Thursday, 1 March 2018

مسالک کی آگ

" مسالک کی آگ "
اسلام ، امن و آشتی کا مذہب ۔ اخوت اور بھائی چارے کا درس ، درگذر اور معاف کرنے کا پیغام ۔ تبلیغ و تلقین کی تمام حدود ایک اخلاق کے اندر ۔ کسی شخص کو اختیار نہیں کہ وہ دوسرے کے عقیدے میں ٹانگ اڑائے ۔ جو ہدایت قبول کرنے سے انکاری ہو ، اسے تمہارے لئے تمہارا دین میرے لئے میرا کہہ کر فساد سے الگ ہونے کا حکم ربی ۔ پھر کیا ہوا کہ ہم مسلمان گروہ در گروہ تقسیم ہوگئے ۔ فروعی اختلافات ، فقہ اور فلسفہ پر تضادات اپنی جگہ رہنے میں کوئی حرج نہیں ۔ جو نہیں مانتا اسے اسکے حال پر چھوڑ دینے کی روایت موجود ۔ مگر اب اسی مسلک کی اندھی ضد نے مسلمانوں کا جسطرح سے نقصان کر دیا ہے ، اس کا ازالہ ممکنات میں سے نہیں ۔ عراق کی تباہی میں شیعہ اور غیر شیعہ کا تضاد اہم کردار تھا ۔ یمن اور سعودیہ کی چپقلش ، جو ایک بڑی تباہی کیطرف جا رہی ہے ، اسی مسلک کی چنگاڑی کے باعث ہے ۔ شام میں آگ اور خون کی ہولی کے پیچھے بھی یہی نفرت اور آگ ہے ۔ ایران اور سعودیہ کے درمیان بھی یہی مسلک کچھاو کا باعث ہے ۔ مصر بھی اسی طرح کی دبی دبی آگ میں اٹھتا ہوا دہواں ہے ۔ پاکستان میں بھی الاو تیار نظر آرہا ہے ۔ گویا تمام مسلم ممالک یکے بعد دیگرے

No comments:

Post a Comment