Friday, 16 March 2018

اپنی اپنی فلاح کا سوچو

" اپنی اپنی فلاح کا سوچو "
اللہ سبحانہ تعالی نے انسان کی تخلیق بطور اشرف المخلوقات فرمائی ۔ انسان کی تخلیق کے ساتھ ہی شیطان نے اپنے داو پیچ سے انسان کو پستی کیطرف مائل کرنے کا ہر جتن آزما رکھا ہے ۔ اس ساری ترغیبات میں ایک ترغیب مادیت کا جائز یا ناجائز حصول ہے ۔ جب مادیت ہاتھ لگ جاتی ہے تو طاقت کا زعم ستانے لگتا ہے ۔ اللہ سبحانہ تعالی کی عطا کردہ نعمتیں اپنی قابلیت کا ثمر لگنے لگتی ہیں ۔ برائی کی رنگینیوں تک رسائی آسان سے آسان ہوتی جاتی ہے ۔ اور یہی اشرف المخلوقات غلیظ ترین جانوروں سے بھی بد تر افعال میں گھس جاتی ہے ۔ حلال حرام ، نیکی بدی اور حق و باطل کی تمیز ختم ہو جاتی ہے ۔ شہوت اور خود نمائی غلبہ پا لیتی ہے ۔
انسان اس لگن میں جت جاتا ہے ، کہ کیسے دوسرے انسانوں کو زیر کرکے غلامی لی جائے ۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کی راہ " سیاست  " ہے ۔ کبھی دھونس دھمکی ، کبھی لالچ اور فریب ، کبھی دروغ گوئی اور کبھی جبر کا سہارا لیکر حکمرانی کا حصول زندگی کا مقصد بن جاتا ہے ۔ یہ وہ سب ہے جو عام انسان کو فرعون بنا دیتا ہے اور خدائی کے دعوے پر مجبور کرتا ہے ۔ کبھی نمرود بنا دیتا ہے کہ حق کی بات کرنے والے کو آگ میں جھونکنے تک نوبت آ جاتی ہے ۔ کبھی یزید بنا دیتا کہ مخالف کی نسل کشی کرنے کی جسارت کر دی جاتی ہے ۔
ان سب کرداروں کی طاقت کیا تھی ۔ بے شعور حمایتی ، خوفزدہ انسان ، کچھ ٹکڑوں کے حریص بندے ۔ آج بھی یہی کچھ ہے ۔ کسی بھی سیاستدان کی طاقت نا سمجھ اور احمق لوگ ہیں ۔ اللہ سبحانہ تعالی کے احکامات سے بے خبر لوگ ، ان اقتدار کے بھوکے جانوروں کی طاقت بنے بیٹھے ہیں ۔ کیا اچھا ہو ، جو جتن ہم ان دنیا پرستوں کیلئے کر رہے ہیں ، وہ جتن اپنی اپنی عاقبت کیلئے کریں ، اپنی اپنی فلاح کیلئے کریں ۔ بلا شبہ یہی اصل مقصد ہے ، یہی سیدھا راستہ ہے اور یہی درست منزل ہے ۔ زندگی کے چند دنوں کے بعد ، یہی فلاح کا راستہ کام آئے گا ۔
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment