" ماں نیند نہیں آتی "
قبرستان کی سنسان جگہ پہ ، عام طور پر ایک خوف کی سی علامت ہوتی ہے ۔ رات کا سناٹا اور بھی اس خوف میں اضافہ کرتا ہے ۔ گورکن دو معصوم بچوں کو لئے ہر آنے جانے والے کو روک کر پوچھ رہا تھا کہ کوئی ان معصوموں کے وارثان کو جانتا ہے ۔ وہ بتا رہا تھا ، یہ دونوں بچے دو دن سے ایک قبر کے پاس بیٹھے ہیں ۔ اپنے گھر بار کے بارے میں کچھ نہیں بتاتے ۔
" بیٹا ! قبروں سے ڈر نہیں لگتا "
میرے سوال پہ ننھی سی بچی بولی ۔
" نہیں انکل ، میں نہیں ڈرتی ، یہ میرا بھائی ڈرتا ہے ۔ میں نے اسے بتایا ہے یہاں ہماری ماں ہے قبر میں ۔ اب نہیں ڈرتا ۔ رات کو جب ہم سو جاتے ہیں تو ماں آکر بہت پیار کرتی ہے ۔ "
لگ رہا تھا ، میرا سینہ پھٹ جائے گا ۔
رونا اگر بس میں ہوتا تو شاید میں نہ روتا ۔
" انکل آپ تو بڑے ہیں ، آپ کیوں روتے ہیں ۔ کیا آپ کی ماں بھی مر گئی ہے "
ایک طوفان تھا تو میری آنکھوں سے بہہ نکلا ۔ یہ معصوم کیا جانیں کہ ماں تو اولاد کو کبھی بڑا ہونے ہی نہیں دیتی ۔ اپنی آغوش میں بچوں کیطرح چھپائے رکھتی ہے ۔ ماں کے پاس کب کوئی بڑا ہوا ہے ، بچہ ہی رہتا ہے ۔
" میرے ساتھ چلو ، میرے گھر میں ۔ "
میں نے پیار سے کہا
" نہیں انکل ! ہم نہیں جائیں گے ۔ ہم اپنی ماں کے پاس جائیں گے ۔ اس انکل کو کہیں گے ہمیں بھی ماں کے ساتھ دبا دے "
گورکن کیطرف اشارہ کرتے ہوئے بولے
" بابو جی ! یہ صبح سے یہی ضد کر رہے ہیں ۔ کہ قبر کھودوں اور انکو ماں کے ساتھ دبا دوں "
گور کن بھی رو رہا تھا ۔
" بابو جی ! کل سے ساری مسجدوں میں بھی اعلان کروا چکا ہوں ۔ آخر کوئی تو ہو گا ، کوئی بھائی ، کوئی بہن ، کوئی چچا تایا ، کوئی ماموں کوئی خالہ ۔ مگر کوئی نہیں آیا ۔ میں غریب آدمی ہوں ، کیسے انکی ضروریات پوری کروں گا "
میں سوچ رہا تھا کہ ہمارا معاشرہ اسقدر بے حس بھی ہو سکتا ہے ۔
" بابوجی ! صبح سے بیسیوں لوگوں کو روک چکا ہوں ۔ کوئی ایک لمحے کیلئے بھی پریشان نہیں ہوا ۔ جیسے یہ بچے انسان کے نہیں کسی جانور کے ہیں ۔ لمبی لمبی نمازوں والے نمازیوں سے بھی کسی نے بڑھ کر پیار کا ہاتھ انکے سروں پر نہیں رکھا ۔ "
گورکن نے بچوں کے سر پر ہاتھ رکھا اور انہیں قبرستان کیطرف لیکر چلنے لگا ۔
" نہیں بابا ! میرے ساتھ جانے دو ، میں انکو اپنے بچوں سے زیادہ عزیز رکھوں گا ۔ " سارے پیار کے باوجود نہ انکے آنسو رکتے ہیں اور نہ سوال ۔ کہاں سے لاوں انکے لئے ماں کا پیار ۔
آزاد ھاشمی
Thursday, 22 February 2018
ماں نیند نہیں آتی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment