" نبی اور رسول ، سیاست دان نہیں ہوتے "
ہمارے ذہنوں میں ایک غلط فہمی گھر کر چکی ہے ، اور اس غلط فہمی کا اصل محرک وہ دانشور ہیں ، جنہوں نے دین کی ناو کے پتوار بھی پکڑے ہوئے ہیں اور جمہوریت کی ناو پر بھی سوار ہیں ۔ کہتے ہیں
"" مگر یہ لفظ ”سیاست“ وہی ہے جسے آج سے چودہ سو سال پہلے حضرت محمد رسول اللہﷺ نے اختیار کر کے ایک قلیل مدّت میں نہ صرف مظلوم طبقہ کو غربت اور جہالت کی اتھاہ گہراٸیوں سے نکال کر آسمانوں کی بلندیوں تک پہنچایا بلکہ تربیت کے خاص مراحل میں سے گذار کر انتہاٸ عام لوگوں میں قیادت کی ""
سیاست ، صرف اور صرف اقتدار کے حصول کیلئے لڑی جانے والی جائیز یا ناجائز جنگ ہے ۔ جسکے نہ کوئی اصول ہوتے ہیں اور نہ کوئی اخلاقیات ۔ نبوت اور رسالت کا اقتدار کے حصول سے کوئی رشتہ ہوتا ہے اور نہ کوئی ناطہ ۔ نبی اور رسول کا کام گمراہی کو ختم کرنا اور ہدایت کو عام کرنے کے سوا کچھ نہیں ہوتا ۔ اگر سرور کائنات صل اللہ علیہ وسلم کو اقتدار تک پہنچانا مقصود ہوتا تو کفار مکہ نے اوائل نبوت میں ہی کہہ دیا تھا
" اگر آپ کو اقتدار چاہئیے تو ہم آپ کو پورے عرب کی حاکمیت دیتے ہیں "
مسلہ کا حل تو مل گیا تھا ، آپ سیاست سے کام لیتے ، اقتدار لیتے اور پھر قوانین ربی نافذ فرما دیتے ۔ اتنے سارے غزوات اور سرایہ کی کیا ضرورت تھی ۔ رسول اور نبی دو ٹوک ہوتے ہیں ۔ ہر عمل اللہ کے تابع ہوتا ہے ۔ جو حکم ملتا ہے ، اسی پر چلنا ہوتا ہے ۔ قرآن پاک نے پوری وضاحت سے وہ رہنمائی بیان فرما دی ، جو اللہ سبحانہ تعالی سے آپ ؐ کو ملتی رہی ۔ یہ جسے سیاست کہا جا رہا ہے ، اور جسطرح سے صحابہ کی تربیت کی گئی ، سیاست نہیں ، دین کی تشریح ہے ۔ اللہ کا بتایا ہوا راستہ ہے ۔ اللہ تعالی نے جو فرض سونپا اسکی عملی تکمیل ہے ۔
خدا را ! آپ سیاست کو عبادت کہو یا فلاح کا راستہ ، آپکی مرضی ۔۔ نبیوں پر تہمت مت رکھیں ۔
اگر اللہ کے حبیبؐ سیاست کی تربیت دیتے تو حسین ؑ کبھی اپنا پورا خاندان اور جانثاروں کو کربلا میں شہید نہ ہونے دیتے ۔ کربلا کے بعد کوئی ابہام باقی نہیں کہ نبی کے گھر میں سیاست نہ پڑھائی گئی اور نہ سکھائی گئی ۔ ایک ہی سبق ملا ، جو کربلا میں آل نبیؐ نے دھرا دیا ۔
آزاد ھاشمی
Thursday, 1 March 2018
نبی اور رسول سیاستدان نہیں ہوتے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment