" سیاست کے چمتکار "
سیاست کے شعور اور جنون نے ایک کام ضرور کیا ہے کہ عقل و شعور سے نوازے ہوئے لوگوں ، اور سوٹ بوٹ پہنے جاہلوں کو الگ الگ کردیا ۔ عقل و شعور والے خاموشی سے گھر کی دیواروں میں دبک گئے ۔ جن کا معاشرے میں تناسب دو تہائی ہے ۔ ایک تہائی لوگوں نے قوم کی خدمت کے نام پر وہ بے ہنگم اور اخلاق باختہ ماحول پیدا کر دیا ہے ۔ جس نے ہر شہری کا سکون غارت کر رکھا ہے ۔ ایک شخص جو وضع قطع ، رہن سہن اور لباس سے مہذب لگتا ہے ۔ جن کو ہم اشرافیہ کی فہرست میں بٹھائے ہوئے ہیں ۔ جب بولنے لگتا ہے تو کوئی شک باقی نہیں رہ جاتا کہ وہ شخص کتنا ننگا اور کتنا گندہ ہے ۔ بیشتر ایسے ہیں ، جو اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے اس وطن کو مناسب نہیں سمجھتے ۔ اپنے سرمائے کو یہاں محفوظ نہیں مانتے ۔ اپنی سرمایہ کاری دوسرے ممالک میں کرکے وہاں کی ترقی پر جان فدا کرتے ہیں ۔ اپنے وطن کی شہریت پر دوسرے وطن کو ترجیح دیتے ہیں ۔ بےحیائی کی حد ہے کہ سیاست میں اپنے وطن سے زیادہ کوئی اور دکھ نہیں رکھتے ۔ منافقت کی حد ہے کہ جس مٹی نے انکو شخصیت دی ، وقار دیا ، احترام بخشا ، اسی مٹی سے بیوفائی انکی سرشت میں شامل ہے ۔ ایک شخص جو ملک کے ترقیاتی کاموں پر کمیش لے لے کر اپنی تجوریاں بھر لیتا ہے ۔ سیاست میں اسکے پیرو کار اسے برائی ہی نہیں مانتے ۔ مذہب کے نام پر قوم سے سیاست کا کاروبار جاری ہے ۔ اسلام ارتکاز دولت کی نفی کرتا ہے اور یہ سیاسی ملا اسی دولت کی ریل پیل میں ہیں ۔ جب کوئی جھوٹ پکڑ لیا جائے تو اسے سیاسی داو و پیچ کہہ کر جھوٹا خود کو سچا ثابت کر لیتا ہے ۔
سیاست ایک ایسی بساط ہے ، جسے صرف وہی کھیل سکتا ہے جس میں مکاری کوٹ کوٹ کر بھری ہو ۔ حد تو یہ ہے کہ کچھ ناہنجار سیاسی دیوانے ، بڑی ڈھٹائی سے کہنے لگے ہیں کہ اللہ کی حبیبؐ نے بھی سیاسی حکمرانی کی بنیاد رکھی ہے ۔
سیاست ہی کا چمتکار ہے کہ کردار سے عاری ہر شخص کسی نہ کسی طرح اس سیاسی کھیل سے جڑا بیٹھا ہے ۔
آزاد ھاشمی
Friday, 16 March 2018
سیاست کے چمتکار
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment