" کرائے کا مکان "
وہ اپنے علاقے کا امیر ترین انسان تھا ۔ دولت کی ریل پیل نے اسے رب کی یاد سے ایسا غافل کر دیا تھا ۔ کہ جب کوئی کہتا
" بھائی ! کبھی نماز بھی پڑھ لیا کرو "
تو زور سے قہقہہ لگاتا اور طنزیہ انداز میں پوچھتا ۔
" کس لئے ؟ کیا مانگوں اللہ سے ۔ کیا نہیں میرے پاس "
دنیا داری کا مرض بھی لا علاج ہے ۔ ایک بار لگ گیا ، پھر قبر تک جان نہیں چھوڑتا ۔ کوئی بڑا نصیب والا ہو گا ، جس کو اللہ کا خوف راہ راست پر لے آئے ۔ شاید انہی خوش نصیب لوگوں میں سے یہ دولتمند بھی تھا ۔ چند روز پہلے سے وہ مسجد میں آنے لگا ۔ مسجد کی صفوں کو اپنے سر کے رومال سے جھاڑتا ، پھر قرآن اٹھاتا ، اسے چومتا اور لیکر بیٹھ جاتا ۔ ظہر سے عصر تک اس کا معمول تھا ۔ سب حیران تھے اور اللہ کے کرم کو دیکھ کر رشک بھی کر رہے تھے ۔
" کیا بات ہے چوہدری صاحب ! آپ کو تو اللہ نے سب کچھ دے رکھا تھا ، اب کیا مانگتے ہو " قصبے کا میراثی پوچھنے بیٹھ گیا ۔
" چوہدری نے ایک دلدوز آہ بھری ۔ "
" یار دادا ، میں جس سب کچھ کو اپنا سمجھتا رہا ، وہ سب تو میرا ہے ہی نہیں ۔ یہ سب تو دوسروں کا ہے ۔ کچھ روز پہلے میرے پاوں میں کوئی چیز چبھی ہے ، درد نے پورا بدن سن کر دیا ۔ بے آرام ہو گیا تھا ، دل کیا مسجد چلتا ہوں ۔ مسجد میں آگیا ۔ قرآن کھولا تھوڑا سا پڑھا تو پتہ چلا کہ ہم سب تو مسافر ہیں ۔ ہمارا گھر تو قبر ہے ۔ اعمال ہیں جو ہمارے ساتھ جائیں گے ۔ یار مجھے خوف لاحق ہو گیا ہے کہ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ، کیا لے کے جاوں گا ۔ میرا اصلی گھر تو مٹی کے اندر ہے ۔ اعمال اچھے ہوئے تو اچھا گھر ملے گا ، نہیں تو ۔۔۔۔۔۔"
وہ رونے لگا ۔
" یار دادا ، میں تو کرائے کے مکان میں رہتا ہوں ، یہ تو میرا گھر ہی نہیں جس پر میں اتراتا پھرتا تھا ۔ ہمارا تو کچھ بھی نہیں یہاں پہ ۔ یہ سب تو دوسروں کا ہے ۔ "
آنسو پونچھتے ہوئے ، اس نے لمبی سانس لی ۔
" یار ! بہت دیر ہوگئی ہے سمجھنے میں ۔ اب دیکھو میں نے جوتا پہننا بھی چھوڑ دیا ، شاید کوئی کانٹا چبھ جائے ۔ اور درد ہو ۔ "
" میں نے اپنے بچوں کو بول دیا ہے ۔ میرا حصہ الگ کر دیں ۔ میں نے سب اللہ کے نام پر دے کر اپنا وہ گھر بنانا ہے ، جو میرا ہو گا ۔ کرائے کا نہیں ہو گا ۔ جہاں مجھے ہمیشہ رہنا ہے "
آزاد ھاشمی
Thursday, 22 February 2018
کرائے کا مکان
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment