" سورہ ماعون "
جب بھی قرآن کی کسی آیت ، کسی سورت ، کسی حکم پر غور و فکر کیا جاتا ہے ۔ ہدایت کے کئی در کھلتے ہیں ۔ پتہ نہیں ہمیں قرآن سے دوری کیوں رہی ۔ سورہ ماعون کو فکر کے ساتھ پڑھا جائے تو معاشرت کا ایک نہایت خوبصورت راستہ نظر آئے گا ۔ اللہ فرماتا ہے کہ
“ کیا تو نے اس شخص کو نہیں دیکھا ، جو روز جزا کو جھٹلاتا ہے۔ "
یہ ایک شخص کیطرف اشارہ تو ہے مگر یہ کردار تو ہمارے معاشرے کا عمومی حصہ ہے ۔ جھٹلانا صرف یہی نہیں کہ اس حقیقت سے انکار کر دیا جائے کہ روز جزا و سزا ہوگا ۔ جھٹلانا یہ بھی ہے کہ ہم روز جزا و سزا کو اہمیت ہی نہ دیں ۔ بے لگام ہو کر چلتے رہیں ۔ یہ ایک معاشرتی برائی کا ذکر ہے ۔ جو اب ہمارے معاشرے کا حصہ بن گئی ہے ۔ پھر اللہ سبحانہ تعالی فرماتا ہے ۔
" یہی وہ ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے ، اور محتاج کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا "
یتیم اور محتاج کی ضرویات سے پہلو تہی کرنا ، انکے حقوق جو ہمارے معاشرے پر واجب ہیں ، انکا نہ خود خیال کرنا اور نہ دوسروں کو اس طرف متوجہ کرنا ، اس کار لازم کی طرف رغبت نہ دلانا ، اللہ سبحانہ تعالی کے ہاں ناپسندیدہ شخص کے اعمال ہیں ۔ احتساب کریں کہ ہم میں سے کتنے ہیں جو اس حکم کو پورا کرتے ہیں ۔
پس افسوس (اور خرابی) ہے ایسے نمازیوں کے لیے۔
جو اپنی نماز (کی روح) سے بے خبر ہیں (یعنی انہیں محض حقوق اللہ یاد ہیں اور حقوق العباد بھلا بیٹھے ہیں)۔
وہ لوگ (عبادت میں) دکھاوا کرتے ہیں۔
اور برتنے کی معمولی چیز بھی مانگے نہیں دیتے”۔
Thursday, 1 March 2018
سورہ ماعون
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment