Thursday, 22 February 2018

ماں نیند نہیں آتی

" ماں نیند نہیں آتی "
قبرستان کی سنسان جگہ پہ ، عام طور پر ایک خوف کی سی علامت ہوتی ہے ۔ رات کا سناٹا اور بھی اس خوف میں اضافہ کرتا ہے ۔ گورکن دو معصوم بچوں کو لئے ہر آنے جانے والے کو روک کر پوچھ رہا تھا کہ کوئی ان معصوموں کے وارثان کو جانتا ہے ۔ وہ بتا رہا تھا ، یہ دونوں بچے دو دن سے ایک قبر کے پاس بیٹھے ہیں ۔ اپنے گھر بار کے بارے میں کچھ نہیں بتاتے ۔
" بیٹا ! قبروں سے ڈر نہیں لگتا "
میرے سوال پہ ننھی سی بچی بولی ۔
" نہیں انکل ، میں نہیں ڈرتی ، یہ میرا بھائی ڈرتا ہے ۔ میں نے اسے بتایا ہے یہاں ہماری ماں ہے قبر میں ۔ اب نہیں ڈرتا ۔ رات کو جب ہم سو جاتے ہیں تو ماں آکر بہت پیار کرتی ہے ۔ "
لگ رہا تھا ، میرا سینہ پھٹ جائے گا ۔
رونا اگر بس میں ہوتا تو شاید میں نہ روتا ۔
" انکل آپ تو بڑے ہیں ، آپ کیوں روتے ہیں ۔ کیا آپ کی ماں بھی مر گئی ہے "
ایک طوفان تھا تو میری آنکھوں سے بہہ نکلا ۔ یہ معصوم کیا جانیں کہ ماں تو اولاد کو کبھی بڑا ہونے ہی نہیں دیتی ۔ اپنی آغوش میں بچوں کیطرح چھپائے رکھتی ہے ۔ ماں کے پاس کب کوئی بڑا ہوا ہے ، بچہ ہی رہتا ہے ۔
" میرے ساتھ چلو ، میرے گھر میں ۔ "
میں  نے پیار سے کہا
" نہیں انکل ! ہم نہیں جائیں گے ۔ ہم اپنی ماں کے پاس جائیں گے ۔ اس انکل کو کہیں گے ہمیں بھی ماں کے ساتھ دبا دے "
گورکن کیطرف اشارہ کرتے ہوئے بولے
" بابو جی ! یہ صبح سے یہی ضد کر رہے ہیں ۔ کہ قبر کھودوں اور انکو ماں کے ساتھ دبا دوں "
گور کن بھی رو رہا تھا ۔
" بابو جی ! کل سے ساری مسجدوں میں بھی اعلان کروا چکا ہوں ۔ آخر کوئی تو ہو گا ، کوئی بھائی ، کوئی بہن ، کوئی چچا تایا ، کوئی ماموں کوئی خالہ ۔ مگر کوئی نہیں آیا ۔ میں غریب آدمی ہوں ، کیسے انکی ضروریات پوری کروں گا  "
میں سوچ رہا تھا کہ ہمارا معاشرہ اسقدر بے حس بھی ہو سکتا ہے ۔
" بابوجی ! صبح سے بیسیوں لوگوں کو روک چکا ہوں ۔ کوئی ایک لمحے کیلئے بھی پریشان نہیں ہوا ۔ جیسے یہ بچے انسان کے نہیں کسی جانور کے ہیں ۔ لمبی لمبی نمازوں والے نمازیوں سے بھی کسی نے بڑھ کر پیار کا ہاتھ انکے سروں پر نہیں رکھا ۔ "
گورکن نے بچوں کے سر پر ہاتھ رکھا اور انہیں قبرستان کیطرف لیکر چلنے لگا ۔
" نہیں بابا ! میرے ساتھ جانے دو ، میں انکو اپنے بچوں سے زیادہ عزیز رکھوں گا ۔ "  سارے پیار کے باوجود نہ انکے آنسو رکتے ہیں اور نہ  سوال ۔  کہاں سے لاوں انکے لئے ماں کا پیار ۔ 
آزاد ھاشمی

کرائے کا مکان

" کرائے کا مکان "
وہ اپنے علاقے کا امیر ترین انسان تھا ۔ دولت کی ریل پیل نے اسے رب کی یاد سے ایسا غافل کر دیا تھا ۔ کہ جب کوئی کہتا
" بھائی ! کبھی نماز بھی پڑھ لیا کرو "
تو زور سے قہقہہ لگاتا اور طنزیہ انداز میں پوچھتا ۔
" کس لئے ؟ کیا مانگوں اللہ سے ۔ کیا نہیں میرے پاس "
دنیا داری کا مرض بھی لا علاج ہے ۔ ایک بار لگ گیا ، پھر قبر تک جان نہیں چھوڑتا ۔ کوئی بڑا نصیب والا ہو گا ، جس کو اللہ کا خوف راہ راست پر لے آئے ۔ شاید انہی خوش نصیب لوگوں میں سے یہ دولتمند بھی تھا ۔ چند روز پہلے سے وہ مسجد میں آنے لگا ۔ مسجد کی صفوں کو اپنے سر کے رومال سے جھاڑتا ، پھر قرآن اٹھاتا ، اسے چومتا اور لیکر بیٹھ جاتا ۔ ظہر سے عصر تک اس کا معمول تھا ۔ سب حیران تھے اور اللہ کے کرم کو دیکھ کر رشک بھی کر رہے تھے ۔
" کیا بات ہے چوہدری صاحب ! آپ کو تو اللہ نے سب کچھ دے رکھا تھا ، اب کیا مانگتے ہو " قصبے کا میراثی پوچھنے بیٹھ گیا ۔
" چوہدری نے ایک دلدوز آہ بھری ۔ "
" یار دادا ، میں جس سب کچھ کو اپنا سمجھتا رہا ، وہ سب تو میرا ہے ہی نہیں ۔ یہ سب تو دوسروں کا ہے ۔ کچھ روز  پہلے میرے پاوں میں کوئی چیز چبھی ہے ، درد نے پورا بدن سن کر دیا ۔ بے آرام ہو گیا تھا ، دل کیا مسجد چلتا ہوں ۔ مسجد میں آگیا ۔ قرآن کھولا تھوڑا سا پڑھا تو پتہ چلا کہ ہم سب تو مسافر ہیں ۔ ہمارا گھر تو قبر ہے ۔ اعمال ہیں جو ہمارے ساتھ جائیں گے ۔ یار مجھے خوف لاحق ہو گیا ہے کہ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ، کیا لے کے جاوں گا ۔ میرا اصلی گھر تو مٹی کے اندر ہے ۔ اعمال اچھے ہوئے تو اچھا گھر ملے گا ، نہیں تو ۔۔۔۔۔۔"
وہ رونے لگا ۔
" یار دادا ، میں تو کرائے کے مکان میں رہتا ہوں ، یہ تو میرا گھر ہی نہیں جس پر میں اتراتا پھرتا تھا ۔ ہمارا تو کچھ بھی نہیں یہاں پہ ۔ یہ سب تو دوسروں کا ہے ۔ "
آنسو پونچھتے ہوئے ، اس نے لمبی سانس لی ۔
" یار ! بہت دیر ہوگئی ہے سمجھنے میں ۔ اب دیکھو میں نے جوتا پہننا بھی چھوڑ دیا ، شاید کوئی کانٹا چبھ جائے ۔ اور درد ہو ۔ "
" میں نے اپنے بچوں کو بول دیا ہے ۔ میرا حصہ الگ کر دیں ۔ میں نے سب اللہ کے نام پر دے کر اپنا وہ گھر بنانا ہے ، جو میرا ہو گا ۔ کرائے کا نہیں ہو گا ۔ جہاں مجھے ہمیشہ رہنا ہے "
آزاد ھاشمی

Wednesday, 21 February 2018

یہ دلدل ہے

" یہ دلدل ہے "
جن لوگوں کو اللہ سبحانہ تعالی نے شعور کی نعمت دے رکھی ہے ۔ وہ یقینی طور پر موجودہ مذہبی چپقلش ، مسالک کی جنگ ، سیاسی کھلاڑیوں کی بیہودہ اور لچر گفتگو ، سیاسی کارکنوں کی اخلاق باختگی ، میڈیا پر دولت کے پجاری دانشوروں کی بک بک اور ایک دوسرے کی کردار کشی سے  اس نتیجے پر پہنچ گئے ہونگے ، کہ یہ سارا کھلواڑ جو پاکستان کے ہر میدان میں جاری ہے ۔ عوام کیلئے ایسی دلدل ہے ۔ جو متعفن بھی ہے اور عقل کو شل کرنے کے ساتھ ساتھ ادھ موا کر رہی ہے ۔ پتہ ہی نہیں چل رہا کہ کون محب وطن ہے اور کون غدار ۔ عدالت سپریم ہے یا اسمبلی ۔ بد کردار ہونا کوئی عیب ہے یا نہیں ۔ عقل کے بغیر قانون بنانے والے کیا قانون بنائیں گے ۔ وردی پہن لینے کے بعد کیا حدود پھلانگنا جرم ہے ، وردی والوں کو پتہ ہی نہیں ۔ پبلک سے تنخواہ لینے والے ملازم پبلک کو غلاموں کیطرح سلوک کرتے ہیں ۔ کون روکے گا ، کسی کو بھی معلوم نہیں ۔ عجب تماشا ہے ۔ زبان اتنی غیر شائستہ ہو گئی ہے کہ کسی بھی شریف انسان کو گھن آتی ہے ۔
یہ کیسی دلدل ہے ، جس میں پوری قوم داخل ہوتی جارہی ہے ۔ بہتان ، تہمت ، گالی گلوچ کو روایت بنایا جا رہا ہے ۔
کیا ساری قوم اندھی ، گونگی اور بہری ہوگئی ہے ۔ سب دیکھتے ، سنتے انہی بد کردار ، بد زبان اور بد طینت لوگوں کو اپنی سربراہی دینے پر تلے بیٹھے ہیں ۔ آج پورے سیاسی میدان میں کوئی ایک ایسا سیاستدان ، مذہبی رہنماء نہیں ، جس کے کردار کو مثال بنایا جا سکے ۔ سب کے سب اسمبلیوں میں بیٹھے قوم کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ بھی رہے ہیں اور خدمت کا ڈھنڈورا بھی پیٹ رہے ہیں ۔ قوم کی بھلائی اسی میں ہے ، کہ ان سب کھلاڑیوں کو لڑنے دیں ، خود اس دلدل سے نکل کر " نظام مصطفے " کا مطالبہ کریں ۔ بس یہی وہ راہ باقی ہے ورنہ ڈوبنا مقدر ہو جائے گا ۔
آزاد ھاشمی

بت پرستی

" بت پرستی "
اللہ سبحانہ تعالی نے اسلام کو عقل و دانش اور حقیقی روشنی کا دین بنایا ۔ بت پرستی جہالت تھی اور ابتدا سے جاری تھی ۔ اسکی جگہ روشنی اور ہدایت کی شمع جلانے کیلئے انبیاء کو آگ میں کودنا پڑا ، جانیں دینا پڑیں ، ہزار ہا سال کی جدوجہد کے بعد بالآخر انبیاء کے سردار حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا ۔ تا کہ اللہ کے گھر سے بتوں اور گمراہی کو دور کر کے ، پوری دنیا میں ہدایت اور روشنی پھیلا دی جائے ۔ جہالت کی سر زمین پر علم کی شمع جل اٹھی ۔ جہالت سکڑ کر ایک مخصوص خطہ کا دین بن گئی ۔ مسلمان قرآن اور اسوہ حسنہ کو مضبوطی سے تھامنے کی بجائے ، اپنی تحقیق میں ایسے لگے کہ مسالک سے اسلام کی اصل تعلیم کو پس پشت ڈال دیا ۔ سب نے اپنے اپنے راستے بنا لئے یا یوں کہہ لیں کہ سب نے اپنی اپنی سمتیں ، بتوں کی طرح متعین کر لیں ۔ لوگ اللہ کی مساجد کو اپنے مسالک کے نام پر تعمیر کرنے لگے ۔ قرآن کی تعلیم کی بجائے اپنے اپنے فلسفے ، فقہ ، اجتہاد اور تفاسیر پر توجہ مرکوز کر لی گئی ۔ اسوہ حسنہ کو چھوڑ کر اپنے اپنے امام بنا لئے ۔ پیروں کے قدموں پر سر ٹیکنے لگے ، مزاروں سے حاجات مانگنے لگے ، یہی وہ سوچ اور تعلیم ہے جس نے آج بھی ہمارے اندر کی بت پرستی کو ختم نہیں ہونے دیا ۔  پھر سے اپنے اپنے رخ غیر اللہ کی طرف موڑے بیٹھے ہیں ۔ کافروں کے سامنے دو زانو حکمران بت پرست ہیں ۔ علماء مسالک کی پٹی باندھے دین کی اصل تعلیم سے نا بلد ہو گئے ۔ دولت کی ہوس اور طاقت کا خوف ہمارے مذہبی رحجان پر غالب آگیا ۔ یہ بھی تو بت پرستی ہے ۔
حالت یہ ہوگئی ہے کہ گھروں ، جہاں قرآنی آیات آویزاں ہونا چاہئیے تھیں وہاں سیاسی لیڈروں کی تصویریں لٹک رہی ہیں ۔ یہی بت پرستی ہے ۔
آج مندر وہاں بن گئے جہاں سے مندر اکھاڑنے کی ابتداء ہوئی تھی ۔ آج پھر ہمارے اندر کا کفر با اعلان باہر نکل آیا ۔ ہم جو سر اللہ کے سامنے جھکانے پر فخر کرتے تھے اب بتوں کے سامنے جھکانے کی ذلت سے دوچار ہونگے ۔ شیطان کی فتح کو ہم اپنی صلح جوئی اور سیکولر سوچ کہیں گے ۔ اس ساری بد بختی کی وجہ کیا ہے ؟ نہ سوچیں گے اور نہ سمجھیں گے تاوقتیکہ رات کے اندھیرے میں یا دن کی روشنی میں کوئی آفت نہ آ پکڑے ۔
آزاد ھاشمی

خدا کیلئے اپنا رخ موڑ لو

" خدا کیلئے اپنا رخ  موڑ لو "
بہت ہوگئی سیاست ، بہت ہو گئی مسالکی تحقیق ، بہت ہوگئی تقریریں اور مذاکرے ۔ چھوڑو ان نوازوں کو ، عمرانوں کو ، زرداریوں کو ، جماعتیوں کو اور ان مولویوں کی لمبی لمبی تقریروں کو ۔ غور کرو ، کفر نے تمہاری ساری دیواریں پھلانگ لی ہیں ۔ تمہارے گھر میں بتوں کو سجا کر عبادت شروع کر دی ہے ۔ اب مندر بنیں گے ، اور ان میں بت سجیں گے ۔ اللہ کو ماننے کا دعوی کرنے والے ، رسول کی محبت کے داعی ان بت خانوں کی حفاظت کریں گے ۔ بات بات پہ اپنے مسلمان بھائیوں کو کافر کہنے والے دیکھ لیں ، کفر کی محفلیں کہاں سجیں گی ۔ تمہاری مساجد کے ساتھ ساتھ ، جہاں سو فیصد مسلمان تھے وہاں ہندووں کے مندر بننے لگیں گے تو فکر کی ضرورت ہے یا نہیں ؟ کیا ابھی بھی نوافل کے ثواب گنتے رہو گے ۔  اسلام کو اپنی زندگیوں پہ لاگو کئے بغیر اس طاغوتی فتنوں کی یلغار نہیں رک پائے گی ۔ سوچو اور غور کرو ۔ اللہ کا حکم ہے کہ اگر تم اسکے احکامات سے باغی ہو جاوگے تو تم پر دوسری قوم مسلط کر دی جائے گی ۔ دیکھ لو یہ ہونے لگا ہے ۔ جو سر اللہ کے سامنے جھکنے سے گریزاں تھے ، اب گھنیش ، کالی ماتا وغیرہ وغیرہ کے سامنے جھکیں گے ۔ اب بندر بھی معتبر ہو جائے گا ، ناگ کو بھی پوجنا پڑے گا ۔ گائے کھانے والوں کو گائے کو ماں کہنا پڑے گا ۔
یہ ہے سزا جو وہاں سے شروع ہورہی ہے جہاں دولت کی ریل پیل ہے ، جہاں سو فیصد مسلمان ہیں ۔ وہاں بہت بڑا اور بڑے دلکش تعمیر کا شاہکار مندر بن گیا ہے ۔
آزاد ھاشمی

Sunday, 18 February 2018

ایک حل ، واپس لوٹ چلیں

" ایک حل ،  واپس لوٹ چلیں "
" بیٹا ! بیٹھو میری بات غور سے سنو - حکمرانوں سے گلے مت کیا کرو -الله کا نظام  ہے , جیسی قوم ہوتی ہے ویسا حکمران مسلط  کر دیتا ہے - ہم نے خود الله کا نظام چھوڑ دیا - الله کے رسول کے رستے سے ہٹ کر انگریز کی راہ اختیار کر لی - الله کے دستور کو چھوڑ کر اپنا دستور بنا لیا - اب کیسی شکایت -
ان حکمرانوں کو کون لایا , ہم لوگ لاۓ - جانتے ہوۓ کہ  یہ الله کے احکامات سے باغی ہیں - کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں - الله کی مقرر کردہ حدود کو توڑتے ہیں - خیانت کرتے ہیں - فرائض ادا نہیں کرتے -
ہم نے ان کو اپنا رہبر مان  لیا اور جو اصل رہبر تھے ان کو بھول گئے -
جب رب روٹھ جاتا ہے تو سارا جگ روٹھ جاتا ہے - پھر پریشانیاں گھیر لیتی ہیں اور خوش حالی بھاگ جاتی ہے - امن چلا جاتا ہے اور قتل و غارت گری بسیرا کر لیتی ہے - سکون ختم ہو جاتا ہے اور خوف پھیل جاتا ہے - الله اپنی رحمتیں روک لیتا ہے اور آفات بھیجنے لگتا ہے -"
سموسے اور پکوڑے بیچنے والا اتنی فکر انگیز باتیں کرتا ہے - میں سوچتا ہوں یہ سب باتیں ہمارے دانشوروں , مفکروں , مذہبی رہنماؤں اور ملاؤں کو کیوں یاد نہیں - یہ بڑے بڑے نقاد , صحافی , تجزیہ نگار اور کالم لکھنے والے کیوں نہیں لکھتے - میں سوچ رہا تھا کہ پھر بولا -
" بیٹا ! ہم بک چکے ہیں - ہم غلام ہیں - ہمارا آقا ہماری ھوس ہے - ہم ازلی بھوکے ہیں , ہمارے پیٹ نہیں بھرتے - ہم بھکاری ہو گئے ہیں , ہر کسی کے سامنے ہاتھ پھیلا دیتے ہیں - جو دینے والا ہے اس سے مانگتے ہی نہیں -
بتاؤ قصور کس کا ہے , ہمارا یا حکمرانوں کا -
ہم نے کیکر بوے ہیں کیکر - ان پر نہ پھل نہیں کانٹے لگیں گے -
اب ایک ہی حل ہے , ہم واپس لوٹ چلیں الله کی طرف , الله کے نظام کی طرف , الله کے حبیب کے اسوہ کی طرف "
میں سوچ رہا تھا کہ کاش ایسا ہو جاے -
آزاد ہاشمی

اقبال شاہ کی قانون سازی

" اقبال شاہ کی قانون سازی "
سنا ہے حال ہی میں ایک شخص ، جسے قومی زبان تک بولنا نہیں آتی ۔ جسکا شوق مرغ لڑانا ہے ۔ پاکستان کی  "متبرک پارلیمنٹ " کا رکن منتخب ہو گیا ہے ۔ یہ جمہوریت کی روایت کا نیا کمال اور اچنبھا کمال نہیں ۔ ایسی بیشمار مثالیں موجود ہیں ۔ اس انتخاب میں جمہوریت کی بد ترین شکل سامنے آئی ہے ۔ ایک پارٹی نے قوم سے ایسا مذاق کیا ہے ، کہ جاہل ترین شخص کو قانون سازی کا منسب دلوا دیا ۔ دوسری پارٹی جو تبدیلی کا ڈھنڈورا پیٹتی ہے ، ایک بچے کو اس اہم ذمہ داری کیلئے منتخب کروانے پر تمام جتن کر دئیے ۔ پہلی شاباش تو ان دونوں پارٹیوں کو ملنی چاہئیے جو قوم کی بھلائی پر اسقدر مخلص نظر آتی ہیں ۔ دوسری شاباش ان تمام ووٹروں کو جن کو پتہ ہی نہیں کہ اپنی تقدیر کن لوگوں کے ہاتھ میں دینے پر تیار رہتے ہیں ۔ تیسری شاباش ان تمام دانشوروں کو جو اس مذاق کو جیت ہار کے ترازو پر تولتے ہیں ۔ یہ پوری قوم سے گھناونا مذاق ہے ۔ تماشا ہو رہا ہے تمہارے شعور کا ۔ ہوش کرنے کی ضرورت ہے ۔ لمحہ فکریہ ہے کہ اللہ کی پکڑ سخت سے سخت ہوتی جا رہی ہے ۔ جاہل ، لٹیرے اور دولت والے تمہارے سروں پر مسلط ہونے لگے ہیں ۔ ہوش کرو کہ اللہ کا قانون اور دستور چھوڑ رہے ہو ۔ اب تمہارا قانون " اقبال شاہ " بنایا کریں گے ۔ پتہ نہیں یہ دانشور کہاں مر گئے ہیں ۔ میڈیا پر سیاسی تجزئیے کرنے والے پارٹیوں کا موازنہ کر رہے ہیں ۔ قوم کی حواس باختگی کا ماتم کرنے کی ضرورت ہے ۔  ہار جیت گئی باڑھ میں ۔۔ یا حفیظ الامان ۔
آزاد ھاشمی

جماعت کا نعرہ

" جماعت کا نعرہ "
( راج اللہ کا
رواج محمد ؐ کا
نظام رب کا
احتساب سب کا )
دوست شکوہ کرتے ہیں کہ میں جماعت پر  لا حاصل تنقید کرتا ہوں ۔ وجہ صرف یہ ہے کہ جماعت واحد امید ہے کہ اگر سیاست چھوڑ کر اپنے قول و فعل پر گامزن ہو جائے ، تو اسلام کے نظام کیطرف پیش قدمی آسان ہو جائے گی ۔ اب جو نعرہ لگایا جا رہا ہے ، یہ چاروں دعوے صرف انتخابات کیلئے ہیں اور چاروں دعوے جمہوریت کی نفی ہیں ۔ جو جماعت جمہوریت کے ساتھ چل رہی ہے ، وہ نہ تو اللہ کے راج سے مخلص ہے ، نہ محمد ؐ کے رواج سے ۔ اللہ کے راج میں قانون ، دستور ، آئین اور حدود طے شدہ ہیں ۔ معیشت زکواة پر ہے ، عشر پر ہے یا خمس پر ہے ۔ ٹیکس پر نہیں ۔ حدود اٹل ہیں ، کوئی پارلیمنٹ کی ضرورت نہیں ۔ رواج محمد ؐ میں کسی فرد کو اختیار نہیں کہ وہ کسی اقتدار کی اہلیت کا دعوی کرے اور اسکے لئے رائے عامہ  ہموار کرے ۔ یہ اختیار صاحبان کردار شوری کا ہے  کہ وہ اہلیت کا معیار طے کریں ۔ رواج محمدؐ میں ہر گناہ کبیرہ کے مرتکب ، جھوٹی گواہی کے مرتکب ، خائن اور بدکردار کی کوئی جگہ نہیں ۔ نظام رب کا بالکل واضع ہے پھر اس پر چلنے کیلئے سیاست کا سہارا کیوں لیا جائے ۔ وہ احتساب کیا کریں گے جو اپنا احتساب نہیں کرتے ۔ کیا وہ مراعات جو جماعت کے منتخب اراکین حاصل کر رہے ہیں ، جائز ہیں ؟ کسی طرح بھی نہیں ۔ پھر احتساب کون کرے گا ۔ فرشتے آئیں گے ؟ 
جماعت یہ نعرہ لگانے سے خائف کیوں ہے
" جمہوریت یا اسلام " پہلے یہ ریفرنڈم ہو جائے ۔ یہ تو واضع ہو جائے کہ قوم کہاں کھڑی ہے ۔ چھیاسٹھ فیصد لوگ ووٹ ہی نہیں ڈالتے ، جو جمہوریت سے علیحدگی کا واضع اعلان ہے ۔ سو میں سے گیارہ۔ووٹ لینے والا جیت جاتا ہے ۔ اسلام کے نام پر بننے والا ملک اسلامی شعار سے نابلد لوگوں کی حکمرانی میں گھسٹ رہا ہے ۔
اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو اصل منافقت ہی یہی ہے  کہ نام اسلام کا لو اور آبیاری جمہوریت  کی کرو ۔
میں جماعت کے سارے غازیوں سے معذرت چاہتا ہوں کہ انکا جہاد اسلام کیلئے ہونا چاہئیے ، جمہوریت کیلئے نہیں ۔
آزاد ھاشمی

عاصمہ جہانگیر کا جنازہ

" عاصمہ جہانگیر کا جنازہ "
اللہ سبحانہ تعالی درگذر اور معاف کرنے کو پسند فرماتا ہے ۔ عاصمہ نے زندگی کیسے گذاری ، کتنے حقوق العباد میں کارنامے کئے ، جمہوریت کیلئے کیا قربانی دی ، اور اسلام سے ظاہری اور باطنی کیا تعلق رہا ۔ سب اللہ جانے اور عاصمہ جانے ۔
اس سارے واقعہ سے  اسلام کے اصول و ضوابط پر جو بحث چھڑ گئی ہے ۔  وہ سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے ۔
اسوہ حسنہ کے مطابق اللہ کے حبیب ؐ جب عبداللہ بن ابی کا  جنازہ  پڑھانے لگے پھر قرآن کی اس آیت کے مطابق جو سورہ توبہ آیت ٨٤ ہے ، جنازہ نہیں پڑھایا - اللہ  اپنے نبیؐ سے فرماتا ہے کہ  ان کیلئے اگر ستر بار بھی استغفار کروگے تو اللہ انکو نہیں بخشے گا کیونکہ انہوں نے اللہ اور رسول سے کفر کیا ۔ ایسے لوگوں سے ناراضگی کی انتہا  ہے کہ اللہ فرماتا ہے کہ ایسے لوگوں کی نماز جنازہ بھی مت پڑھنا اور انکی قبر پر کھڑے بھی مت ہونا ۔ کیونکہ یہ کفر اور نافرمانی کی حالت میں مرے ہیں ۔ سوال ہے کہ کیا مرحومہ اس حد تک نافرمان تھی ؟ کہ اللہ کا یہ حکم لاگو ہو جاتا ہے ۔
اسلام ہر برائی کو اسکی جڑ سے اکھاڑنے کی تعلیم دیتا ہے ۔ اگر ایسے لوگ جو ہر وقت اللہ اور رسول سے مخاصمت میں رہتے ہیں ، انکی پہچان الگ نہ کی جائے ، برائی قائم رہے گی ۔ اب جنازہ ہو چکا ۔ اسلام کی تعلیمات کے منافی ہو چکا ۔ اسکے حق میں دلائل سے اللہ کے حکم کی نفی ہے ۔ علماء کو چاہئیے کہ آئیندہ کیلئے قوم کو قرآن کے مطابق شعور دیں ۔ تاکہ کسی اختلاف کی گنجائش باقی نہ رہے ۔ حقوق العباد میں انتہا کر دینے والے کو قطعی جائیز نہیں کہ وہ اللہ اور رسول سے مخاصمت کرتا رہے ۔ حقوق اللہ سے انحراف بڑا جرم ہے ۔
آزاد ھاشمی

عمران خان ہوش کرو

" عمران خان ہوش کرو "
اے کاش ! کوئی یہ چند سطور عمران خان کی میز پر رکھ دے ۔
عمران خان صاحب ! آپ کہہ رہے ہو کہ " میں سمجھ رہا ہوں کہ جسطرح اللہ نے نبی پاک کو تیرہ سال مشکلات میں سے گزارا ، اسی طرح مجھے مشکلات میں سے گذار کر میری تیاری کی ۔ اور نبی پاک نے جسطرح ان تیرہ سال کے بعد اگلے دس سال میں دنیا بدل دی ، اسی طرح میں پاکستان کی تقدیر بدل دوں گا ۔ "
جناب آپ کی جماعتی اصلاحات اور اپنی پارٹی کی تشکیل کسی بھی لحاظ سے اللہ کے نبی سے مطابقت نہیں رکھتی ۔ آپ کی پارٹی کی اکثریت احکامات ربی کی منکر ہے ۔ اور ہر اس عیب سے لبریز ہے جو اللہ کے ہاں قابل تعزیر ہیں ۔ اللہ کے نبی کو دنیا سے ظلمت ، گمراہی ، بدکاری اور تمام عیوب سے پاک معاشرے کی تیاری کی  ذمہ داری دینا تھی اور آپ وہ سب کر رہے ہیں ، جس سے اللہ نے روکا ہے ۔ آپ نے چند سماجی کام کئے ہیں ، یہ اسی کا انعام ہے کہ آپ کو عزت ملی ہوئی ہے ۔ وگرنہ کوئی ایسی خوبی نہیں کہ آپ کو اسلام کی نمائیندگی کا حق ملے ۔ اللہ کے نبی کا ایک طائف کا سفر تمہاری پوری زندگی کی تکالیف سے آسمان اور زمین کے فرق پر ہے ۔ سیاست ، منافقت ہے اور نبی کبھی مصلحت اور سیاست نہیں کرتے ۔ انکے فیصلے دو ٹوک ہوتے ہیں ۔ لکھ لو ، اگر تم اسلامی نظام سے ہٹ کر کوئی کامیابی حاصل کرنے کا سوچ رہے ہو تو اس سے بڑی حماقت کوئی نہیں ۔ کبھی فرصت ملے تو اپنے ترازو کے باٹ دیکھ لینا ، سب کے سب جعلی اور بے وزن ہیں  ۔
اچھا ہے ، اپنی حدود کو سیاست تک محدود کر دو ۔ مذہب تک مت بڑھاو۔ اور اپنی عاقبت کیلئے کچھ بچائے رکھو ۔
آزاد ھاشمی ۔

اللہ کو راضی کریں

"اللہ کو راضی کریں "
میں نے اور آپ نے ، یعنی ہم سب نے ہر ممکن کوشش کی کہ ایسی زندگی تک پہنچ جائیں ، جہاں سکون ہو ، اطمینان ہو اور کوئی غم نہ ہو ، کوئی اندیشہ نہ ہو ۔  اس آرزو کیلئے جو پہلا میدان منتخب کیا جاتا ہے ، وہ مال و زر کا حصول ہے ۔ دنیا کی چکا چوند کو غلام بنانے کیلئے مال و زر لازم عنصر بن جاتا ہے ۔ جب مال و زر آسانی سے نہیں ملتا تو ہر اس آگ میں کود جاتے ہیں ، جو ہمارے ضمیر کو جلا ڈالتی ہے ۔ جب مال و زر مل جاتا ہے تو بے پناہ عزت اور توقیر کی بھاگ دوڑ شروع ہو جاتی ہے ۔ رعونت بڑھنے لگتی ہے ، ہر سر اپنے سامنے تعظیم کیلئے جھکتا دیکھنے کی تڑپ پیدا ہو جاتی ہے ۔ اسکے حصول کیلئے بھلے شیطان کیوں نہ بننا پڑے ۔ حرص ایسی بیماری ہے جو سب کچھ کے باوجود نہ سکون ملنے دیتی ہے اور نہ اطمینان قلب ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم اس منزل پر پہنچ چکے ہیں ، جہاں سارا جہاں ہماری دسترس میں ہے ۔ ہر کوئی ہم سے خوش دکھائی دیتا ہے مگر کوئی ایک خوش نہیں ہوتا ۔ منافقت اور مطلب سے بھری مسکراہٹیں استقبال کرتی نظر آتی ہیں ۔ مگر سرگوشیاں توہین آمیز ہوتی ہیں ۔ گویا  ساری عمر  کی تگ و دو بےسود رہ جاتی ہے ۔
کیوں ؟ ایسا کیوں ہوتا ہے ؟
صرف اسلئیے کہ جس ذات کو راضی کرنا تھا ، جسکی رضا میں اطمینان قلب بھی تھا ، غیر فانی اور حقیقی عزت بھی تھی ، وقار بھی تھا ۔ اسے ہم نے راضی کرنے کا سوچا ہی نہیں ۔ کہ زندگی کے  زندگی اپنے آخری ہچکولے کھانے لگتی ہے ۔ تب بھی دنیا کی ہوس پیچھا نہیں چھوڑتی ۔ موت سے ڈر لگتا ہے کہ جس کے پاس جانا ہے ، اسکی تو کوئی بات نہیں مانی ، اسکے سامنے تو قبولیت والا کوئی سجدہ ہی نہیں کیا ۔ اسکا دیا ہوا رزق تو بانٹا ہی نہیں ۔ پھر حسرت ہوتی ہے ، کاش! اللہ کو راضی کر لیا ہوتا ۔
وہ بھی کتنا غفور ہے ، خشییت کے چند آنسو بہا دو ، توبہ کر لو ، بس وہ راضی ۔ زندگی کے چند باقی لمحوں کا سکون ، پوری عمر پر بھاری نظر آئے گا ۔ اسکو راضی کرنے کے چند لمحے مل گئے ہیں تو اس سے فائدہ نہ اٹھانا حماقت ہے ۔
آزاد ھاشمی

ربنا لا تواخذنا ۔۔۔۔

" ربنا لا تواخذنا ۔۔۔ "
" اے ہمارے رب ، ہماری غلطیوں اور خطاوں کی پکڑ نہ کرنا ۔ "
اگر ہم اپنی اجتماعی اور انفرادی سرکشی ، ارادی اور غیر ارادی ، علم یا کم علمی کے ساتھ کی گئی لغزشوں کا شمار کرنے لگیں تو بیشمار ایسی خطائیں ہیں ، جن پر پکڑ ہونا لازم نظر آتا ہے ۔ ہم اللہ کو رحیم و کریم مانتے ہوئے دعا گو ہوتے ہیں کہ اے اللہ ہماری ان قابل گرفت خطاوں پر ہماری پکڑ نہ کرنا ۔
" اور ہم پر وہ بوجھ نہ ڈالنا ، جو ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا "
ہم سے پہلے لوگوں کو اللہ نے مال و زر ، طاقت اور اقتدار ، خوشحالی کے امتحانوں میں ڈال دیا ، وہ اس امتحان کو اپنا حق سمجھ کر سر کش ہو گئے ، ظالم ہو گئے ، خائن ہو کر ناپ تول میں ڈنڈی مارنے لگے ، پیدا کرنے والے کو بھول کر اترانے لگے ۔ یہ وہ بوجھ تھا ، جس سبب ان پر اللہ کے عتاب نازل ہوئے ۔  ہم دعا کرتے ہیں ، آرزو کرتے ہیں کہ
" اے ہمارے رب ! ہم پر کوئی ایسا بوجھ مت ڈالنا ، جو ہماری سکت ، ہماری برداشت اور ہماری طاقت سے زیادہ ہے "
اللہ کے امتحان اور آزمائش ، جس رنگ میں بھی انسانی سکت پر بھاری ہوتی ہے ۔ جب کسی قوم پر آزمائش کا بوجھ بڑھنے لگتا ہے ، تو اللہ کی ناراضگی بھی ہو سکتی ہے ۔ اللہ سبحانہ تعالی کا امتحان بڑے صبر اور ایمان کی پختگی کے بغیر کبھی پورا نہیں کیا جا سکتا ۔ نا معلوم انسانی ہمت اور برداشت کب جواب دے جائے ، اسلئے اللہ سے عفو اور رحم ہی مانگنے میں عافیت ہے ۔
یہی کہنا بہتر ہے ۔
" اے اللہ ! ہمیں معاف فرما دے ، ہماری خطائیں اور لغزشیں بخش دے ، ہم پر رحم فرما دے ۔ تو ہی ہمارا مالک ہے ، آقا ہے ، حاکم ہے ۔ ہمیں کفار پر نصرت فرما "
جب کبھی سوچتا ہوں کہ اللہ نے قران کی ایک ایک آیت میں کسقدر بلاغت دے رکھی ہے ۔