" سفارتی معرکے "
سفارتی میدان ، اسوقت کسی ملک کی پلاننگ کا اہم ترین رخ ہے ۔ دانشمندی کا تقاضا ہے کہ اپنی بات کو دلیل سے منوایا جائے ۔ دلیل کیلئے ، علم ، تجربہ اور قوت فیصلہ بہت کلیدی مرحلے ہیں ۔ بھٹو نے اس میدان میں قابل قدر خدمات دیں اور پوری دنیا کا سفارتی میدان اپنے حق میں کر لیا ۔ مگر اس کے ساتھیوں نے ، پارٹی کے موقع پرست لوگوں نے ، سفارتی شعبے میں معیار کو قطعی نظر انداز کر دیا ۔ اور اسوقت کی لگائی ہوئی پنیری پودے بن کر سامنے آئی تو سارا کیا کرایا غارت ہوا ۔ پھر یہ شعبہ پوری طرح سیاسی ہو گیا ۔ جسے نوازنے کی ضرورت پڑی ، سفیر نامزد کیا اور ملک کی نمائندگی کیلئے بھیج دیا ۔ اس رحجان نے کیا گل کھلائے کہ ہم ہر جگہ پر غیر موثر سفارت کاری کا شکار ہوتے گئے ۔ حکمران جاہل تھے ، انہوں نے اس کی اہمیت کو سرے سے کنویں میں ڈال دیا ۔ ہمارے ہاتھ پوری تجارتی منڈیاں بھی نکل گئیں اور ہمارے دوست بھی ہم سے نالاں ہوگئے ۔ ستم ظریفی کی انتہا کہ ہمارے سفیر وطن کے مفادات کے خلاف متحرک رہے ، دو چار دن نہیں سالوں سال ، ملک کی نمائندگی کرنے والا سفیر ملک کے اہم راز امریکہ کی میز پر رکھتا ہے ۔ سفارتی آداب سے انحراف کرتے ہوئے آج امریکہ اسکی پناہ گاہ ہے ۔ اکثر سفارت خانوں پر فوجی ریٹائرڈ جنرل ، تسلسل سے بھیجے جا رہے ہیں ۔ یہ تو معلوم نہیں کہ اس سفارتی پلان کے پیچھے کونسی اہلیت کو سامنے رکھا جاتا ہے ۔ مگر یہ حقیقت ہے ، جن جن ممالک میں بھی فوجی سفیر ہوتے ہیں ، وہاں کی کارکردگی تسلی بخش نہیں ہوتی ۔ اگر یہ کہا جائے کہ سفارتی شعبہ جتنا اہم ہے ، اس پر اس سے کہیں زیادہ غفلت برتی جا رہی ہے ۔
آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ اسلامی ممالک میں بھی بھارت کی سفارتکاری ہم پر سبقت لے گئی ہے ۔ اس میں ایک اہم پہلو " بیک ڈور ڈپلومیسی " کا بھی ہے ۔ ہم پاکستانی جہاں جہاں بھی ہیں ، موثر کمیونٹی نہیں ہیں ۔ ہم ملکی مفادات پر نہ سوچتے ہیں اور نہ ہی کسی مثبت پیش رفت کی تحریک کرتے ہیں ۔ جبکہ سفارتی کارکردگی کو فعال کرنے میں کمیونٹی کا کردار بہت اہم ہوا کرتا ہے ۔
آزاد ھاشمی
Saturday, 17 March 2018
سفارتی معرکے
Friday, 16 March 2018
حکومت ہماری ہو گی
" حکومت ہماری ہو گی "
یہی اصل خرابی ہے اور یہی ہمیں سمجھ نہیں آ رہا ۔ تمام سیاسی جماعتوں کی اصل کشمکش یہی ہے کہ حکومت ہماری ہو ۔ کسی بھی طرح حکمران بن جائیں ۔ یہ وہ آرزو ہے جو اللہ کے بندوں کے دلوں میں نہیں ہوا کرتی ۔ یہ خواہش ہر اس انسان میں جنم لیتی ہے ، جس کا دل اور دماغ قبول ہی نہیں کرتا کہ حکومت اور حکمرانی تو اللہ کی ہے ، اسی کی رہے گی ۔ ہم بھی دین اور ایمان سے کتنے دور نکل گئے ہیں کہ جو لوگ اعلان کرتے ہیں ، یقین دلاتے ہیں یا کوئی امید نظر آتی ہے کہ حکومت انکی باندی بننے والی ہے ۔ اسکے پیچھے بھگ ٹٹ دوڑ لگا دیتے ہیں ۔
دنیا دیکھتی رہی ہے اور تاریخ لکھتی رہی ہے کہ جو حکومت کرنے کا ارمان پورا کرنے کی تگ و دو میں لگ جاتے ہیں ، ان لوگوں کا انجام کبھی اچھا نہیں نکلا ۔ آخر کار رسوائی مقدر ہوئی ہے ۔ ماسوائے ان لوگوں کے جنہوں نے حاکمیت اللہ ہی کی قبول کی ، اسی کی رضا سے امور پورے کئے جو اللہ نے انہیں سونپے ۔ لوگ کیسے اندازہ لگا لیتے ہیں کہ حکمرانی کے اہل ہیں ۔ کیسے حکومت کو اپنا حق سمجھ لیتے ہیں ۔ یہ تو ایک امتحان ہے ، جو اللہ کسی سے بھی لیتا ہے ، اگر امتحان میں ناکامی ہو جائے تو رسوائی بن جاتی ہے ۔ یہ تو خوف کا مقام ہے کہ اللہ نے ذمہ داری دی اور کماحقہ پوری نہ ہو سکی تو نہ یہ دنیا ، نہ وہ دنیا ۔
کیا حکومت کے خواب دیکھنے والوں کیلئے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ انکے اندر ایک حریص انسان ہے ۔ جو اقتدار کیلئے بے چین ہے ۔ ایسے قائدین سے خیر کی امید ، قطعی حماقت ہے ۔ اسی کی نفی اسلام کرتا ہے ۔ اسی لئے موجودہ سیاست اسلام سے بغاوت پر قائم ہے ۔
آزاد ھاشمی
سیاست کے چمتکار
" سیاست کے چمتکار "
سیاست کے شعور اور جنون نے ایک کام ضرور کیا ہے کہ عقل و شعور سے نوازے ہوئے لوگوں ، اور سوٹ بوٹ پہنے جاہلوں کو الگ الگ کردیا ۔ عقل و شعور والے خاموشی سے گھر کی دیواروں میں دبک گئے ۔ جن کا معاشرے میں تناسب دو تہائی ہے ۔ ایک تہائی لوگوں نے قوم کی خدمت کے نام پر وہ بے ہنگم اور اخلاق باختہ ماحول پیدا کر دیا ہے ۔ جس نے ہر شہری کا سکون غارت کر رکھا ہے ۔ ایک شخص جو وضع قطع ، رہن سہن اور لباس سے مہذب لگتا ہے ۔ جن کو ہم اشرافیہ کی فہرست میں بٹھائے ہوئے ہیں ۔ جب بولنے لگتا ہے تو کوئی شک باقی نہیں رہ جاتا کہ وہ شخص کتنا ننگا اور کتنا گندہ ہے ۔ بیشتر ایسے ہیں ، جو اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے اس وطن کو مناسب نہیں سمجھتے ۔ اپنے سرمائے کو یہاں محفوظ نہیں مانتے ۔ اپنی سرمایہ کاری دوسرے ممالک میں کرکے وہاں کی ترقی پر جان فدا کرتے ہیں ۔ اپنے وطن کی شہریت پر دوسرے وطن کو ترجیح دیتے ہیں ۔ بےحیائی کی حد ہے کہ سیاست میں اپنے وطن سے زیادہ کوئی اور دکھ نہیں رکھتے ۔ منافقت کی حد ہے کہ جس مٹی نے انکو شخصیت دی ، وقار دیا ، احترام بخشا ، اسی مٹی سے بیوفائی انکی سرشت میں شامل ہے ۔ ایک شخص جو ملک کے ترقیاتی کاموں پر کمیش لے لے کر اپنی تجوریاں بھر لیتا ہے ۔ سیاست میں اسکے پیرو کار اسے برائی ہی نہیں مانتے ۔ مذہب کے نام پر قوم سے سیاست کا کاروبار جاری ہے ۔ اسلام ارتکاز دولت کی نفی کرتا ہے اور یہ سیاسی ملا اسی دولت کی ریل پیل میں ہیں ۔ جب کوئی جھوٹ پکڑ لیا جائے تو اسے سیاسی داو و پیچ کہہ کر جھوٹا خود کو سچا ثابت کر لیتا ہے ۔
سیاست ایک ایسی بساط ہے ، جسے صرف وہی کھیل سکتا ہے جس میں مکاری کوٹ کوٹ کر بھری ہو ۔ حد تو یہ ہے کہ کچھ ناہنجار سیاسی دیوانے ، بڑی ڈھٹائی سے کہنے لگے ہیں کہ اللہ کی حبیبؐ نے بھی سیاسی حکمرانی کی بنیاد رکھی ہے ۔
سیاست ہی کا چمتکار ہے کہ کردار سے عاری ہر شخص کسی نہ کسی طرح اس سیاسی کھیل سے جڑا بیٹھا ہے ۔
آزاد ھاشمی
جرم اور مجرم
" جرم اور مجرم "
یہ جانے بغیر کہ جرم کو روکنا مقصود ہے یا مجرم کو سزا دینا عدل ہے ؟ عدل کا تعین ممکن ہی نہیں ۔ جرم کی نشاندھی اول ہے اور مجرم کی گرفت ثانوی ۔ جب جرم کی نوعیت طے کر لی جائے تو اگلا قدم مجرم کی گرفت اور اس پر سزا کا اطلاق رہ جاتا ہے ۔ یہ تینوں مرحلے من و عن طے ہو جائیں تو عدل کہا جائے گا ۔ پھر یہ تعین کہ جرم کی اس تشریح کے تحت کون کون مجرم ہے ، سب کے ساتھ ایک جیسا رویہ اختیار کرنا عدل کہلائے گا ۔ کیونکہ مقصود جرم کا خاتمہ ہے ۔ ہر جرم چھوت کی بیماری کیطرح ہے کہ اگر اس کو نہ روکا جائے اور مناسب علاج نہ ہو تو بیماری نہیں رکے گی ۔ کسی ایک مریض کا علاج کافی نہیں ہو گا ۔ ہمارے وطن کا المیہ یہ ہے کہ ہمارے وہ لوگ جرم کی اعانت کرتے ہیں ، جن کی ذمہ داری جرم کو روکنا ہے ۔ اور وہ لوگ جرم کرتے ہیں جو اقتدار کی کرسی پر براجمان ہوتے ہیں ۔ رشوت ایک ایسی بیماری ہے ، جو ہر جرم کو پھیلاتی ہے اور یہ بیماری ہر اس اہلکار کو لاحق ہے ، جو عوامی مسائل کے حل پر بیٹھا ہے ۔ ستم ظریفی یہ بھی ہے یہ تمام افسران ، انہی مجرموں کی آشیرباد سے کلیدی عہدوں پر بیٹھے ہیں ۔ کافی عرصے سے ایک رسی ملک کے سابق وزیراعظم کے گلے پر کسی جارہی ہے ۔ خوش آئیند ہے مگر جو جرم اس وزیراعظم نے کیا ہے ، وہ جرم تو بہت سارے دوسرے حکمران بھی کرتے رہے ہیں ۔ بہت سے جج بھی اسی جرم کے مرتکب ہیں ۔ فوج کے کئی جنرل بھی اسی گنگا میں ہاتھ دھو چکے ہیں ۔ ہزاروں سیاستدان ملک کو لوٹ لوٹ کر اربوں کی اثاثے بیرون ملک بنا چکے ہیں ۔ عدل تو تب نظر آئے گا ، جب تمام معاونین جرم کو بھی قطار میں لگا دیا جائے گا ۔ وگرنہ عدل سے بھونڈے مذاق کے علاوہ کچھ بھی نہیں ۔ کون جانے کہ عدل کی شمع کے نیچے کتنا گھمبیر اندھیرا ہے ۔ کون جانے سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ۔ عدل تو برائی کو جڑ سے کاٹنے پر عدل کہلائے گا ۔ چند شاخیں کاٹ بھی دی گئیں تو نئی اگ آئیں گی ۔
ایک حقیقت کو ، جسے ہم اکثر فراموش کرتے ہیں ، ماننا ہوگا کہ عدل میں عوام کا کردار بہت اہم ہوتا ہے ۔ جرم کو محسوس کرنا اور مجرم کو عدل کے تختے تک لے جانے میں عوام کا کردار بہت اہم ہے ۔ یہ ایک ایسی کمزوری ہے جس کیوجہ سے ہم کبھی عدل کا حصول کر ہی نہیں سکے ۔
آزاد ھاشمی
یہ ہماری تہذیب نہیں
" یہ ہماری تہذیب نہیں "
سیاسی مخالفت ، نظریات کی جنگ ، اچھائی کی تلاش میں برائی سے جھگڑا ، با شعور لوگوں کی روایت رہی ہے ۔ مگر سب تہذیب کے دائرے میں ۔ کسی پر جوتا اچھال دینا ، کسی کے چہرے پر کالک مل دینا یا کسی کی کردار کشی میں اسکی عزت پامال کرنے کے حربے کرنا ، کسی کے عیب تلاش کرنا اور کردار کی کمزوریوں کو اشتہار بنا دینا ۔ کسی بھی معاشرے کی بدترین اخلاقی پستی کا ثبوت ہے ۔ ہمارے حکمرانوں نے قوم اور وطن کے ساتھ جو بھی کیا ، وہ تاج پہنانے کے لائق تو نہیں ۔ نفرت اور سرزنش کرنے کے لائق ہے ۔ مگر اسکی ایک حد ہے ۔ اور اسکا بہترین حل یہ ہے کہ ان سے تعلق توڑ دیا جائے ۔ انکو عام شہری کی حیثیت میں لے آیا جائے ۔ انکی راہ روکنے کی وہ جدوجہد کی جائے جو اخلاق اور تہذیب کے دائرے میں ہو ۔ جب اللہ کسی کے مقدر میں رسوائی لکھ دیتا ، تو وہ خود اپنی رسوائی کے سامان تلاش کرتا ہے ۔ اپنے ہاتھوں سے ذلت کی خاک اپنے سر پہ ڈالتا ہے ۔ مجھے اور آپ کو اسکا اہتمام کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی ۔
یہ حکمران ، جن کو آج ہمارے جذباتی لوگ جوتے مارنے پر اتر آئے ہیں ۔ انکو تیس پینتیس سال سر پہ کس نے بٹھائے رکھا ؟ یہ جو بھی کرتے رہے ، کیا یہ اکیلے تھے ؟ کیا ہمارے تمام سیاستدان انکے ساتھ نہیں تھے ؟ وطن کے تحفظ کے ذمہ دار انکے ساتھ نہیں تھے ؟ کیا اس نظام کی برائی نہیں تھی ، جس کو ہم نے ایمان بنا لیا ؟ کیا مذہب کے مبلغین انکے ساتھ نہیں دیتے رہے ؟
آج انکو جوتے مارنے سے اپنی غلطیوں کا حساب تو نہیں چکایا جائے گا ۔ مثبت سوچ کے ساتھ اپنی راہ کا تعین کرنا ہو گا ۔ وگرنہ سیاہی پھینک دینا ، جوتا لہرا دینا ، کسی کی بہو بیٹی پر آوازے کس دینا اور کردار کشی کے حربے تلاش کرتے رہنا ، فساد کی راہ کھول دے گا ۔
ہم مسلمان ، جس مذہب کو مانتے ہیں ، اس مذہب کی یہ تعلیم نہیں ہے ۔
آزاد ھاشمی
یہ تشدد کی راہ کیوں ؟
" یہ تشدد کی راہ کیوں ؟ "
اللہ سبحانہ تعالی کے ہر حکم سے فرار کی راہ تلاش کرتے کرتے ، ہم اس مقام پر پہنچ گئے ہیں ۔ کہ ہمیں زندہ رہنے کی کوئی بھی پرسکون اور پرامن راہ نظر ہی نہیں آرہی ۔ ملک کی اشرافیہ پر غم و غصے کا لاوا ایک عرصے سے کھول رہا تھا ۔ ایک غریب کا جینا دوبھر ہوگیا ، دو سیکنڈ میں غریب کی لے دے کردینا ، اشرافیہ اپنی شان سمجھنے لگی ۔ ایک ہی طرح کے گوشت پوست کے لوگ ، الگ الگ ہو کر بیٹھنے لگے ، الگ الگ ہو کر سوچنے لگے ۔ طاقتور نے کمزور کو اپنی رکھیل بنا لیا ۔ ایک زمیندار اپنے ہاری کو غلام سے بھی بدتر سمجھنے لگا ۔ یہاں تک تو برداشت کی حد تھی ۔
غریب کیسا بھی ہو ، ایمان کی حد تک ہمیشہ با کردار اور مضبوط ہوتا ہے ۔ اسی ایمان کی طاقت پر وہ زندہ رہتا ہے ۔ ایمان اسکی امید اور ڈھارس ہوتا ہے ۔ اشرافیہ نے اسکے ایمان کو چھیڑ دیا ۔ اسکے تصور کا تیا پانچا کرنا شروع کر دیا ۔ یہ وہ موڑ ہے ، جس نے تشدد کی راہ کھول دی ۔ سیاسی قائدین کی عزت کا بھرم ریزہ ریزہ ہو گیا ۔ غریب کے ذہن میں پوری طرح بیٹھ گیا کہ یہ لوگ بد ترین مخلوق ہیں ۔ اب یہ جوتے اچھالنا ، چہروں کو کالا کرنا ، تھپڑ مارنا ایک رد عمل ہے ۔ ان احساسات کا جو غریب سینے میں دبائے بیٹھا تھا ۔ اللہ کی عظمت اور رسول اللہ کی محبت سے جڑے لوگ ، ان لیڈروں میں چھپی شیطنت کو پہچاننے لگے ہیں ۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں نہ موت کا خوف باقی رہتا ہے اور نہ کسی مصیبت سے ڈر لگتا ہے ۔
حل یہ نہیں کہ ایسے لوگوں کو دبانے کی کوشش کی جائے ۔ دھونس اور زور آوری کا تاثر قائم رکھا جائے ۔ یہ بھی اچھی طرح سمجھ لینا چاہئیے کہ اللہ کیطرف سے ذلت ملنا شروع ہو گئی ہے ۔ حل یہ ہے کہ جس رب کائنات نے اقتدار دیا تھا ، اسکی رضا کے مطابق عمل شروع کر دیا جائے ۔ توبہ کا دروازہ کھلا ہے ، اسطرف لوٹ جائیں ۔ وگرنہ ذلت تو فرعون کی لاش پر دیکھی جاسکتی ہے ۔ ان چھوٹے چھوٹے سیاستدانوں کو کبھی نہیں بھولنا چاہئیے کہ ایمان کے فدائیوں کا قہر بہت سخت ہوتا ہے ۔ جس کے پیچھے لگ جائیں انہیں کوئی پناہ گاہ نہیں ملتی ۔ ایمان سے مت کھیلیں ۔ سیاست قواعد و ضوابط کے مطابق کریں ۔ ابھی اللہ کی پکڑ کا آغاز ہے ، انجام بہت بھیانک ہوتا ہے ۔
آزاد ھاشمی
اپنی اپنی فلاح کا سوچو
" اپنی اپنی فلاح کا سوچو "
اللہ سبحانہ تعالی نے انسان کی تخلیق بطور اشرف المخلوقات فرمائی ۔ انسان کی تخلیق کے ساتھ ہی شیطان نے اپنے داو پیچ سے انسان کو پستی کیطرف مائل کرنے کا ہر جتن آزما رکھا ہے ۔ اس ساری ترغیبات میں ایک ترغیب مادیت کا جائز یا ناجائز حصول ہے ۔ جب مادیت ہاتھ لگ جاتی ہے تو طاقت کا زعم ستانے لگتا ہے ۔ اللہ سبحانہ تعالی کی عطا کردہ نعمتیں اپنی قابلیت کا ثمر لگنے لگتی ہیں ۔ برائی کی رنگینیوں تک رسائی آسان سے آسان ہوتی جاتی ہے ۔ اور یہی اشرف المخلوقات غلیظ ترین جانوروں سے بھی بد تر افعال میں گھس جاتی ہے ۔ حلال حرام ، نیکی بدی اور حق و باطل کی تمیز ختم ہو جاتی ہے ۔ شہوت اور خود نمائی غلبہ پا لیتی ہے ۔
انسان اس لگن میں جت جاتا ہے ، کہ کیسے دوسرے انسانوں کو زیر کرکے غلامی لی جائے ۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کی راہ " سیاست " ہے ۔ کبھی دھونس دھمکی ، کبھی لالچ اور فریب ، کبھی دروغ گوئی اور کبھی جبر کا سہارا لیکر حکمرانی کا حصول زندگی کا مقصد بن جاتا ہے ۔ یہ وہ سب ہے جو عام انسان کو فرعون بنا دیتا ہے اور خدائی کے دعوے پر مجبور کرتا ہے ۔ کبھی نمرود بنا دیتا ہے کہ حق کی بات کرنے والے کو آگ میں جھونکنے تک نوبت آ جاتی ہے ۔ کبھی یزید بنا دیتا کہ مخالف کی نسل کشی کرنے کی جسارت کر دی جاتی ہے ۔
ان سب کرداروں کی طاقت کیا تھی ۔ بے شعور حمایتی ، خوفزدہ انسان ، کچھ ٹکڑوں کے حریص بندے ۔ آج بھی یہی کچھ ہے ۔ کسی بھی سیاستدان کی طاقت نا سمجھ اور احمق لوگ ہیں ۔ اللہ سبحانہ تعالی کے احکامات سے بے خبر لوگ ، ان اقتدار کے بھوکے جانوروں کی طاقت بنے بیٹھے ہیں ۔ کیا اچھا ہو ، جو جتن ہم ان دنیا پرستوں کیلئے کر رہے ہیں ، وہ جتن اپنی اپنی عاقبت کیلئے کریں ، اپنی اپنی فلاح کیلئے کریں ۔ بلا شبہ یہی اصل مقصد ہے ، یہی سیدھا راستہ ہے اور یہی درست منزل ہے ۔ زندگی کے چند دنوں کے بعد ، یہی فلاح کا راستہ کام آئے گا ۔
آزاد ھاشمی
نظریہ ، منشور اور پارٹیاں
" نظریہ ، منشور اور پارٹیاں "
میڈیا ، دانشور ، سیاسی مفکر اور علم و بصیرت والوں کے درمیان ایک بحث بہت زور پکڑ چکی ہے ۔ کہ سیاسی پارٹیوں کے کرتا دھرتا ، ایک دوسرے سے سیاسی رشتہ داریاں تبدیل کرتے ہیں ۔ کچھ لوگوں کے نزدیک یہی سیاست ہے ، کچھ لوگ اسے منافقت کہتے ہیں اور کچھ لوگوں کی نظر میں ، یہ مصلحت ہے ، ضرورت ہے ۔
آئیے ، دیکھتے ہیں کہ نظریہ کیا ہے ، منشور کیا ہے ؟
کسی بھی سیاسی تنظیم ، تحریک اور جماعت کے سامنے ایک پروگرام ہوتا ہے ، جسے وہ پورا کرنا چاہتی ہے ۔ ہر پارٹی اس بات پر وجود میں آتی ہے کہ جو کچھ کرنا چاہئیے تھا ، دوسری پارٹیاں نہیں کر رہیں ۔ یا نہیں کرنا چاہتیں ۔ اس خیال کو نظرئیے اور منشور کی بنیاد بنایا جاتا ہے ۔ ہماری سیاسی پارٹیاں ، اپنے اپنے منشور ترتیب دیتی ہیں ، اور اکثر اوقات ایک دوسرے سے سودے بازی کرتی ہیں ۔ جسکی ایک اصطلاح " سیٹ ایڈجسٹمنٹ " اور دوسری اصطلاح " سیاسی مفاہمت " کہلاتی ہے ۔ ہر ذی شعور شہری واقف ہے کہ کبھی پی پی پی اور مسلم لیگ ایک ہی تھالی میں مفادات کی ضیافتیں اڑاتے ہیں اور کبھی ایک دوسرے کو بد ترین دشمن ظاہر کرتے ہیں ۔ یہی حال جماعت اسلامی کا ہے ، کہ انکا پکا نعرہ اسلامی نظام کے نفاذ کی جدوجہد ہے اور وہ انکے گلے میں بانہیں ڈالے بیٹھے ہوتے ہیں ، جو سراسر سیکولر نظام کی تگ و دو میں ہلکان ہو رہے ہیں ۔ پی ٹی آئی کی نظر میں کرپشن ، نا انصافی اور ملک کی دولت لوٹی جا رہی ہے ، اور ان لٹیروں سے مفاہمت کر لی جاتی یے ، جن کی بیخ کنی مقصود تھی ۔
آخر یہ سب ، کونسا نظریہ ہے ، کونسا منشور ہے ، کونسی سیاست ہے ۔ کیا اس ساری مفاہمتوں کا نتیجہ صرف قوم کو بیوقوف بنانا نہیں ؟
جس برائی کی جڑ کو اکھاڑنا مقصود تھا ، جب وہ سوکھنے لگتی ہے تو اسے سیراب کر دیا جاتا ہے ۔ پھر اسے تناور کرنے کے جتن شروع ہو جاتے ہیں ۔ یہ معرکہ کوئی ایک سرانجام نہیں دے رہا ۔ سب کے سب یہی کچھ کرتے نظر آتے ہیں ۔ ادھر پوری قوم اپنے اپنے قائدین کے قصیدے گائے جا رہی ہے ۔ بن سوچے بن سمجھے امید لگائے بیٹھے ہیں کہ سیاست کی بچھی ہوئی پوری بساط منافقت ہے اور اس پر بیٹھے سب کھلاڑی ایک جیسے منافق ہیں ۔ قوم کو کیا ملے گا ، ان نظریات سے ، ان منشوروں سے اور ان سیاسی مداریوں سے ۔
آزاد ھاشمی