" نظریہ ، منشور اور پارٹیاں "
میڈیا ، دانشور ، سیاسی مفکر اور علم و بصیرت والوں کے درمیان ایک بحث بہت زور پکڑ چکی ہے ۔ کہ سیاسی پارٹیوں کے کرتا دھرتا ، ایک دوسرے سے سیاسی رشتہ داریاں تبدیل کرتے ہیں ۔ کچھ لوگوں کے نزدیک یہی سیاست ہے ، کچھ لوگ اسے منافقت کہتے ہیں اور کچھ لوگوں کی نظر میں ، یہ مصلحت ہے ، ضرورت ہے ۔
آئیے ، دیکھتے ہیں کہ نظریہ کیا ہے ، منشور کیا ہے ؟
کسی بھی سیاسی تنظیم ، تحریک اور جماعت کے سامنے ایک پروگرام ہوتا ہے ، جسے وہ پورا کرنا چاہتی ہے ۔ ہر پارٹی اس بات پر وجود میں آتی ہے کہ جو کچھ کرنا چاہئیے تھا ، دوسری پارٹیاں نہیں کر رہیں ۔ یا نہیں کرنا چاہتیں ۔ اس خیال کو نظرئیے اور منشور کی بنیاد بنایا جاتا ہے ۔ ہماری سیاسی پارٹیاں ، اپنے اپنے منشور ترتیب دیتی ہیں ، اور اکثر اوقات ایک دوسرے سے سودے بازی کرتی ہیں ۔ جسکی ایک اصطلاح " سیٹ ایڈجسٹمنٹ " اور دوسری اصطلاح " سیاسی مفاہمت " کہلاتی ہے ۔ ہر ذی شعور شہری واقف ہے کہ کبھی پی پی پی اور مسلم لیگ ایک ہی تھالی میں مفادات کی ضیافتیں اڑاتے ہیں اور کبھی ایک دوسرے کو بد ترین دشمن ظاہر کرتے ہیں ۔ یہی حال جماعت اسلامی کا ہے ، کہ انکا پکا نعرہ اسلامی نظام کے نفاذ کی جدوجہد ہے اور وہ انکے گلے میں بانہیں ڈالے بیٹھے ہوتے ہیں ، جو سراسر سیکولر نظام کی تگ و دو میں ہلکان ہو رہے ہیں ۔ پی ٹی آئی کی نظر میں کرپشن ، نا انصافی اور ملک کی دولت لوٹی جا رہی ہے ، اور ان لٹیروں سے مفاہمت کر لی جاتی یے ، جن کی بیخ کنی مقصود تھی ۔
آخر یہ سب ، کونسا نظریہ ہے ، کونسا منشور ہے ، کونسی سیاست ہے ۔ کیا اس ساری مفاہمتوں کا نتیجہ صرف قوم کو بیوقوف بنانا نہیں ؟
جس برائی کی جڑ کو اکھاڑنا مقصود تھا ، جب وہ سوکھنے لگتی ہے تو اسے سیراب کر دیا جاتا ہے ۔ پھر اسے تناور کرنے کے جتن شروع ہو جاتے ہیں ۔ یہ معرکہ کوئی ایک سرانجام نہیں دے رہا ۔ سب کے سب یہی کچھ کرتے نظر آتے ہیں ۔ ادھر پوری قوم اپنے اپنے قائدین کے قصیدے گائے جا رہی ہے ۔ بن سوچے بن سمجھے امید لگائے بیٹھے ہیں کہ سیاست کی بچھی ہوئی پوری بساط منافقت ہے اور اس پر بیٹھے سب کھلاڑی ایک جیسے منافق ہیں ۔ قوم کو کیا ملے گا ، ان نظریات سے ، ان منشوروں سے اور ان سیاسی مداریوں سے ۔
آزاد ھاشمی
Friday, 16 March 2018
نظریہ ، منشور اور پارٹیاں
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment