" حکومت ہماری ہو گی "
یہی اصل خرابی ہے اور یہی ہمیں سمجھ نہیں آ رہا ۔ تمام سیاسی جماعتوں کی اصل کشمکش یہی ہے کہ حکومت ہماری ہو ۔ کسی بھی طرح حکمران بن جائیں ۔ یہ وہ آرزو ہے جو اللہ کے بندوں کے دلوں میں نہیں ہوا کرتی ۔ یہ خواہش ہر اس انسان میں جنم لیتی ہے ، جس کا دل اور دماغ قبول ہی نہیں کرتا کہ حکومت اور حکمرانی تو اللہ کی ہے ، اسی کی رہے گی ۔ ہم بھی دین اور ایمان سے کتنے دور نکل گئے ہیں کہ جو لوگ اعلان کرتے ہیں ، یقین دلاتے ہیں یا کوئی امید نظر آتی ہے کہ حکومت انکی باندی بننے والی ہے ۔ اسکے پیچھے بھگ ٹٹ دوڑ لگا دیتے ہیں ۔
دنیا دیکھتی رہی ہے اور تاریخ لکھتی رہی ہے کہ جو حکومت کرنے کا ارمان پورا کرنے کی تگ و دو میں لگ جاتے ہیں ، ان لوگوں کا انجام کبھی اچھا نہیں نکلا ۔ آخر کار رسوائی مقدر ہوئی ہے ۔ ماسوائے ان لوگوں کے جنہوں نے حاکمیت اللہ ہی کی قبول کی ، اسی کی رضا سے امور پورے کئے جو اللہ نے انہیں سونپے ۔ لوگ کیسے اندازہ لگا لیتے ہیں کہ حکمرانی کے اہل ہیں ۔ کیسے حکومت کو اپنا حق سمجھ لیتے ہیں ۔ یہ تو ایک امتحان ہے ، جو اللہ کسی سے بھی لیتا ہے ، اگر امتحان میں ناکامی ہو جائے تو رسوائی بن جاتی ہے ۔ یہ تو خوف کا مقام ہے کہ اللہ نے ذمہ داری دی اور کماحقہ پوری نہ ہو سکی تو نہ یہ دنیا ، نہ وہ دنیا ۔
کیا حکومت کے خواب دیکھنے والوں کیلئے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ انکے اندر ایک حریص انسان ہے ۔ جو اقتدار کیلئے بے چین ہے ۔ ایسے قائدین سے خیر کی امید ، قطعی حماقت ہے ۔ اسی کی نفی اسلام کرتا ہے ۔ اسی لئے موجودہ سیاست اسلام سے بغاوت پر قائم ہے ۔
آزاد ھاشمی
Friday, 16 March 2018
حکومت ہماری ہو گی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment