب حماقت لگتے ہیں ۔ اگلی زندگی یونہی گذرتی ہے ۔
" جی جی ۔۔ ہاں ہاں "
ایسے یاد ہو جاتے ہیں کہ " نہیں " کہنے والے موقع پر بھی " ہاں " نکل جاتی ہے ۔ جو شوہر جتنا چہکے ، بس اتنا ہی بے بس ہے ۔ جو خاموش ہو جائے ، چھت اور دیواروں کو گھورتا رہے ، بس وہی ہے جس نے منزل پا لی ہوتی ہے ۔ کون بہادر ہو گا جو سینہ تان کر کہہ دے ۔
" یہ تو میری کہانی ہے "
آزاد ھاشمی
Thursday, 1 March 2018
یہ تو میری کہانی ہے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment